بینظیر فلائی اوور کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا، 24 ایمبولینسیں بلدیہ عظمیٰ کے حوالے

اسٹاف رپورٹر  منگل 17 ستمبر 2013
وزیر بلدیات اویس مظفر اسپتالوں کے لیے 24 ایمبولینسیں بلدیہ عظمیٰ کے حوالے کرنے کے موقع پر فیتہ کاٹ کر افتتاح کررہے ہیں۔  فوٹو : ایکسپریس

وزیر بلدیات اویس مظفر اسپتالوں کے لیے 24 ایمبولینسیں بلدیہ عظمیٰ کے حوالے کرنے کے موقع پر فیتہ کاٹ کر افتتاح کررہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

کراچی: وزیر بلدیات و صحت اویس مظفر نے پیر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں شہید بینظیر بھٹو فلائی اوور (شاہین کمپلیکس) اور مادر جمہوریت انڈرپاس (ہوٹل مہران) کا سنگ بنیاد رکھا اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسپتالوں کے لیے خریدی گئی۔

24 خصوصی ایمبولینس بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ کے حوالے کیں ،اس موقع پر وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن ، وزیرکچی آبادی جاوید ناگوری، سینیٹر سعید غنی، ایڈمنسٹریٹر کراچی ثاقب احمد سومرو، میٹروپولیٹن کمشنر سمیع الدین صدیقی ، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ڈائریکٹر جنرل محکمہ انجینئرنگ نیاز احمد سومرو ،سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز مسعود عالم، سینئر ڈائریکٹر میڈیکل سروسز ڈاکٹر محمد علی عباسی ، متعلقہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

صوبائی وزیر بلدیات وصحت اویس مظفر نے شہید بینظیر بھٹو فلائی اوور (شاہین کمپلیکس) اور مادر جمہوریت انڈر پاس( ہوٹل مہران) کی تختی کی نقاب کشائی کی اور فیتہ کاٹ کر ایمبولینسز کا افتتاح کیا، بعد ازاں انھوں نے کہا کہ شارع فیصل پر مہران ہوٹل کے قریب مادر جمہوریت انڈرپاس اور شاہین کمپلیکس کے قریب شہید بینظیر بھٹو فلائی اوور کی تعمیر کے بعد ان دونوں مقامات پر ٹریفک کے دباؤ میں کمی آئے گی، ٹریفک آسانی سے گزر سکے گی، ان دونوں منصوبوں کی تعمیر کے لیے8 ماہ کا وقت مقرر کیا گیا ہے تاہم کوشش کی جائے گی کہ یہ منصوبے 6 ماہ میں مکمل ہوجائیں۔

تعمیراتی کام کے دوران عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو ، انھوں نے کہا کہ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد عوام کو بھرپور سہولت میسر آسکے،اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر کراچی ثاقب احمد سومرو نے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مہران ہوٹل کے قریب تعمیر ہونیوالا مادر جمہوریت انڈر پاس کوریڈور 4 کا حصہ ہے۔

یہ کوریڈور پی آئی ڈی سی سے شروع ہو کر قائد آباد تک جاتا ہے ، اس انڈر پاس کی تعمیر سے یہ چوراہا سگنل فری ہوجائے گا اور اس انڈر پاس کو کینٹ اسٹیشن سے صدر اور صدر سے کینٹ اسٹیشن جانے والی ٹریفک استعمال کرسکے گی ، انھوں نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو فلائی اوور شاہین کمپلیکس چورنگی پر تعمیر کیا جائے گا جس کی لاگت کا تخمینہ 536 ملین روپے ہے،اس فلائی اوور کی کل لمبائی 175 میٹر جبکہ دونوں جانب ریمپ کی لمبائی 303 میٹر ہوگی۔

ہوٹل مہران کے چوراہے پر تعمیر ہونیوالے مادر جمہوریت انڈر پاس کی تخمینی لاگت تقریباً 459 ملین روپے ہے،اس کی کل لمبائی 338 میٹر ہے ، اس کی اونچائی 6 میٹر ہے ان دونوں منصوبوں کی فنڈنگ حکومت سندھ کر رہی ہے، ان دونوں منصوبوں کی تکمیل کی مدت 8 ماہ ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسپتالوں کے لیے 20 ملین روپے کی لاگت سے خریدی گئی 24 ایمبولینس گاڑیاں ایمرجنسی رسپانس سروس 1122 کے تحت ہوںگی، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے 13 بڑے اسپتالوں کو دی جائیں گی جن میں عباسی شہید اسپتال، کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز، کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ، سوبھراج میٹرنٹی اسپتال، لپیروسی اسپتال منگھو پیر، کارڈیک ایمرجنسی سینٹر لانڈھی، کارڈیک ایمرجنسی سینٹر شاہ فیصل کالونی، لانڈھی میڈیکل کمپلیکس، گزدرآباد جنرل اسپتال، سرفراز رفیقی شہید اسپتال ، پاک کالونی میٹرنٹی ہوم ، گزری میٹرنٹی ہوم اور دیگر اسپتال شامل ہیں جبکہ گورنر ہاؤس اور چیف منسٹر ہاؤس ڈسپنسری میں بھی یہ گاڑیاں موجود رہیں گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔