آصف زرداری نے پیپلز پارٹی کی تنظیم نو کا فیصلہ کرلیا

مسعود ماجد سید  پير 16 ستمبر 2013
ن لیگ کی کمزوریوں سے پی پی کے لیے راستے ہموار ہو گئے، ترجمان بلاول ہائوس۔ فوٹو: فائل

ن لیگ کی کمزوریوں سے پی پی کے لیے راستے ہموار ہو گئے، ترجمان بلاول ہائوس۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: سابق صدر آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کی تنظیم نو کا فیصلہ کر لیا ہے، پہلے مرحلے میں پنجاب، دوسرے مرحلے میں دیگر صوبے اور بعدازاں یہ عمل نچلی سطح تک جاری رکھا جائیگا۔

بلاول ہائوس کراچی کے ترجمان اعجاز درانی نے ’’ایکسپریس‘‘ سے خصوصی بات چیت کر تے ہوئے بتایا کہ حالیہ عام انتخابات میں پی پی کی پنجاب میں شکست اور کارکنان کے حوصلہ بلند کر نے و ماضی کی کمزرویوں وخامیوں کو دور کر نے کے لیے پارٹی کی ہر سطح پر تنظیم سازی وقت کی اہم ضرورت تھی۔ بے نظیر بھٹوکی شہادت کے بعد پارٹی قیادت مسلسل دباؤ کا شکار رہی اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی آئینی حیثیت نے انھیں پابند رکھا جس کی وجہ سے پورے ملک میں بلکہ پنجاب میں خاص طور پر پی پی رہنما و کارکنان مایوسی کا شکار رہے اور حالیہ عام ا نتخابات میں پی پی کی یقینی نشستیں بھی ہاتھ سے نکل گئیں۔

دوسری طرف خود ن لیگ حکومت نے اپنے 3 ماہ کے دور حکومت میں کئی کمزوریاں ایسی دکھائیں جن سے اب پی پی کے لیے راستے ہموار ہو گئے ہیں۔ پنجاب میں پارٹی کی تنظیم نو سے پارٹی میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو ں گی اور کھوئی ہوئی نشستیں دوبارہ پی پی کو ملیں گی، ملک میں جمہوری طریقے سے سیاسی سرگرمیاں فروغ پائیں گی۔ انھوں نے بتایا کہ پی پی کے نوجوان کارکنان طویل عرصے تک استقامت اور بہادری کا مظاہرہ کر نے پرآصف علی زرداری کو ایوارڈ دیں گے۔ اس تقریب کو لاہور، کراچی یا اسلام آباد میں منعقد کرنے کا فیصلہ جلد کیا جائے گا، تقریب میں پی پی کے مرکزی قائدین بھی شرکت کریں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔