ایک متروک مگر موثر ذریعہ اظہار

شاہد سردار  اتوار 28 جولائ 2019

انسانی خواہشات اور جبلت پرکوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ ہر قسم کی پابندیوں کے باوجود انسان قدرتی اور تفریحی تقاضے کسی نہ کسی طرح پورے کر ہی لیتا ہے۔ یہ رواج ہمیشہ سے تھا اور رہتی دنیا تک رہے گا۔ریڈیو بھی کسی زمانے میں ہر خاص و عام کی تفریح اور وابستگی کے ساتھ ساتھ دنیا بھرکی خبروں اور معلومات کا موثر ترین ذریعہ تھا۔

بندر روڈ المعروف ایم اے جناح روڈ کراچی پر ریڈیو پاکستان کی قدیم گنبد والی عمارت اپنے موثر ذریعہ ابلاغ کے علاوہ بھی بہت بارعب سمجھی جاتی تھی اسے سامنے سے کھڑے ہوکر دیکھنا لوگ اپنی شان سمجھتے اور اس کے اندر جانے کی حسرت دل میں لیے پھرتے تھے۔ ریڈیو پاکستان کراچی کے اطراف میں موسیقی کے آلات کی متعدد دکانیں اور چائے خانے آباد تھے جہاں استاد بڑے غلام علی خاں، مہدی حسن سے لے کر احمد رشدی اور نثار بزمی سے لے کر سہیل رعنا تک کی بیٹھک رہتی تھی۔

بلاشبہ اس زمانے میں ریڈیو تمام چھوٹے بڑے فنکاروں، موسیقاروں، شاعروں اور گلوکاروں کی پناہ گاہ اور ان کے فن کے مظاہروں کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ ریڈیو اس دور میں صحیح معنوں میں اہل فن کی تربیت گاہ بھی تھا۔اداکاری، صداکاری، گلوکاری، موسیقاری، صدا بندی اور نغمہ نگاری کے شعبوں میں بعد میں جن فنکاروں اور ہنرمندوں نے نام پیدا کیا یہ سب کے سب ریڈیو ہی کی پیداوار تھے اور انھیں ریڈیو کے ذریعے ہی شہرت اور پذیرائی ملی تھی۔

افسوس ہمارے ہاں برسہا برس سے ریڈیو ایک متروک ذریعہ اظہار بن کر رہ گیا ہے۔ نئی نسل کی غالب اکثریت انٹرنیٹ کی ہوکر رہ گئی ہے اور یہی اس کا اوڑھنا بچھونا بن گیا ہے۔ ٹیلی ویژن کے سیکڑوں چینلز ہیں لیکن وہ پاپ میوزک، کنسرٹ اور اوٹ پٹانگ مغربی موسیقی کے علم بردار بن کر رہ گئے ہیں۔ ریڈیو کے غیر فعال ہونے سے ہمارے ہاں فن موسیقی بالخصوص کلاسیکی موسیقی اپنی موت آپ مر چکی ہے۔

یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ پوری دنیا چاہے وہ ترقی یافتہ ہو یا نہ ہو ریڈیو اب تک ہر جگہ ہر مقام پر سنا جاتا ہے۔ ریڈیو کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر اب بھی ہر ہفتے ریڈیو کے ذریعے قوم سے خطاب کرتے ہیں۔ برطانیہ میں ہر شہر کا اپنا الگ ریڈیو اسٹیشن ہے جو اپنے اپنے علاقوں کی خبریں نشر کرتا اور موسم کا حال بتاتا ہے، سڑکوں پر روانی کی کیفیت بتاتا ہے، کہاں کیا ہو رہا ہے، کہاں جانا مناسب نہیں، برطانیہ کے ہر ریڈیو سے اس کی معلومات لوگوں کی گاڑیوں میں لگے ریڈیو سے مل جاتی ہے، الغرض پوری مغربی دنیا آج اکیسویں صدی میں بھی ریڈیو میں زندہ ہے۔ جب کہ بھارت نے اپنے ریڈیو اسٹیشن کے نئے نئے جال اپنے ملک میں بچھا دیے ہیں اور پاکستان کی اپنی تمام سرحدوں پر اس نے ایسے صوتی آلات نصب کردیے ہیں جو ریڈیو پاکستان کی نشریات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

کون نہیں جانتا وطن عزیز میں کبھی ریڈیو قومی علامت ہوا کرتا تھا۔ ریڈیو بولتا نہیں تھا، اس کے اندر زندگی بولتی تھی۔ انسان کے جذبے، احساسات، اس کی فطرت، فکر اور سوچ بولتی تھی۔ لوگوں کے دن بالخصوص شامیں ریڈیوکی شامیں ہوا کرتی تھیں، وہ ساری کی ساری یوں رخصت ہوئیں جیسے تماشا دکھا کر مداری گیا۔

پاکستان کے دیہی علاقوں میں سہولیات کی محرومی اور شہری علاقوں میں زندگی کی تیزی ریڈیو کی ضرورت کو آج بھی دوچند کر رہی ہیں لیکن ہمارے کم عقل ارباب اختیار نے جس طرح فلم جیسے سب سے بڑے اور طاقتور ذریعہ اظہارکو تقریباً جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ ایسا ہی سلوک وہ ریڈیو سے بھی کر رہے ہیں۔ حالانکہ ضرورت اس موثر ذریعہ اظہار کو پھر سے فعال کرنے کی ہے۔ لیکن ہو اس کے قطعی برعکس رہا ہے۔

سرگودھا ، ایبٹ آباد ، راولپنڈی کی بیشتر نشرگاہیں،کراچی کے چند اسٹیشن کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں پورے ملک کے لیے ریڈیوکا جو تربیتی ادارہ تھا ، اسے بھی بند کردیا گیا ہے۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ریڈیو ہر ملک کی شناخت یا پہچان ہوتا ہے اور ہر وہ قوم اسے سنبھال کر رکھتی ہے جو آواز کے ذریعے پوری دنیا سے جڑی رہنا چاہتی ہے۔ اس لیے کہ ہر علاقے میں قائم نشرگاہ صرف معلومات یا تفریح فراہم نہیں کرتی، اپنی ثقافت، تہذیب، تمدن، روایات اور اقدار کی ترویج کا بھاری فریضہ بھی سرانجام دیتی ہے۔ایک چھوٹے سے ریڈیو اسٹیشن سے علاقے کے دانشور، جید، ادیب، شعرا، مدبر، معلم، گلوکار، فنکار اور جہاندیدہ لوگ کتنا فیض حاصل کرتے ہیں وہ سر میں دماغ نہ رکھنے والے کبھی جان ہی نہیں سکتے۔

پاکستان میں جہاں تقریباً ہر چیز زوال پذیری کی حدوں کو چھونے میں مصروف ہے، وہیں ذرائع ابلاغ بھی سسک سسک کر دم توڑنے کے قریب ہیں۔ ہمارے ارباب اختیارکی اس مجرمانہ غفلت اور رویے سے پتا چلتا ہے کہ مسند اقتدار تک پہنچنے کے لیے فہم و فراست کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جتنی اہل شعور سمجھتے ہیں۔کاش ذرائع ابلاغ کی باریکیوں اور نزاکتوں کو سمجھنے والے حکمران ہمیں نصیب ہوتے تو دنیا ہمارے نصیب پر رشک کرتی۔

اس بات میں بھی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ ریڈیو ایک قومی علامت ہوا کرتا ہے۔ کسی بھی ملک کی پہچان ہوتا ہے۔اس کی حفاظت کی جاتی ہے، اس کی سلامتی کے بندوبست ہوتے ہیں۔ جن ملکوں میں حکومت کے خلاف بغاوت ہوتی ہے تو سب سے پہلے اس کی نشرگاہوں پر قبضہ کیا جاتا ہے یا پھر اس کی نشرگاہ پر پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں دنیا سے نرالا کام ہو رہا ہے، ہر شعبہ حیات میں جھاڑو پھیرنے کا عمل جاری و ساری ہے۔ حکمران کو ملک و ملت سے زیادہ اپنے اقتدار سے غرض و محبت ہے۔

ہر انسان اور ہرگھر کے جو مسائل ہوتے ہیں اسی طرح ملکوں اور ان کے حکمرانوں کے بھی مسائل ہوتے ہیں جنھیں نہ دوسرے حل کرسکتے ہیں اور نہ انھیں دوسروں کو سمجھایا جاسکتا ہے۔ ہمارے ملک کے چلانے والوں کو ملک کے مسائل و مصائب کی فکر کرنی چاہیے۔ بالخصوص ذرائع ابلاغ کی بہتری،کشادگی یا وسعت اور اس میں جدت ان کے لیے بطور خاص کام کرنا چاہیے کہ ذرائع ابلاغ محض معلومات اور تفریح ہی نہیں دیتے، وطن کا موقف بھی دیار غیر کے لوگوں پر واضح کرتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔