عام ڈرون کو ’’آگ برسانے والے ڈرون‘‘ میں بدلنے والا نظام

ویب ڈیسک  منگل 23 جولائی 2019
امریکی کمپنی نے آگ پھینکنے والا ڈرون بنایا ہے جو 25 فٹ کی دوری تک شعلہ پھینک سکتا ہے۔ فوٹو: تھروفلیم

امریکی کمپنی نے آگ پھینکنے والا ڈرون بنایا ہے جو 25 فٹ کی دوری تک شعلہ پھینک سکتا ہے۔ فوٹو: تھروفلیم

 واشنگٹن: ایک امریکی کمپنی نے ہولناک شعلے پھینکنے والا ایک ایسا مختصر نظام تیار کرلیا ہے جسے عام ڈرون پر نصب کرنے کے بعد اسے آگ برسانے والے ڈرون میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ آتش گیر نظام سے لیس ڈرون کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کئی طرح کے سوالات اور خدشات پر بات کی جارہی ہے۔

اس نظام کا نام ’’تھروفلیم ٹی ایف 19 واسپ‘‘ رکھا گیا ہے جسے ایک تجارتی نوعیت کے بھاری بھرکم ڈرون پر لگایا گیا ہے۔ اس میں ایک گیلن ایندھن ڈالا جائے تو یہ مسلسل 100 سیکنڈ تک 25 فٹ کی دوری پر آگ کا شعلہ پھینک سکتا ہے۔

لیکن شعلہ پھینکنے والے اس ہلکے پھلکے نظام  کی قیمت 1500 ڈالر (239835 پاکستانی روپے) کے برابر ہے جبکہ اس کےلیے ایک مضبوط ڈرون خریدنا بہت ضروری ہے۔ دوسری جانب اسے ڈرون پر لگانے کے لیے بھی ِخصوصی حفاظتی اقدامات کرنا ہوں گے۔

اسے تھروفلیم کمپنی نے بنایا ہے اور اس کے مطابق ویڈیو میں ڈی جے آئی ایس 1000 ڈرون استعمال کیا گیا ہے جس میں اے ٹو فلائٹ کنٹرولر، 16000 ایم اے ایچ بیٹری اور ٹی بی ایس ٹینگو آر سی ریموٹ استعمال کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ ڈرون 2600 ڈالر کا ہے۔ تاہم کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو ان کی پسند کے لحاظ سے ڈرون بنا کر دے سکتی ہے جن کی قیمت 1000 سے 10 ہزار ڈالر تک ہوسکتی ہے۔

تاہم آگ اگلنے والے ڈرون کو آخر کس لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟ چین میں اسے بجلی کی لائنوں پر لگے کچرے اور کپڑے وغیرہ کو صاف کرنے کےلیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اسی طرح مضر کیڑوں کے چھتّوں کا صفایا کرنے اور فالتو گھاس جلانے کےلیے بھی شعلہ بار ڈرون کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔