ہیپاٹائٹس (یرقان) سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

ڈاکٹر نوید بٹ / ڈاکٹر نائلہ اقرا  جمعرات 25 جولائ 2019
پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہیپاٹائٹس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہیپاٹائٹس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ فوٹو: فائل

28جولائی کو پوری دنیا میں ہیپاٹائٹس ڈے منایاجاتاہے۔صحت کے عالمی ادارے کی جانب سے گزشتہ برس جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس وقت دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد35کروڑ ہے جن میں ڈیڑھ کروڑ پاکستانی بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں ایک کروڑ 40لاکھ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریض ہیں جو کہ اس مرض کی خطرناک اقسام شمار ہوتی ہیں۔

ہیپاٹائٹس (یرقان) ایک متعدی بیماری ہے جو وائرس سے پھیلتی ہے۔ یہ وائرس مختلف اقسام کے ہوتے ہیں۔ Hepatitis A، Hepatitis B، Hepatitis C عمومی طور پر جانے پہچانے نام ہیں۔ اس کے علاوہ یرقان D، E، G قسم کے بھی ہوتے ہیں۔ یہ وائرس انسانی جگر پر اثر انداز ہو کر مختلف نوعیت کی بیماریاں پیدا کرتے ہیں ۔

Hepatitis A:

یرقان کی یہ قسم ایک وائرس سے پھیلتی ہے۔عموماً بچوں میں ہوتی ہے۔ بیماری کی نوعیت معمولی یا درمیانے درجے تک رہتی ہے۔ یہ مرض حفظان صحت کے اصولوں کا خیال نہ رکھنے کے باعث پھیلتاہے۔ یادرہے کہ اس کا وائرس مریض کے پاخانے میں خارج ہوتا ہے۔

علامات:

مریض کے جسم میں وائرس داخل ہونے کے دو سے چار ہفتے بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ زیادہ تر مریض تین سے چھ ہفتے میں تندرست ہوجاتے ہیں۔ ایک فیصد مریض شدید بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ علامات درج ذیل ہیں:

1۔ پیٹ درد،2۔ بخار،3۔ متلی ہونا، الٹی آنا۔4۔ آنکھوں کا رنگ پیلا ہونا،5۔ پیشاب کا رنگ پیلا ہونا،6۔ شدید کمزوری محسوس ہونا،7۔ بھوک کا نہ لگنا

علاج:

اس بیماری کا کوئی علاج نہیں۔ مریض میں پانی کی کمی اور خوراک کی کمی کو پورا کیا جاتا ہے۔ بخار کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔

بچاؤ:

ایک مرتبہ کے انجکشن یا ویکسینیشن سے انسان ساری عمر کے لیے اس مرض سے بچ سکتا ہے، اس لیے بچاؤ پر زور دینا چاہیے۔

1۔ بچوں میں ایک سال کی عمر کے بعد ہیپاٹائٹس اے کی ویکسین لگائی جاتی ہے جس کے دوٹیکے چھ ماہ کے وقفے سے لگوا کر اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔

2۔ مرض ہونے کی صورت میں مریض کو حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے جن میں ہاتھوں کا بار بار صابن سے دھونا شامل ہے۔

3۔ پانی ہمیشہ ابال کر استعمال کرنا چاہیے۔

4۔ رفع حاجت کے بعد کموڈ کی صفائی اور ہاتھوں کا دھونا ضروری ہے۔

5۔ پھل اور سبزیاں دھونے کے لیے اُبلا ہوا پانی استعمال کریں۔

6۔ برف جمانے کے لیے بھی اُبلا ہوا پانی استعمال کریں۔

7۔ صاف پینے کے پانی کے پائپ اور گندے نکاسی آب کے پائپ اگر زیرِ زمین قریب قریب بچھائے گئے ہوں تو ٹوٹنے(leak) کی صورت میں دونوں پانی مل جاتے ہیں، یوں ہیپاٹائٹس کا مرض وبائی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

Hepatitis B (کالا یرقان)

ہیپاٹائٹس بی وائرس سے پھیلنے والی خطرناک متعدی بیماری ہے جو احتیاط نہ کرنے کی صورت میں وبائی شکل اختیار کر سکتی ہے

عمومی علامات:

اس مرض میں علامات معمولی بھی ہو سکتی ہیں اور پیچیدہ بھی۔ ہو سکتا ہے کہ مریض کوئی تکلیف/ علامت محسوس نہ کرے اور کسی اور وجہ سے کیے گئے خون کے ٹیسٹ سے مرض کا پتہ چلے۔ اس کی علامات درج ذیل ہیں:

1۔ آنکھوں میں پیلاہٹ، 2۔ تھکاوٹ،3۔ بھوک میں کمی،4۔ وزن میں کمی،5۔ جلد پر خارش ہونا،6۔ متلی اور بخار کی کیفیت بھی اس کی علامات ہو سکتی ہیں۔

بیماری میں پیچیدگی کی علامات:

1۔ پیٹ میں پانی کا پڑنا، 2۔ دماغی سستی (Drowsiness)،3۔ دماغی توازن کا بگڑنا (hepatic encephalopathy)، 4۔ ہاتھ پاؤں میں سوزش ہونا، 5۔ خون کی الٹی آنا، 6۔ کالے پاخانے آنا، 7۔ جگر کا کینسر ہو جانا۔

مرض پھیلنے کی وجوہات:

1۔ حمل میں ماں سے بچے کو بیماری منتقل ہونا، 2۔ متاثرہ سوئی، سرنج، آلات جراحی کے استعمال سے، 3۔ متاثرہ خون کے انتقال سے

4۔ متاثرہ فرد کے زیر استعمال بلیڈ یا استرے سے شیو کرنے سے، 5۔ متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبت یا رخم سے رسنے والے مواد سے

تشخیص:

جسم میں وائرس کی موجودگی اور بیماری کی نوعیت اور بیماری کی شدت جاننے کیلئے مختلف لیبارٹری ٹیسٹ موجود ہیں جو ماہرِ امراض کے مشورے سے کروانے چاہئیں۔

کالے یرقان سے بچاؤ کے طریقے:

1۔ کالے یرقان کی vaccine موجود ہے جو بچوں کو پیدائش کے فوراً بعد لگنے والے حفاظتی ٹیکوں میں شامل ہے۔

2۔ بچوں کو مکمل حفاظتی ٹیکے لگوایئے۔

3۔ علاج کے لیے ہمیشہ نئی سرنج استعمال کریں۔

4۔ شیو کے لیے نیا بلیڈ استعمال کریں۔

5۔ آپریشن کے لیے نئے اوزار یا وائرس سے پاک کیے گئے اوزار استعمال کریں۔

6۔ خون کا عطیہ دینے سے پہلے ڈونر کا HBVٹیسٹ ضرور کروائیں۔

7۔ خون لگواتے وقت صرف ٹیسٹ شدہ خون قبول کریں۔

8۔ کالے یرقان سے متاثرہ ماں کا بچہ پیدا ہوتے ہی اسے نوزائیدہ بچوں کے ڈاکٹر کو دکھائیں تاکہ اسے HBVویکسین ہو سکے اور ساتھ ہی Hep B. lmmunoglobulلگ سکے۔ جو اس مرض سے حفاظت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

9۔ خواتین بیوٹی پارلر پر Menicure / pedicure کے لیے نئے اوزار کا تقاضا کریں۔ ورنہ یہ بناؤ سنگھار کے ادارے کالا یرقان پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

10۔ ناک اور کان چھدوانے کے لیے نئے اوزار کا استعمال یقینی بنائیں۔

11۔ متاثرہ شخص کی استعمال شدہ کانوں کی بالیاں نہ پہنیں۔

کالے یرقان کا علاج:

کالے یرقان کا علاج گولیوں اور ٹیکوں کی صورت میں موجود ہے۔ علاج صرف مستند ڈاکٹر سے کروانا چاہیے۔ کچھ مریضوں میں یہ بیماری وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہے جبکہ بعض مریض carrier بن جاتے ہیں یعنی بیماری ان میں علامات نہیں رکھتی مگر بتائی گئی احتیاطیں نہ کرنے سے دوسروں میں منتقل ہو سکتی ہے۔ بعض مریض شدید بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں یا پیچیدگی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

مریض کیلئے چند مزید احتیاطیں:

مریض کو چاہیے کہ سرجری سے پہلے سرجن کو ، دانتوں کے علاج کے وقت dentist کو اور کسی بھی علاج کے وقت معالج کو اپنے مرض کے بارے میں ضرور بتادے، تاکہ معالج ان کے علاج میں احتیاطی تدابیر اختیار کرسکے۔ ایسے مریض کو خون کا عطیہ دینے سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔ خون کے ٹیسٹ کرواتے ہوئے لیبارٹری ٹیکنیشن کو ضرور بتائیں تاکہ وہ خون کا سیمپل احتیاط سے لے اور سرنج احتیاط سے تلف کردے۔ کالے یرقان کے ساتھ اگر ہیپاٹائٹس ای (E)ہو جائے تو بیماری کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔

Hepatitis C:

ہیپاٹائٹس سی کا مرض ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس کے نتائج تباہ کن ہیں۔ اسے دنیا میں ہونے والی ہلاکتوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس بیماری کو خاموش وبا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس مرض میں مبتلا 95 فیصد لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بیمار ہیں، اس لیے اس بیماری سے متعلق ٹیسٹ کروانا بہت ضروری ہے۔عالمی سطح پر ہیپاٹائٹس C میں مبتلا تقریباً 150 ملین افراد علاج نہیں کرواتے جس کی وجہ سے سالانہ سات لاکھ کے قریب ہلاکتیں ہورہی ہیں۔ہیپاٹائٹس سی وائرس کی تمام اقسام میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ وہ واحد قسم ہے جس کی کوئی ویکسین بھی دستیاب نہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہیپاٹائٹس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ہیپاٹائٹس سی بھی وائرس ہی سے پھیلنے والی بیماری ہے جو جگر کی سوزش کا باعث بنتی ہے۔ یہ عمومی طور پر آہستگی سے پھیلتی ہے۔ اس کی علامات ظاہر ہونے میں 14دن سے 80دن تک لگ سکتے ہیں۔

علامات:

بعض اوقات اس کی علامات بہت عرصہ تک ظاہر نہیں ہوتیں ۔ کسی اور وجہ سے کروائے گئے ٹیسٹوں میں اس کی تشخیص ہوتی ہے۔اس کی علامات درج ذیل ہیں:

1۔ آنکھوں کا پیلا ہونا،2۔ تھکاوٹ کا طاری ہونا،3۔ جوڑوں میں درد رہنا،4۔ بھوک میں کمی،5۔ خارش کا ہونا،6۔ بخار کی کیفیت،7۔ متلی یا الٹی ہونا، 8۔ ہاتھوں، پیروں کا سن ہونا۔

بیماری میں پیچیدگی کی علامات:

1۔ دماغی توازن کا بگڑنا (hepatic encephalopathy)،2۔ الٹی یا پاخانے میں خون آنا،3۔ پیٹ میںپانی کا پڑنا،4۔ cirrhosis liver کا ہو جانا، 5۔ کالے رنگ کے پاخانے آنا

مرض کیسے پھیلتا ہے:

1۔ متاثرہ شخص کے خون کے انتقال سے (blood donation)، 2۔ متاثرہ مریض کے آلات جراحی کے استعمال سے، 3۔ مشترکہ سرنج کے استعمال سے (نشے کے عادی افراد میں )، 4۔ متاثرہ شخص کے زیر استعمال بلیڈیا استرے کے استعمال سے (شیو کے لیے)، 5۔ دانتوں کے علاج میں استعمال ہونے والے اوزاروں سے۔

بچاؤ:

1۔ انجکشن کیلئے ہمیشہ نئی سوئی استعمال کریں۔

2۔ حجامت کیلئے نیا استرا، بلیڈ استعمال کریں۔

3۔ آلاتِ جراحی کا جراثیم سے پاک ہونا ضروری ہے۔

4۔ خواتین ناک کان چھدواتے ہوئے ہمیشہ نئے اوزار کے استعمال پر زور دیں۔

5۔ اپنا میڈیکل چیک اپ کرواتے رہیں۔

6۔ اولڈہومز، یتیم خانوں میں اس مرض کا چیک اپ ضرور ہونا چاہیے۔

7۔ قیدیوں میں بھی تشخیص معمول کا کام ہونا چاہیے۔

یاد رکھیں!ہیپاٹائٹس سی کی کوئی ویکسین نہیں ہے۔ بیماری کی تشخیص کے بعد فوری علاج مریض کی جان بچا سکتا ہے۔ اس کے لیے اپنے معالج سے رابطہ کریں۔ ہیپاٹائٹس کی بیماری کو بہت سنجیدگی سے لینا چا ہیے اور علاج میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس مرض کے علاج کے لیے عطائیوں ، غیر مستند اور غیر رجسٹرڈ معالجین سے ہرگز علاج نہیں کروانا چاہیے کیونکہ اس طرح مرض کے مزید بگڑ جانے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔

(ڈاکٹر نوید بٹ پولی کلینک ہسپتال، اسلام آباد میں بطور paediatrician اور neonatologist خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن خواتین برانچ کی سینٹرل ایگزیکو کونسل کی رکن ہیں جبکہ ڈاکٹر نائلہ اقرا peadiatrics میں پوسٹ گریجوٹ traineeہیں ۔)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔