بزم سخن اُداس ہے شاعر تِرے بغیر!

شکیل فاروقی  منگل 23 جولائ 2019
S_afarooqi@yahoo.com

[email protected]

اردو شعر و ادب کی نامور اور ممتاز شخصیت حمایت علی شاعر علالت کے بعد 16 جولائی کو کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں انتقال کر گئے:

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

انھوں نے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد 93 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کا شمار ان خوش نصیبوں میں ہوتا ہے جنھیں اپنے زندگی کے دوران ہی غیر معمولی عزت و شہرت نصیب ہوئی اور جن کی عظمت کا اعتراف بھی ان کے شایان شان کیا گیا۔ ان کا اصل نام حمایت علی اور ’’شاعر‘‘ ان کا تخلص تھا۔ وہ 14 جولائی 1926 کو برٹش انڈیا کے دور میں اورنگ آباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔ ابھی ان کی عمر صرف تین سال کی تھی کہ ان کی والدہ کا سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا جس سانحے کا احساس انھیں ہمیشہ ستاتا رہا۔

1949 میں ان کی شادی معراج نسیم کے ساتھ انجام پائی جن کی رفاقت میں انھوں نے اپنی زندگی کے 52 سال گزارے۔ وہ بھی کینیڈا، اونٹاریو میں پکرِنگ کے مقام پر مدفون ہیں۔ اگرچہ ابتدا میں ہی حمایت علی شاعر نے بائیں بازو کے رجحانات سے اپنا رشتہ برقرار رکھا۔

حمایت علی شاعر ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ منفرد لب و لہجے کے شاعر ہونے کے علاوہ وہ ایک صحافی، اداکار، صداکار، فلمی نغمہ نگار، نثر نگار اور عظیم براڈ کاسٹر بھی تھے۔ انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بطور صحافی کیا اور حیدرآباد (دکن) سے شایع ہونے والے اردو اخبارات جناح،منزل اورہمدرد میں خدمات انجام دیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے ریڈیو دکن (حیدرآباد، انڈیا) میں بھی بحیثیت نشرکار خدمات دیں۔ لیکن ریاست حیدرآباد دکن پر بھارتی فوجوں کے ناجائز قبضے کے بعد ریڈیو دکن کا نام تبدیل کرکے آل انڈیا ریڈیو رکھ دیا گیا جس کے بعد 1950 میں ترکِ وطن کرکے حمایت علی شاعر پاکستان آکر ریڈیو پاکستان کراچی سے وابستہ ہوگئے جہاں سے تبادلے کے بعد انھوں نے ریڈیو پاکستان حیدرآباد (سندھ) میں بھی خدمات انجام دیں۔

1964 میں انھوں نے سندھ یونیورسٹی سے ایم۔اے اردوکا امتحان پاس کیا اور پھر ایک عرصے تک وہیں تدریسی خدمات انجام دیں۔ ریڈیو پاکستان کے ساتھ بحیثیت رائٹر اور براڈ کاسٹر ان کی خدمات کا سلسلہ 15 سال پر محیط ہے۔ اسی عرصے کے دوران ہمارا ان کے ساتھ تعلق قائم ہوا جو تادم آخر برقرار رہا۔ ہم انھیں ’’حمایت بھائی‘‘ کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ وہ انتہائی ملنسار، خوش گفتار اور سادہ مزاج انسان تھے۔ ایسے عظیم اور مثالی انسان کہ جن پر سُرور بارہ بنکوی کا یہ مشہور شعر حرف بہ حرف صادق آتا ہے۔

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ

آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

حمایت بھائی کا کمال یہ تھا کہ انھوں نے جس شعبے کو بھی چھوا، اس میں اپنی انفرادیت اور عظمت کے جھنڈے گاڑ دیے۔ بحیثیت شاعر ان کا کلام اور ترنم منفرد اور لاجواب تھا۔ بطور فلمی نغمہ نگار ان کے لازوال گیت لوگوں کے کانوں میں ہمیشہ گونجتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ ان کی پروڈیوس کی ہوئی بے مثال اور لازوال فلم ’’لوری‘‘ کو عوام کبھی فراموش نہیں کرسکتے جس کے مکالمے احمد ندیم قاسمی  نے تحریر کیے تھے۔ یہ بھی کیسا عجیب اتفاق ہے کہ قاسمی صاحب کا انتقال پُرملال بھی اسی ماہ رواں یعنی جولائی میں ہی ہوا تھا۔ حمایت علی شاعر کے مشہور فلمی نغموں کے یہ بول عوام کے کانوں میں آج بھی رس گھولتے ہیں:

نہ چھڑا سکو گے دامن نہ نظر بچا سکو گے، جاگ اٹھا ہے سارا وطن، خداوندا یہ کیسی آگ سی لگتی ہے سینے میں، جب رات ڈھلی، ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ۔‘‘

فلم اور ریڈیو کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے بھی حمایت علی شاعر نے گراں قدر خدمات انجام دیں جنھیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ 700 سالہ نعتیہ شاعری کے حوالے سے پی۔ٹی۔وی پر پیش کیا گیا، ان کا تحقیقی پروگرام ’’عقیدت کا سفر‘‘ سرفہرست ہے۔ ان کے دیگر قابل ذکر ٹی وی پروگراموں میں غزل اس نے چھیڑی، خوشبو کا سفر اور ’’محبتوں کے سفیر‘‘ شامل ہیں۔

حمایت علی شاعر کا منفرد کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی خود نوشت ’’آئینہ درآئینہ‘‘ مثنوی کی صورت میں تحریرکی۔ ان کے فلمی نغمات کا مجموعہ بھی ’’ تجھ کو معلوم نہیں‘‘ کے نام سے شایع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی شعری تخلیقات کے تراجم دیگر زبانوں میں بھی شایع ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان کی امنِ عالم کے موضوع پر مشہور نظم ’’آگ میں پھول‘‘ کا انگریزی میں ترجمہ راجندر سنگھ ورما نے نہایت خوبصورت انداز میں کیا ہے۔ حمایت علی شاعر کا ایک منفرد کارنامہ 33 مصرعوں پر مشتمل ایک نئی صنفِ سخن کی ایجاد ہے جو ’’ثلاثی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ بطورِ نمونہ ملاحظہ فرمائیں:

شب کو سورج کہاں نکلتا ہے

اس جہاں میں تو اپنا سایا بھی

روشنی ہو تو ساتھ چلتا ہے

اب ان کی غزلوں کے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔

راہزن کے بارے میں اور کیا کہوں کھل کر

میرِ کارواں یارو! میرِ کارواں یارو!

درجہ بالا شعر کرپٹ سیاستدانوں کے حوالے سے آج بھی مخصوص اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ یہ چند اشعار بھی اپنی مثال آپ ہیں:

چہرے پہ عمر بھر کی رفاقت رقم سہی

دل کے لیے تمام سفر لمحہ بھر کا تھا

……………

آتش کدہِ دل کو ہوا کیوں نہیں دیتے

پتھر تو نہیں لوگ صدا کیوں نہیں دیتے

……………

اِک جبرِ وقت ہے کہ سہے جا رہے ہیں ہم

اور اُس کو زندگی بھی کہے جا رہے ہیں ہم

2007 میں ان کا شعری مجموعہ ’’ کلیاتِ شاعر‘‘ کے عنوان سے چھپ کر منظر عام پر آیا ، جسے قارئین نے بے حد سراہا۔ 1989 میں انھیں دہلی میں منعقدہ ایک تقریب میں مخدوم محی الدین انٹرنیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا جب کہ ان کی بے بہا خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں 2002 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ 1962 میں انھیں فلم ’’آنچل‘‘ اور 1963 میں فلم ’’دامن‘‘ پر نگار ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ 2002 میں ہیوسٹن (امریکا) کے ریڈیو اسٹیشن ینگ ترنگ نے مشہور پاکستانی گلوکاروں کے گائے ہوئے ان کے نغمات اور خود حمایت علی شاعر کی آواز میں ریکارڈ کیے گئے ،ان کے کلام پر مشتمل سی۔ڈی کا اجرا کیا۔

بزمِ سخن اُداس ہے شاعر تِرے بغیر

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔