علمِ نجوم: حقیقت یا افسانہ

محمد اطیب اسلم  منگل 23 جولائ 2019
نہ کوئی آپ کو قسمت کا حال بتا سکتا ہے اور نہ آپ کی قسمت بدل سکتا ہے۔  (فوٹو: انٹرنیٹ)

نہ کوئی آپ کو قسمت کا حال بتا سکتا ہے اور نہ آپ کی قسمت بدل سکتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

بات سائنس کے مختلف موضوعات سے شروع ہوئی اور ٹیکنالوجی کی نت نئی ایجادات و اختراعات سے ہوتی ہوئی آسٹرولوجی اور آسٹرانومی پر آکر رک گئی۔ یہ سائنس کے طلبا کی ایک تقریب تھی۔ رنگارنگ لوگ تھے، ایک سے بڑھ کر ایک۔ لیکن الیکٹریکل انجینئیرز سے لے کر کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی کے ماہرین تک ہر شخص کسی نہ کسی ’’ستارے‘‘ سے منسلک تھا (ستارے سے میری مراد آسمان والے ستارے ہی ہیں)، ہر ایک کا کسی ستارے سے تعلق تھا اور ہر شخص کی تقدیر کا دھاگہ کسی نہ کسی آسمانی ستارے کی گردش اور حرکت سے جڑا ہوا تھا۔

ان میں سے کوئی اسکارپین تھا تو کوئی کیپری کارن، کوئی ایریز تھا تو کوئی لیو۔ صرف میں واحد ان میں ایسا تھا، جو خالص زمینی تھا، جس کی کسی ستارے سے کوئی واقفیت نہیں تھی، نہ ہی کسی ستارے نے کبھی ناراض ہوکر میرے لیے مشکل کھڑی کی تھی، نہ ہی آج تک کسی ستارے کی گردش میں ردوبدل سے کبھی مجھ پر انعامات کی بارش ہوئی تھی۔ غالباً اس کی قوی وجہ یہ تھی کہ بچپن سے ہی ذہنوں میں یہی ڈالا گیا تھا کہ قسمت اور تقدیر کے معاملات صرف ہمارا رب طے کرتا ہے۔ لیکن اب جو اتنے پڑھے لکھے لوگوں سے یہ معاملہ سنا تو قیاس ہوا کہ ہوسکتا ہے رب نے کچھ نہ کچھ ذمے داری اس معاملے میں ستاروں کی بھی لگادی ہو۔

اکثر لوگ تو اپنے تعارف میں نام کے ساتھ ساتھ ستارہ بھی بتاتے ہیں۔ غالباً اس کی وجہ سے مجھ جیسے معصوموں پر رعب پڑجاتا ہوگا۔ بہرحال، سائنس کا ایک ادنیٰ طالبِعلم ہونے کی حیثیت سے ہم نے اس پر تحقیق شروع کی تو احساس ہوا کہ علمِ نجوم (کہ جسے علم لکھتے ہوئے بھی دل دکھتا ہے) معاشرے میں سلو پوائزن کی طرح سرائیت کرچکا ہے۔ اور تو اور، بڑے بڑے محقق، نامی گرامی لوگ اس سلو پوائزن کا شکار ہیں اور یہ ہمارے عقائد و نظریات بالخصوص مذہبی نظریات کو گھِن کی طرح چاٹ رہا ہے۔

آپ علمِ نجوم کی تفصیلات میں جائیں تو اندازہ ہوگا کہ اس کے ماننے والوں کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ سورج، چاند اور ستارے ہم پر حاکم ہیں اور دنیا کے ہر فرد کی تقدیر کو کنٹرول کیے ہوئے ہیں۔ ہمارے نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ ان کی حرکات و سکنات میں ردوبدل سے ہمارے کاروبار، نوکریاں، صحت پر اثر پڑتا ہے۔ یہ چاہیں تو ہماری قسمت بگاڑ دیں اور چاہیں تو سنوار دیں۔ علمِ نجوم کو لے کر چلنے والے Astrologist نجومی یا جوتشی کہلاتے ہیں اور انسانی اعمال، کردار اور قسمت کو ستاروں کی چال سے جوڑتے نظر آتے ہیں۔

آپ اس عقیدے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ یہ عقیدہ عیسائیت اور ہندومت میں اس طرح سرائیت کرگیا کہ اس کا عکس انگریزی اور ہندومت کے دنوں کے ناموں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ انگریزی زبان میں اتوار کو سنڈے (Sunday) کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے سورج کا دن۔ یعنی اس دن کو سورج دیوتا کا دن قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح اہلِ ہند زہرہ ستارے کو ’’شکر‘‘ کہتے ہیں اور اسی مناسبت سے جمعہ کو ’’شکروار‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہ تمام نام کیونکہ دیوی، دیوتائوں کے نام پر ہیں اور شرک کا پہلو نمایاں کرتے ہیں، چنانچہ اس کے برعکس اسلام نے دنوں کے ناموں کو کسی خاص چیز سے منسوب کرنے کے بجائے صرف عدد پر ان کی بنیاد رکھی، تاکہ کسی مشرک عقیدے کا شائبہ تک نہ ہو، جیسا کہ یوم الاحد (اتوار) یعنی پہلا دن، یوم الاثنین (پیر) یعنی دوسرا دن اور اسی طرح ترتیب وار یوم السبت (ہفتہ) یعنی ساتواں دن۔

افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اس ‘ستارہ پرستی’ نے نہ صرف ہمارے اسلامی نظریات بلکہ معاشرتی اور ادبی نظریات کو بھی بری طرح مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ مثال کے طور پر ایسے محاورے ’’قسمت کا ستارہ گردش میں ہے‘‘ لوگوں کی زبان سے نہ چاہتے ہوئے بھی ادا ہوجاتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ نام نہاد نجومیوں اور جوتشیوں نے لوگوں کو ورغلا کر اپنا بزنس شروع کر رکھا ہے۔ یہ لوگ آپ کو فٹ پاتھ یا کسی بلڈنگ کے اندھیرے کمرے میں ’پراسرار علوم کے ماہر‘ کے بورڈ لگا کر لوگوں کو فریب دینے میں مشغول نظر آئیں گے۔ مجھے آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آسکی کہ یہ نجومی خود کسی ’مبارک گھڑی‘ کا حساب لگا کر راتوں رات کامیاب یا امیر کیوں نہیں ہوجاتے؟ صاف ظاہر ہے کہ انہیں اپنے ’علم‘ پر خود یقین نہیں ہے، بلکہ ’ستارہ کیا میری تقدیر کی خبر دے گا‘ کے مصداق یہ صرف ایک بھیڑ چال ہے۔

سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ بڑے بڑے میگزین، رسائل، جرائد، اور اخبارات بھی ’’یہ ہفتہ کیسا رہے گا‘‘ اور ’’آج کا دن کیسا گزرے گا‘‘ کے عنوانات سے عوام کو گمراہ کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ حالانکہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ رب کے علاوہ دنیا میں اور کوئی بھی عالم الغیب نہیں۔ نہ ہی کوئی آپ کو قسمت کا حال بتا سکتا ہے اور نہ آپ کی قسمت بدل سکتا ہے۔ اسی بات کا اعلان اللہ تعالیٰ نے رسول اللہؐ سے یوں کروایا کہ:

’’اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی‘‘ (الاعراف: 188)

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد اطیب اسلم

محمد اطیب اسلم

بلاگر انفارمیشن ٹیکنالوجی میں گریجویٹ ہیں۔ ملکی و سماجی مسائل پر لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ آج کل تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں جبکہ اردو ادب سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں۔ رابطے کےلیے ان کی فیس بک آئی ڈی teeeb01 جبکہ ٹوئٹر آئی ڈی @foolishlearner ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔