من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو

ظہیر اختر بیدری  اتوار 15 ستمبر 2013
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

[email protected]

ہمارے سابق صدر محترم آصف علی زرداری نے اپنی صدارتی مدت کے پانچ سال مکمل کرلیے۔ زرداری کو الوداع کرتے وقت ملک کے موجودہ وزیر اعظم نواز شریف نے زرداری کی خدمات گنواتے ہوئے ان کی شان میں جو تعریفی کلمات ادا کیے ہیں اگرچہ ہماری 35 سالہ جمہوری تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی لیکن اسے ہم نواز شریف کی اعلیٰ ظرفی کہیں یا زرداری کی مفاہمتی سیاست کا جادو کہ کل تک زرداری کو تنقید نشانہ بنانے والے میاں صاحب آج زرداری کی تعریف و توصیف کرتے نہیں تھک رہے ہیں اور جواب آں غزل کے طور پر زرداری صاحب نے صرف میاں صاحب کے وہ اوصاف سامنے لارہے ہیں جو آج تک قوم کی نظروں سے اوجھل تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھائی زرداری نے یہ حیرت انگیز اعلان بھی کیا ہے کہ وہ اگلے پانچ سال تک کوئی سیاست ہی نہیں کریں گے، سیاست اس وقت شروع کریں گے جب میاں صاحب ان کی طرح خیروخوبی سے اپنے پانچ سال مکمل کرکے وزیر اعظم ہاؤس سے باوقار طریقے سے رخصت ہونے کی تیاری کریں گے۔

اس سے قبل جب زرداری حکومت اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرنے کے قریب تھی تو مخصوص لابی اور مخصوص نورتنوں کی طرف سے یہ غلغلہ بلند ہوتا رہا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی حکومت ہے جو اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرکے ایک جمہوری ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ اس ریکارڈ کا ریکارڈ اس شدت سے اس لیے بجایا جاتا رہا کہ عوام کا جمہوریت پر اعتماد بحال ہو اور آیندہ جمہوریت کی گاڑی پٹری سے نہ اترنے پائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں فوجی بیوروکریسی نے بار بار جمہوریت کی گاڑی کو پٹری سے اتار دیا لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جمہوری سیاستدانوں نے اپنے اپنے دور میں جمہوریت کی پٹاری سے عوامی مسائل کے حل اپنے وعدوں میں سے ایک وعدہ بھی باہر نہیں نکالا اور اپنا سارا عرصہ اقتدار یا تو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں گزارا یا پھر اربوں کھربوں کی قومی دولت کو عوام تک پہنچنے سے روکنے اور اپنے قومی اور بین الاقوامی بینک اکاؤنٹوں میں منتقل کرنے میں گزار دیا۔ اس اعلیٰ کارکردگی کا فائدہ فوجی بیوروکریسی کو اٹھانا ہی تھا سو وہ اٹھاتی رہی اور مزے کی بات یہ ہے کہ یا تو حزب اختلاف فوجی بیوروکریسی کو اقتدار سنبھالنے کی باضابطہ دعوت دیتی رہی یا فوجی بیوروکریسی کو اقتدار دلانے کے لیے حالات سازگار بنانے میں لگی رہی پھر ہماری جمہوریت کی شان یہ کہ جب بھی کوئی فوجی حکومت آئی اسے نہ صرف ویلکم کیا گیا، مٹھائیاں بانٹی گئیں بلکہ فوجی حکومتوں کا حصہ بننے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ اس پس منظر میں زرداری حکومت کا پانچ سال مکمل کرنا واقعی ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

آصف علی زرداری کے اپنے عہدے کی معیاد پوری کرنے پر امریکی جمہوریت پسند میڈیا نے بھی کہا ہے کہ زرداری کا اپنی معیاد پوری کرنا ایک تاریخی واقعہ ہے لیکن امریکی میڈیا نے اس رنگ میں بھنگ ڈالتے ہوئے یہ بدگوئی بھی کی ہے کہ سابق صدر ’’ملک اور عوام کے لیے ایک تباہ حال معیشت چھوڑ کر جارہے ہیں، پیپلز پارٹی افراتفری کا شکار ہے۔ زرداری نے ایسے سیاسی ہتھکنڈے استعمال کیے کہ حریف ان سے مات کھاتے رہے۔‘‘

امریکی میڈیا بڑا کمال کا میڈیا ہے وہ دوسرے ملکوں کو جمہوریت کا درس تو دیتا ہے اور دوسرے ملکوں کے جمہوری حکمرانوں کے جمہوری کردار کو سراہتا بھی ہے لیکن خود اپنے حکمرانوں کے غیر جمہوری بلکہ بدترین آمرانہ فاشسٹ کردار پر چونکہ چنانچہ کے حوالوں سے پردہ بھی ڈالتا رہتا ہے۔ کسی امریکی اخبار نے کسی امریکی چینل نے نہ بش کے عراق پر اور افغانستان پر حملہ کرنے کو غیر جمہوری غیر اخلاقی غیر قانونی کہا نہ آج اوباما کی شام پر حملے کے لیے تیاری کو غیر جمہوری غیر اخلاقی قرار دے رہا ہے۔

حکمرانوں کی حکمرانیوں کو جانچنے، ان کی تعریف یا تنقید کرنے کے لکھاریوں کے پاس مختلف پیمانے ہوتے ہیں کچھ لکھاری تو وہ ہوتے ہیں جو ہر آنے والے کو سیاسی پیغمبر، ہر جانے والے کو شیطان کہہ کر قلم کی حرمت برقرار رکھتے ہیں کچھ عموماً شاہوں کے نورتنوں کا کردار ادا کرتے ہیں کچھ اندھوں میں کانا راجہ سمجھ کر سیاسی راجاؤں کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ عوام کے بجائے اپنے مستقبل کی خاطر حکمرانوں کی جا و بے جا مدح سرائی کرتے ہیں اس رائج الوقت اور پاپولر کلچر میں سچ کہنا اور کسی حکمران کی اچھی یا بری کارکردگی کا جائزہ عوامی مفادات عوامی اور قومی مفادات کے تناظر میں لینا اپنے حال اور مستقبل کا ستیاناس کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ لیکن بہرحال اب بھی ایسے قلمکار موجود ہیں جو حکمرانوں کی کارکردگی کا جائزہ ان کی عوامی اور قومی خدمات کے حوالے سے لیتے ہیں اور اسی بنیاد پر کسی کو اچھا یا برا ٹھہراتے ہیں۔ اس رائے، ان تجزیوں میں نہ کسی حکمران کی حمایت کا کوئی ذاتی پہلو ہوتا ہے نہ کسی حکمران کی مخالفت کی کوئی ذاتی وجہ یا ذاتی دوستی یا دشمنی کارفرما ہوتی ہے۔

اس اصول کو سامنے رکھ کر اگر ہم زرداری کی پانچ سالہ کارکردگی کا جائزہ لیں تو ہمارے سامنے یہ مایوس کن تصویر آتی ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، کرپشن اپنی انتہا کو پہنچی ہے جس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، زرداری حکومت کی خوبی یہ رہی کہ اس نے دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کی ڈٹ کر مخالفت کی لیکن خرابی یہ رہی کہ اس نے اپنے پورے پانچ سالہ دور میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم کرنے یا روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی، نہ کوئی منصوبہ بندی کی، نہ اس مسئلے پر کوئی قومی پالیسی بنانے کی کوشش کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پورا ملک دہشت گردوں کا یرغمالی بنا ہوا ہے اور ملک کے اٹھارہ کروڑ غریب عوام دال روٹی کو بھول کر جان کی سلامتی کی فکر میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا اب ٹارگٹ کلنگ، بھتہ مافیا، لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا، اسلحہ مافیا، لسانی نفرتوں کا مرکز بنا ہوا ہے اور ہر روز درجن کے لگ بھگ لوگ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان خرابیوں کی زیادہ ذمے داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن زرداری پر یہ ذمے داری بہرحال عائد ہوتی ہے کہ پچھلے 5 سال کے مایوس کن تجربات کے بعد بھی نہ انھوں نے صوبائی قیادت کو تبدیل کرکے کوئی متحرک، توانا اور حالات حاضرہ کا ادراک رکھنے والی قیادت کو آگے لانے کی کوشش کی نہ اپنی مفاہمتی پالیسی کا ہتھیار کراچی کے پیچیدہ ترین حالات میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اغوا برائے تاوان، گیس، بجلی کی لوڈشیڈنگ اگرچہ ایک پرانا مسئلہ ہے لیکن زرداری حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی ہنگامی اقدامات نہیں کیے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حالیہ الیکشن میں عوام نے انھیں مسترد کردیا۔

زرداری اپنی ’’مفاہمتی پالیسی‘‘ کی وجہ سے بہت مشہور ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی مفاہمتی پالیسی اور میاں صاحب کی درگزر کی پالیسی جسے عوام فرینڈلی اپوزیشن کا نام دیتے ہیں بڑی کامیاب رہی ہے لیکن اہل خرد یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اس مفاہمتی پالیسی یا میاں صاحب کی درگزر یا فراخدلانہ اپوزیشن کا کوئی تعلق اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کی اجتماعی بھلائی سے ہے؟ کیا اس زرداری مفاہمتی اور میاں صاحب کی درگزر کی پالیسی کا کوئی تعلق مہنگائی میں کمی، بے روزگاری کے خاتمے، گیس، بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز، پھیلتی ہوئی کرپشن کو روکنے سے ہے؟ ان سارے سوالوں کا جواب نفی ہی میں ملتا ہے۔

جب ہم ان سوالوں کے جوابوں کے پس منظر میں زرداری کی حکومت اور میاں صاحب کی اپوزیشن کا جائزہ لیتے ہیں تو زرداری کی تعریف و توصیف کے لیے ہمیں کوئی معقول جواز نہیں ملتا اور اپنی حکومت اور اپنی صدارت کی مدت مکمل کرنے کو نہ ہم تاریخی کارنامہ کہہ سکتے ہیں نہ ایوان صدر سے زرداری کی رخصتی کو باوقار رخصتی سمجھتے ہیں کیونکہ وقار کا تعلق نہ گارڈ آف آنر سے ہوتا ہے نہ خواص کے رخصتی ہجوم سے۔ حکمرانوں کے وقار کا تعلق عوام کے مسائل کے حل، عوام کی پسند، عوام کی خوشنودی سے ہوتا ہے جس سے ہمارے تمام سابق اور حالیہ حکمران محروم رہے ہیں۔ بلاشبہ پیپلزپارٹی ایک لبرل سوچ کی حامل پارٹی ہے اس کے کارکنوں میں زیادہ تر کارکن روشن خیال ہیں لیکن نہ پارٹی کی فکر کا درست استعمال کیا گیا نہ کارکنوں کا، ان حقائق کی روشنی میں زرداری اور میاں صاحب کی ایک دوسرے کی تعریف ’’من ترا حاجی بگوئم تو میرا حاجی بگو‘‘ کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔