پیسہ کوئی نہیں دے گا

محمد سعید آرائیں  منگل 30 جولائ 2019

تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کیلئے سبسکرائب کریں

وزیر اعظم عمران خان نے امریکا میں پھر کہا ہے کہ ’’ دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے، این آر او نہیں دوں گا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کرپشن سے جو پیسہ کمایا ہے وہ واپس کردو اور باہر چلے جاؤ یا جیل سے باہر آجاؤ۔ پیسہ کھانے والوں پر شیخ رشید نے بھی احسان کیا تھا اور وزیر اعظم سے سفارش کی تھی کہ دفع کرو اور پیسہ لے کر انھیں ملک سے باہر جانے دو۔

لوگ وزیر اعظم کے رویے پر حیران ہیں کہ وہ ملک ہی میں نہیں ملک سے باہر بھی کہہ رہے ہیں کہ کوئی بادشاہ سے سفارش کرا لے، دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے، این آر او نہیں دوں گا اور اب یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پیسہ واپس کرو اور جیل سے باہر آجاؤ۔

ایک ٹی وی چینل کے مطابق مارچ میں نواز شریف کو پیشکش کی گئی تھی کہ وہ پیسہ واپس کریں اور ملک کی سیاست چھوڑ کر 5 سال کے لیے ملک سے باہر چلے جائیں۔ مریم نواز نے بھی اشاروں میں کہا ہے کہ انھیں این آر او لینے کی پیشکش کی جا رہی ہے مگر این آر او نہیں لیا جائے گا اور جج کو ہٹائے جانے کے بعد نواز شریف کو باعزت طور رہا کیا جائے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف پاناما میں عدالت آئے اور اقامہ میں نااہل قرار پائے۔ وہ احتساب جج کے ہاتھوں بیٹی اور داماد سمیت سزایاب اور بعد میں عدالت عالیہ سے ضمانت پر باہر آئے جو مقدمہ زیر سماعت مگر تاخیر کا شکار ہے اور اب ستمبر میں زیر سماعت آئے گا۔ نواز شریف ہٹائے جانے والے احتساب جج ملک ارشد کے ہاتھوں منی ٹریل نہ دینے پر ایک مقدمے میں سزا یاب اور دوسرے میں رہا ہوئے۔ نواز شریف اب بھی متعدد معاملات میں زیر تفتیش ہیں مگر وہ مسلسل دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے کوئی کرپشن نہیں کی کوئی کمیشن کوئی کک بیک نہیں لی۔

ایک لحاظ سے نواز شریف کے بیانیے میں حقیقت بھی ہے کیونکہ ان پر اب تک کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی اور انھیں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے منی ٹریل پیش نہ کرنے پر سزا سنائی گئی ہے۔ حکومتی حلقوں کا یہ موقف بھی درست ہے کہ نواز شریف نے بیرون ملک جو جائیدادیں بنائی ہیں اس کی خریداری کے لیے ان کے پاس رقم کہاں سے آئی اور ان کے دونوں بیٹوں کے پاس بھی اتنی دولت کہاں سے آگئی کیونکہ کم عمری میں کاروبار کرکے وہ اتنی دولت جمع نہیں کرسکتے تھے ظاہر ہے کہ یہ دولت نواز شریف کے بیٹوں کی نہیں بلکہ نواز شریف کی یہ وہ رقم ہے جو انھوں نے اپنے بیٹوں کو دی۔

نواز شریف نے قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کی حیثیت سے کہا تھا کہ ان کی بیرون ملک جو جائیداد ہے اس کا وہ ثبوت پیش کریں گے مگر معاملہ عدالت میں جانے کے بعد عدالت ان سے منی ٹریل طلب کرتی رہی مگر وہ منی ٹریل پیش کرنے میں ناکام رہے ۔

نواز شریف نے اپنی دوسری حکومت میں آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف اپنے نام نہاد احتساب کمیشن جس کے سربراہ سیف الرحمن تھے انھوں نے بلاشبہ نواز شریف کے سیاسی مخالفین جن میں آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو نمایاں تھے کے خلاف مختلف جھوٹے اور بے سروپا مقدمات بنائے تھے جو سرکاری طاقت کے باعث کسی ثبوت کے بغیر بنوائے گئے تھے جو سالوں عدالتوں میں زیر سماعت رہے ۔حکومتیں بدلتی رہیں درمیان میں جنرل پرویز مشرف کا دور بھی آیا جس میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو جلا وطن اور آصف زرداری جیل میں رہے اور آصف زرداری کا دعویٰ ہے کہ وہ جھوٹے مقدمات میں گیارہ سال جیل میں رہے اور مقدمات عدالتوں میں ثابت نہیں کیے جاسکے اور وہ رہا ہوگئے تھے۔

1988 سے 1999 تک ملک میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی باری باری حکومتیں رہیں۔ آصف زرداری پر بھی الزامات لگائے گئے جن کی وجہ سے طویل عرصہ جیل میں رہے جس میں نواز شریف دور کے ساتھ جنرل پرویز مشرف کا طویل دور بھی شامل تھا جس میں ضمانت لے کر آصف زرداری بیرون ملک چلے گئے۔ جنرل پرویز مشرف نے (ق) لیگ سے مایوس اور مسلم لیگ (ن) کو نظرانداز کرکے بے نظیر بھٹو سے یو اے ای جاکر خود ملاقات بھی کی، جس کے بعد جنرل پرویز مشرف کا بے نظیر بھٹو کے ساتھ این آر او ہوا۔

اس کا فائدہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ایم کیو ایم کو بھی ہوا تھا اور نواز شریف پہلے ہی جنرل پرویز مشرف سے معاہدہ کرکے سیاست سے دس سالہ دور رہنے کا تحریری معاہدہ کرکے خود جلاوطن ہوئے تھے۔ مسلم لیگ (ق) میں پیپلز پارٹی پیٹریاٹ گروپ کے ساتھ بنائی گئی حکومت جس میں ایم کیو ایم بھی شامل تھی جنرل پرویز مشرف کے اعتماد پر پوری نہیں اتری تھی جس کی وجہ سے انھوں نے مسلم لیگ (ن) پر پیپلز پارٹی کو ترجیح دے کر این آر او کرکے مقدمات واپس کرائے تھے، جو ان کی سیاسی مجبوری تھی جس سے ثابت ہوا تھا کہ مقدمات جھوٹے تھے جو بعد میں سیاسی مفاد کے لیے واپس لیے گئے۔

نواز شریف جنرل پرویز مشرف حکومت میں جیل میں بھی رہے انھیں جہاز میں ہتھکڑیوں سے باندھ کر لایا جاتا تھا جب کہ آصف زرداری نے وزیر اعظم عمران خان کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ میں پہلے بھی جیل کی بیرکوں میں رہا ہوں۔ پیسے درختوں پر نہیں لگتے اگر جھاڑیوں پر لگے ہیں تو وزیر اعظم جا کر لے لیں۔ شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے نواز شریف کو سہولت ہی کون سی دی تھی کہ واپس لے گی؟

نواز شریف کو جیل میں اے سی کی جو سہولت ملی ہے وہ ڈاکٹروں کے کہنے پر ملی ہے کیونکہ وہ دل کے مریض ہیں۔ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت کا یہ بڑا کارنامہ ہے کہ ایک سابق صدر اور دو سابق وزرائے اعظم جیل میں ہیں اور اب وہ آصف زرداری اور نواز شریف سے جیل میں اے سی اور ٹی وی کی سہولت بھی واپس لے لیں گے۔ ویسے بھی شیخ رشید نے نواز شریف کو میانوالی جیل میں رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ شیخ رشید پیسے لے کر نواز شریف کو باہر بھیجنے کے بھی حامی ہیں۔ وزیر اعظم یہ بھی کہتے ہیں کہ میری حکومت میں گرفتار رہنماؤں کے خلاف مقدمات نہیں بنائے تو وہ کریڈٹ کس چیز کا لے رہے ہیں؟

بدعنوانوں سے پیسہ حکومت نہیں نیب نکلوانے کا اختیار رکھتی ہے اور نواز شریف اور آصف زرداری نیب سے کبھی بارگیننگ نہیں کریں گے۔ جیل اور گرفتاری سے انھیں سیاسی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے اور پیسہ واپس کرنے کا مطلب اعتراف جرم ہوگا جس سے ان کی سیاست تباہ ہوجائے گی۔ نواز شریف امریکی اخبار کی خبر کی تردید نہیں کر رہے جس میں ان پر الزام ہے۔ وزیر اعظم کچھ بھی کرلیں انھیں ایک پیسہ بھی واپس نہیں ملے گا۔ وہ جیل میں رہنا گوارا کرلیں گے مگر کوئی پیسہ واپس نہیں کریں گے اور وقت کی تبدیلی کا انتظار کرلیں گے کیونکہ یہاں ماضی کے قیدی اقتدار میں آتے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔