شعیب اختر سابق کرکٹرز کو کوچ بنانے کے مخالف

اسپورٹس رپورٹر  اتوار 28 جولائ 2019
نام کی بدولت عہدہ چاہتے ہیں، بیشتر کو جدید کرکٹ کے بارے میں ٹکے کا پتہ نہیں۔ فوٹو: فائل

نام کی بدولت عہدہ چاہتے ہیں، بیشتر کو جدید کرکٹ کے بارے میں ٹکے کا پتہ نہیں۔ فوٹو: فائل

لاہور: شعیب اختر نے سابق کرکٹرز کو کوچ بنانے کی مخالفت کر دی، ان کے مطابق وہ صرف اپنے نام کی بدولت عہدہ پانا چاہتے ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے کئی سینئر کرکٹرز سے میری بات ہوئی، ان میں سے بیشتر کو جدید کرکٹ کے بارے میں ٹکے کا پتہ نہیں۔

ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ میں نے 4 سابق کرکٹرز سے پوچھا کہ ون ڈے میچز میں تیسرے دائرے میں کتنے فیلڈرز ہوتے ہیں،چاروں کو کچھ معلوم نہیں تھا، کئی سابق کرکٹرز سے یہ بھی پوچھا کہ پہلے پاور پلے میں اسٹرائیک ریٹ کتنا ہونا چاہیے،روہت ، جونی بیئراسٹو، بٹلر اور روٹ وغیرہ کس اسٹرائیک سے رنز بناتے ہیں،کسی کوکچھ معلوم نہیں تھا،سارے اپنے بڑے نام کی بدولت کوچ بننا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کی کرکٹ میں سفارشی آجاتے ہیں، جب تک جدید کرکٹ سے شناسائی رکھنے والوں کو نہیں لایا جاتا معاملات میں بہتری نہیں آسکتی،محمد یوسف، سعید انوراور محمد وسیم کو جدید تقاضوں کی سمجھ بوجھ ہے،یونس خان سے جونیئر سطح پر کھلاڑیوں کی صلاحتیں نکھارنے کیلیے کام لینا چاہیے،مجھ سے کہیں کہ 20فاسٹ بولرز تلاش کرکے دیں، موزوں افراد کا ایک گروپ مل کر کام کرے تو کرکٹ کی معاملات میں بہتری آنا شروع ہوجائیگی۔

شعیب اختر نے کہا کہ سرفراز احمد کو کسی بھی فارمیٹ میں کپتان نہیں ہونا چاہیے، انھیں صرف وکٹ کیپر بیٹسمین کے طور پر موقع دیا جائے، ٹیسٹ ٹیم قیادت بابر اعظم، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی حارث سہیل کے سپرد ہونا چاہیے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔