وزیر اعظم کا کامیاب دورہ امریکہ، مثبت اثرات مرتب ہونگے

ارشاد انصاری  بدھ 24 جولائ 2019
ناقدین کا خیال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پریس کانفرنس میں عمران خان دباو میں نظر آئے ہیں۔ فوٹو: فائل

ناقدین کا خیال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پریس کانفرنس میں عمران خان دباو میں نظر آئے ہیں۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد:  وزیرِاعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے اور اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاوس میں ہونیوالی ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش بہت بڑی خبر ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر کردار ادا کرنے کی پیشکش سے جنوبی ایشیا میں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔

کیونکہ اس خبر سے نہ صرف خطے کا امن بلکہ پوری دنیا کا امن جڑا ہوا ہے جبکہ اسی مسئلہ کو لے کر دونوں ملکوں کے درمیان نہ صرف متعدد جنگیں ہوچکی ہیں بلکہ بھارت کی جانب سے مسلسل خطے کا امن و تہہ و بالا کرنے کی کوششیں جاری ہیں جس کا واضح ثبوت کلبھوشن یادیو کی صورت دنیا کے سامنے ابھی بھی موجود ہے اب سوال امریکی صدر کی جانب سے کی جانیوالی ثالثی کی پیشکش کی سنجیدگی کا ہے کیونکہ اس سے پہلے امریکی صدر کلنٹن کی جانب سے بھی اسی طرح کی پیشکش کی جا چکی ہے اور اس وقت بھی نہ صرف بھارت بھاگ گیا تھا بلکہ اس وقت کی پاکستانی حکومت کو بھی گھر جانا پڑ گیا تھا مگر اس مسئلہ کے فریقین میں سے پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کو خوش آمدید کہا ہے لیکن اس کے برعکس مخالف فریق بھارت نے ہمیشہ راہ فرار اختیار کی ہے اور ابھی بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیشکش کے فوری بعد بھارت کی جانب سے جو ردعمل سامنے آیا ہے اس میں بھی بغاوت کی بو آتی ہے۔

اگرچہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے پہلی ملاقات میں کی گئی پیشکش میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ان سے اس معاملے کو حل کرانے کی درخواست کی ہے مگر جو بھارت کی طرف سے فوری ردعمل آیا ہے وہ اس سے مختلف ہے تاہم جہاں پاکستان کی جانب سے اس پیشکش کا خیر مقدم کیا گیا ہے وہیں بھارت نے اس مسئلے کے حل میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنے کے امکان کو رد کر دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران مصروفیات اور خصوصا! ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں بہت سی اہم پیشرفت سامنے آئی ہیں جن کے آگے چل کر نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی سیاست و خارجہ محاذ پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونگے اور مستقبل کی صف بندی میں اس دورے کی جھلک واضح دکھائی دے گی۔

مختلف حلقوں میں وزیراعظم عمران خان کے اس دورے پر تبصرے ہو رہے ہیں اور صدر ٹرمپ سے ملاقات میں عمران خان کی باڈی لینگویج اور چالیس منٹ کی مشترکہ پریس کانفرنس میں نوے فیصد سے زیادہ ڈونلڈ ٹرمپ کا بولنا اور عمران خان کی مسلسل خاموشی پر بھی بہت سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور وہ شائد اس لئے بھی اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ عمران خان کے دورہ امریکہ سے قبل ان کی ٹرمپ سے ملاقات سے بہت توقعات وابستہ کی گئی تھیں۔

ناقدین کا خیال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پریس کانفرنس میں عمران خان دباو میں نظر آئے ہیں اور اس کے مقابلہ میں امریکی صدر مسلسل بولے جا رہے تھے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس پریس کانفرنس کے منتظمین کو بھی توازن پیدا کرنا چاہیے تھا اور یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا پریس کانفرنس میں جان بوجھ کر سوالات کا محور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو رکھا گیا یا میڈیا نے عمران خان کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور ان سے سوالات نہ ہونے کے برابر ہوئے ہیں جبکہ تیسرا پہلو حکومت کی اپنی کمزوری بھی ہے۔

میڈیا وار کے اس دور میں حکومت کو بھی بھرپور تیاری کے ساتھ جانا چاہیئے تھا اور اس پریس کانفرنس میں پاکستانی میڈیا کی کمی شدت سے محسوس کی گئی۔ اگر اس پریس کانفرنس میں حکومتی سطح پر پاکستانی میڈیا کا انتظام کیا گیا ہوتا تو حکومت مخالفین کو تنقید کا یہ موقع بھی نہ ملتا، اس کے ساتھ ساتھ اس ملاقات میں جہاں ڈومور کے نتیجے میں پاکستان کی روکی گئی امداد کی بحالی کا عندیہ دیا گیا ہے وہیں ایران کے حوالے سے اور چین کے حوالے سے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈھکے چھپے الفاظ میںخطرناک اشارہ دیا ہے۔

البتہ ملاقات کے بعد جاری ہونیوالے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان اور صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی، عمران خان کی وائٹ ہاؤس آمد پر صدر ٹرمپ نے استقبال کیا جہاں ون آن ون ملاقات کے بعد وفود کی سطح پر بھی ملاقات ہوئی، امریکی صدر ٹرمپ نے عمران خان کو ظہرانہ بھی دیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے صدر ٹرمپ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جس کو انہوں نے قبول کر لیا،دونوں رہنماؤں نے پائیدار شراکت داری سے متعلق بات چیت کی، دونوں رہنماؤں کا مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا، وزیراعظم عمران خان نے افغان عمل نیک نیتی سے جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان امن عمل مشترکہ ذمہ داری ہے۔

پرامن ہمسائیگی پاکستانی خارجہ پالیسی کی ترجیح ہے اور حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کو اپنے معاشی اور سماجی وژن سے آگاہ کیا جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کے خطے میں امن کے لیے نقطہ نظر کی تعریف کی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے تعاون کی پیش کش کی جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جامع مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اور بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات دونوں کے باہمی مفاد میں ہیں ۔

مگر اس کے ساتھ ہی اس ملاقات اور وزیراعظم کے دورہ امریکہ بارے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس دورے کے دوران امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں توقع کی جا رہی تھی کہ وہ بطور وزیراعظم دنیا کو ایک نیا وژن دیں گے مگر ان کا یہ خطاب بطور وزیراعظم کم اور تحریک انصاف کے سربراہ کے طور پر زیادہ تھا اور خطاب میں صرف اپنے ووٹر کو ساتھ جڑے رکھنے کا پیغام تھا اور پھر امریکی ٹی وی چینل کو دیئے جانیوالے انٹرویو میں عمران خان شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی پر بات کرنے کا عندیہ دینا اور پھر اسامہ بن لادن کے حوالے سے کی جانیوالی گفتگو بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کے بھی آگے چل کر اثرات سامنے آئیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے ساتھ تجارت کو بیس گنا بڑھانے کی بات کرنا اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی بارے امریکی صدر کا پیغام ملکی معیشت کیلئے یقینی طور پر خوش آئند ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔