قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے پر امن اور کامیاب انتخابات

شاہد حمید  بدھ 24 جولائ 2019
قبائلی اضلاع کے انتخابی نتائج کا صوبائی حکومت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور محمودخان حکومت اپنی جگہ قائم رہے گی۔ فوٹو: فائل

قبائلی اضلاع کے انتخابی نتائج کا صوبائی حکومت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور محمودخان حکومت اپنی جگہ قائم رہے گی۔ فوٹو: فائل

پشاور:  پچیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقہ جات میں صوبائی اسمبلی کے لیے پہلے انتخابات کا انعقاد ہوگیا ہے جو اہم اور بڑا مرحلہ تھا کیونکہ قبائلی علاقوں میں اب تک قومی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد تو ہوتاآیا ہے جبکہ یہاں سے منتخب ہونے والے سینیٹرز بھی پارلیمان کے ایوان بالا میں نمائندگی کرتے آئے ہیں تاہم ہر سابقہ قبائلی ایجنسی، خیبرپختونخوا کے ساتھ جڑی ہونے کے باوجود ا ن کی صوبائی اسمبلی میں کسی قسم کی نمائندگی نہیں تھی کیونکہ قبائلی علاقہ جات مرکز کے کنٹرول میں تھے تاہم اب یہ علاقے صوبہ کے کنٹرول میں آئے ہیں جس کے بعد ان علاقوں کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی ملی ہے۔

قبائلی اضلاع کی 16نشستوں پرصوبائی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد ہوا اور قبائلی عوام نے نہایت جوش وخروش سے انتخابی عمل میں حصہ لے کر ثابت کردیا کہ وہ جمہوریت اور انتخابی عمل میں شرکت کے خواہاں ہیں تاہم اب تک انھیں اس جمہوری عمل میں شریک ہونے سے روکا جاتا رہا۔

قبائلی اضلاع کی16میں سے5 نشستیں تحریک انصاف کے حصے میں آئی ہیں جبکہ 7آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے، جے یوآئی دو جبکہ اے این پی اور جماعت اسلامی ایک، ایک نشست کے حصول میں کامیاب رہی، چونکہ مرکز اور خیبرپختونخوا دونوں جگہوں پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اس لیے سات آزاد کامیاب امیدواروں میں سے بھی اکثریت پی ٹی آئی ہی میں شمولیت کریگی جس سے پی ٹی آئی ارکان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا جس سے پی ٹی آئی کو خواتین کی چار میں سے تین نشستیں بھی مل جائیں گی جبکہ ایک اقلیتی نشست بھی پی ٹی آئی کے حصے میں آئے گی جن کی بدولت پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 145رکنی ایوان میں نوے سے زیادہ ہوجائے گی۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد میں بھی پانچ ارکان کا اضافہ ہوگا تاہم ان انتخابات میں اصل دھچکا مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو لگا ہے کہ وہ کوئی ایک نشت بھی جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، اگرچہ ایسا ہی نقصان قومی وطن پارٹی کو بھی ہوا ہے تاہم کیوڈبلیو پی کے حوالے سے کسی کامیابی کی توقع بھی نہیں کی جا رہی تھی۔

اگرچہ قبائلی اضلاع کے انتخابی نتائج کا صوبائی حکومت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور محمودخان حکومت اپنی جگہ قائم رہے گی جس کے پاس پہلے ہی درکاراکثریت سے زائد ارکان موجود ہیں تاہم ان انتخابات کے نتیجے میں پی ٹی آئی حکومت مزید مستحکم ہوئی ہے، پی ٹی آئی حکومت نے پہلے ہی کابینہ میں ایک وزیر کی جگہ خالی رکھی ہوئی ہے جو قبائلی اضلاع سے منتخب رکن کو ملے گی جبکہ حکومتی ٹیم میں قبائلی ارکان کو بطور مشیر و معاونین خصوصی بھی شامل کیا جائے گا تاکہ قبائلی عوام کے نمائندے حکومت میں پوری طرح شامل ہوکر اپنے حلقوں اور قبائلی عوام کے لیے بہتر انداز سے کام کر سکیں، اگرچہ اپوزیشن کو بھی پانچ ارکان کی آمد سے کوئی بڑا فائدہ تو نہیں ہوگا تاہم اپوزیشن اس وقت جس احتجاجی ٹریک پر چل رہی ہے اس میں اسے مزید پانچ ارکان کی کمک ملنے سے ایوان کے اندر شور شرابے اور احتجاج کرنے کے لیے اس کی افرادی قوت میں اضافہ ہوگیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف دیگر سیاسی جماعتوں جن میں خصوصی طور پر مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی جیسی پارٹیاں شامل ہیں، پرتنقید کرتی آئی ہے کہ ان دونوں پارٹیوں، جو خود کو جمہوریت کا نام لیوا کہتی ہیں، میں جمہوریت نہیں اور وہ نامزدگیوں کے ذریعے جمہوری پارٹیوں کو چلارہی ہیں لیکن آج پاکستان تحریک انصاف کا اپنا وہی حال ہو چکا ہے،2013 ء کے عام انتخابات سے قبل پی ٹی آئی میں آخری مرتبہ انٹرا پارٹی انتخابات منعقد ہوئے تھے جن میں پارٹی کے ورکروں نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ حصہ لیا تھا اور پارٹی عہدیداروں کا انتخاب عمل میں لایا گیا تھا تاہم اس کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت اس معاملے میں پس وپیش کا شکار رہی۔

گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بھی جب انٹرا اپارٹی انتخابات کے انعقاد کا موقع آیا تو پی ٹی آئی کی قیادت کنی کترا گئی اور کسی ایک وجہ یا دوسری وجہ کو بنیاد بناتے ہوئے پارٹی قیادت نے انٹرا پارٹی انتخابات کی بجائے نامزدگیوں کے ذریعے کام چلایا اور یہی کچھ اب ایک مرتبہ پھر کیا گیا ہے اور پورے ملک میں پارٹی عہدیداروں کو نامزد کرتے ہوئے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کے مرحلے کو انجام تک پہنچادیا گیا ہے تاہم ایسے اقدامات جمہوری پارٹیوں کے لیے نقصان دہ ہی ہوتے ہیں۔

اسی لئے پارٹی کے اندر نامزدگیوں کے ساتھ ہی اختلافات نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے اور آنے والے دنوںمیں اس میں مزید اضافہ ہوگا، پی ٹی آئی کے لیے یہ اس حوالے سے بھی بہتر نہیں کہ اے این پی اور جمعیت علماء اسلام(ف)جیسی پارٹیاں بھی انٹرا پارٹی انتخابات کی راہ اپناتی ہیں جنھیں پی ٹی آئی کی قیادت تختہ مشق بنائے رکھتی ہے اس لیے اب پی ٹی آئی کو ان پارٹیوں کی جانب سے اس حوالے سے ضرور تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اپوزیشن کا سارا فوکس کل پشاورمیں منعقد ہونے والے ملین مارچ اور یوم سیاہ کے انعقاد پر ہے، جے یوآئی(ف) اس سے پہلے بھی ملین مارچ منعقد کرتی آئی ہے اور پشاور کے فوراً بعد کوئٹہ ملین مارچ کی بھی تیاریاں جاری ہیں تاہم پشاور ملین مارچ کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ یہ صرف جے یوآئی کا ملین مارچ نہیں رہا بلکہ اپوزیشن کے یوم سیاہ میں تبدیل ہوگیا ہے جس سے اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمدخان شیرپاؤ اور پیپلزپارٹی و مسلم لیگ(ن) کے قائدین بھی خطاب کریں گے جس سے یہ جے یوآئی کی بجائے اپوزیشن کا شو بن گیا ہے تاہم یقینی طور پر اس شوکے روح رواں مولانا فضل الرحمٰن ہی ہونگے کیونکہ بہرکیف یہ ان کی پارٹی کی جانب سے ترتیب کردہ ملین مارچ ہی ہے جو ماہ جولائی کے وسط میں منعقد ہونا تھا تاہم اپوزیشن کی جانب سے عام انتخابات کا ایک سال پورا ہونے پر 25 جولائی کے دن یوم سیاہ منانے کے فیصلے سے یہ ملین مارچ اپوزیشن کے شو میں تبدیل ہوگیا ہے تاہم اپوزیشن جماعتوں کے لیے اب امتحان یہ ہوگا کہ وہ یوم سیاہ کے بعد مشترکہ تحریک کو کیسے زندہ رکھتی ہے؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔