اسٹیٹ بینک کی عوام کو بایو میٹرک تصدیق کے نام پر فراڈ سے بچنے کی ہدایت

بزنس رپورٹر  منگل 30 جولائ 2019
فون کال وصول کرنے والے افراد سمجھتے ہیں کہ یہ کال حقیقی ہے یا ان کے بینک کی طرف سے ہے (فوٹو: فائل)

فون کال وصول کرنے والے افراد سمجھتے ہیں کہ یہ کال حقیقی ہے یا ان کے بینک کی طرف سے ہے (فوٹو: فائل)

 کراچی: اسٹیٹ بینک نے صارفین کو دھوکے باز افراد سے ہوشیار رہنے کی ہدایت دی ہے جو بایو میٹرک تصدیق کے نام پر فون کرکے صارفین سے ان کے بنک اکاﺅنٹ کی تفصیلات حاصل کرکے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق ایسے بہت سے واقعات میں یہ کام جعلی فون کالز کے ذریعے کیا جارہا ہے جس کے لیے دھوکے باز افراد اپنا فون نمبر بینکوں کی باضابطہ ہیلپ لائن یا رجسٹرڈ نمبروں کے پیچھے چھپالیتے ہیں۔

فون کال وصول کرنے والے افراد سمجھتے ہیں کہ یہ کال حقیقی یا ان کے بینک کی طرف سے ہے چنانچہ وہ اپنی ذاتی معلومات بشمول بینک اکاﺅنٹ نمبر، آئی ڈی، پاس ورڈ، کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبر وغیرہ بتادیتے ہیں جس کے نتیجے میں کال کے دوران بھی رقوم کا نقصان پہنچادیا جاتا ہے۔

یہ دھوکے باز افراد خود کا عام طور پر اسٹیٹ بینک کا افسر، فوجی افسر یا اعلیٰ عدلیہ وغیرہ کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں اور اکاﺅنٹس کی بایو میٹرک تصدیق کا بہانہ بناتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے عوام کو مطلع کیا ہے کہ وہ آنے والی کالز پر اہم ذاتی معلومات بتانے کے بجائے اپنے بینک کے رجسٹرڈ نمبروں اور ہیلپ لائن سے خود رابطہ کریں۔

اسٹیٹ بینک نے مزید کہا ہے کہ کمرشل بینک یا مائیکرو فنانس بینک سمیت اسٹیٹ بینک بھی فون کالز کرکے بینکوں کے موجودہ صارفین کی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز نہیں کرتے اگر عوام کو ایسی کال موصول ہوتو وہ ان واقعات کی تفصیلات قانون نافذ کرنے والے اداروں یا اسٹیٹ بینک کی ہیلپ لائن 021-111-727-273 یا ای میل [email protected] پر مطلع کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔