چیئرمین بورڈ بھی سابق کرکٹرز پر طنز کے تیر چلانے لگے

اسپورٹس رپورٹر  منگل 17 ستمبر 2013
ٹیم کی بھلائی کے لیے تنقید کرتے ہیں، کسی عہدے کا لالچ نہیں، سابق اسٹارز  فوٹو: ایکسپریس/ فائل

ٹیم کی بھلائی کے لیے تنقید کرتے ہیں، کسی عہدے کا لالچ نہیں، سابق اسٹارز فوٹو: ایکسپریس/ فائل

لاہور: کپتان مصباح الحق کے بعد نگران چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی بھی سابق کرکٹرز پر طنز کے تیر چلانے لگے۔

گذشتہ دنوں انھوں نے کہا کہ زمبابوے میں ہار سے آسمان نہیں گر پڑا، تنقید کرنے والے بورڈ میں نوکریاں مانگ رہے ہیں،ان کی بات ماننے کو تیار نہیں، اس پر سابق اسٹارز کا شدید ردعمل سامنے آیا، ان کا کہنا ہے کہ ٹیم کی بھلائی کیلیے تنقید کرتے ہیں، کسی عہدے کا لالچ نہیں۔ تفصیلات کے مطابق دورۂ زمبابوے میں نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع نہ دینے کی پالیسی کو سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور میڈیا کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا، پہلے ٹیسٹ میں یونس خان اور سعید اجمل کی کارکردگی نے پاکستان کو شکست سے بچاکر فتح کی منزل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تو میڈیا سے گفتگو میں مصباح الحق پھٹ پڑے، انھوں نے کہا کہ اگر سینئرز بھی پرفارم نہ کرتے تو میچ ہار جاتے، جونیئرز کی شمولیت پر اصرار کرنے والے گندے لوگ ہیں۔

اب نجم سیٹھی نے بھی ایسا ہی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے گذشتہ دنوں کہا کہ یونس خان کو کھلانے پر بھی تنقید ہوئی لیکن ان کی پرفارمنس غیر معمولی رہی، گذشتہ 6 ماہ میں ٹیم نے اچھی کارکردگی دکھائی،کمزور حریف سے ہارنا مایوسی کی بات ضرور ہے لیکن کوئی آسمان نہیں گرگیا، دیگر انسانوں کی طرح سلیکٹرز اور کھلاڑیوں سے بھی غلطیاں ہوسکتی ہیں، سابق ٹیسٹ کرکٹر نئے پلیئرز کو مواقع دینے کی وکالت کرتے رہے ہیں، دیکھ لیں انھوں نے کیسا پرفارم کیا، تنقید برائے تنقید کرنے والے دراصل بورڈ میں نوکریاں مانگ رہے ہیں لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔

جب اس حوالے سے نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ نے چند سابق کرکٹرز سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ ہم اگر کوئی جواب دیں گے تو پھر ایک بحث چھڑ جائے گی، البتہ اتنا ضرور کہیں گے کہ ہم ٹیم پر تنقید اس کی بھلائی کیلیے کرتے ہیں، ہمارا کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا، ہمیں کسی عہدے کی بھی لالچ نہیں ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔