ہر فارمیٹ کی کارکردگی دیکھ کر سلیکشن ہونی چاہیے

حسان خالد  منگل 30 جولائ 2019
قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل کی کہانی

قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل کی کہانی

2002ء کے آخر میں پاکستان نے وقار یونس کی قیادت میں ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کے لیے پہلے زمبابوے اور پھر جنوبی افریقہ کا دورہ کرنا تھا۔ راشد لطیف بطور وکٹ کیپر ٹیم کے ساتھ تھے۔

بورڈ نے متبادل وکٹ کیپر کی حیثیت سے نوجوان وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا تھا۔ پوری ٹیم کو مقررہ دن لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں اکٹھا ہونا تھا۔ یہ نوجوان کرکٹر کامران اکمل کی زندگی کا بڑا دن تھا۔ جن عظیم کھلاڑیوں کو وہ قذافی اسٹیڈیم کے جنگلے کے پیچھے سے کھیلتے ہوئے دیکھتے، ان سے ہاتھ ملانا اپنی خوش قسمتی تصور کرتے، اب وہ ان کے ساتھ ایک جہاز پر بیٹھ کر سفر کریں گے۔ یہ ایک خواب کی طرح لگ رہا تھا۔ اور اگر اپنے ہیروز کے ساتھ کھیلنے کا موقع بھی مل گیا؟ یہ خیال آتے ہی نوجوان کھلاڑی کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگتی تھیں۔

خیر مقررہ دن آ گیا۔ گلبرگ کی ماڈل کالونی کے ایک گھر میں وہ گویا عید کا دن تھا۔ رکشہ بلایا گیا۔ کھلاڑی نے اپنا بیگ رکشے میں رکھا، والدین سے دعائیں لیں اور مال روڈ پر واقع ہوٹل کے لیے روانہ ہو گیا۔ وہ وہاں پہنچنے والوں میں سے، سب سے پہلا تھا۔ اس نے گھڑی پر نظر ڈالی، ابھی ٹیم کو دیئے گئے وقت میں تین گھنٹے رہتے تھے۔ آگے اس کھلاڑی کے ساتھ کیا ہو گا؟ کوئی نہیں جانتا تھا۔ لیکن یہاں تک پہنچنا کون سا آسان تھا۔ وہ ایک کونے میں بیٹھ کر ٹیم کا انتظار کرنے لگا۔

٭٭٭

کامران اکمل نے 13 جنوری 1982ء کو لاہور کے ایک لوئر مڈل کلاس گھرانے میں آنکھ کھولی۔ والد لوہے اور ویلڈنگ کا کام کرتے تھے۔ سات بھائیوں میں منجھلے کامران اکمل کے بچپن میں دو ہی شوق تھے: پتنگ بازی اور کرکٹ۔ جہاں حد سے زیادہ پتنگ بازی پر گھروالوں سے مار پڑتی، وہاں کرکٹ کھیلنے پر شاباش اور تعریف حصے میں آتی۔ یہ حیرت کی بات اس لیے نہیں تھی کہ کرکٹ خود والد کا شوق تھا، وہ اپنے بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ ٹیپ بال کرکٹ کھیلنے جاتے تو کامران اکمل بھی چھوٹی سی عمر میں ان کے ساتھ ہو لیتے۔ بڑوں کے درمیان باری تو کیا ملتی، یہ سارا سارا دن وکٹ کیپنگ اور فیلڈنگ کر کے ہی خوش ہو جاتے۔ آہستہ آہستہ منظر بدلنے لگا۔ اب والد کی مصروفیات کی وجہ سے ان کی کرکٹ کم ہو رہی تھی اور کامران گلی محلے کی ٹیم کے بہترین کھلاڑی بن چکے تھے۔

اب کامران اکمل کھیلتے اور والد ان کو کھیلتے ہوئے دیکھ کر اپنا شوق پورا کر لیتے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا جس لیول پہ بھی کھیلے، لیکن بس کرکٹ کھیلتا رہے۔ دو کمروں کا گھرتھا، اس چھوٹے سے گھر میں بھی کامران اکمل، والد کے ساتھ کرکٹ کھیل لیتے۔ خوش قسمتی سے والد اور فیملی کی ایسی سپورٹ ہو، خود بھی کرکٹ کھیلنے کا جنون ہو، تو کون کافر کرکٹ چھوڑنے کا سوچ سکتا ہے۔ پڑھائی میں دل کہاں لگتا تھا۔

کلب کرکٹ کے لیے کامران اکمل ماڈل ٹائون کرکٹ سنٹر کا حصہ بنے اور آنے کے ساتھ ہی ٹیم میں بھی شامل ہو گئے۔ کرکٹ کا سامان خریدنے کے لیے شروع میں خود بھی کچھ کام کیا، پھر بڑے بھائی عرفان اوور ٹائم کر کے انہیں کچھ پیسے دے دیتے۔ والد کے دوست جاوید نواب نے بھی بڑا تعاون کیا۔ ٹریننگ، پریکٹس اور میچ کے لیے انہیں سائیکل یا موٹر سائیکل پر والد خود ساتھ لے آتے۔ کئی مرتبہ گلبرگ سے ماڈل ٹائون گرائونڈ تک پانچ کلومیٹر کا یہ راستہ بیگ اٹھا کر پیدل بھی طے کرنا پڑتا۔ فیملی کے بعد ان کے کلب نے، ماڈل ٹائون کرکٹ سنٹر ، ان کے لیے بہت کچھ کیا۔ انہوں نے یہاں صحیح معنوں میں کرکٹ سیکھی۔ کلب کے کپتان ’نوشاد بھائی‘ نے بہت حوصلہ افزائی کی۔ وہ ایف سلطان اور سید ایزل کا نام بھی احترام سے لیتے ہیں۔ کپتان نے انہیں بتایا ہوا تھا کہ وہ کلب کرکٹ میں سو سو، ڈیڑھ سو رنز کریں گے، پورے اوور کھیلیں گے، تو آگے چل کر ڈومیسٹک کرکٹ میں چالیس، پچاس رنز کرنے کے قابل ہوں گے۔ دونوں کے معیار میں اتنا فرق ہے۔

1996ء میں پاکستان کی انڈر 15ٹیم نے برطانیہ کا دورہ کرنا تھا، جس کے لیے لاہور میں ٹرائل ہو رہے تھے۔ کامران اکمل نے بھی بطور بلے باز ٹرائل دیا اورمنتخب ہوگئے۔ سلیکٹرز نے انہیں وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری بھی سونپ دی، کیونکہ وہ وکٹ کیپنگ بھی اچھی کر لیتے تھے۔ اس ٹرائل کی خاص بات یہ ہے کہ عظیم کرکٹر اور موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی یہ ٹرائل دیکھنے گرائونڈ میں آئے تھے۔ عمران خان کی موجودگی میں کامران اکمل، عمران نذیر، توفیق عمر اور کاشف صدیق سے بلے بازی کرائی گئی۔

انہوں نے چاروں کی حوصلہ افزائی کی۔ کامران اکمل کے والد عمران خان سے ملے تو عظیم کرکٹر نے انہیں کہا کہ یہ مسلسل کرکٹ کھیلتا رہے اور محنت کرے تو اچھا کھلاڑی بن جائے گا۔ برطانیہ میں انڈر 15 کھیلنے کے بعد کامران اکمل کے لیے کرکٹ ہی سب کچھ تھی۔ وہ لاہور ریجن کے لیے بھی ایک سال کھیلے۔ یہاں ان کے کپتان عامر ملک کمال کے کھلاڑی اور لیڈر تھے، جو ہمیشہ کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے اور ان کی صلاحیتوں کے مطابق کام لینے کا فن جانتے تھے۔ کامران اکمل کو انڈر 19ٹیم سے کھیلنے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔ انہیں نیشنل بینک کی ٹیم میں لے لیا گیا اور وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے چار روزہ کرکٹ کھیلنے لگے، جس سے ان کے کھیل میں میچورٹی اور نکھار آتا گیا۔

2001ء میں سمراویرا کی کپتانی میں سری لنکا کی اے ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ کامران اکمل پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے، پھر ایک دن پہلے معین خان بھی ٹیم میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے قومی ٹیم میں واپس آنا تھا، اس لیے سیلیکٹرز ان کی پرفارمنس دیکھنا چاہتے تھے۔ منیجر سلطان رانا اور کوچ عاقب جاوید نے لیکن کامران اکمل کو واپس نہ جانے دیا اور ٹیم کے ساتھ رکھا۔ پہلے دو میچ معین خان نے کھیلے۔ کسی ایمرجنسی میں معین خان واپس چلے گئے تو ایک روزہ میچ میں کامران اکمل کو کھیلنے کا موقع ملا۔ لیفٹ ہینڈ بلے باز سلمان بٹ اور بابر نعیم ریگولر اوپنر تھے۔ عاقب جاوید اور سلطان رانا نے سلمان بٹ کے ساتھ کامران اکمل کو اوپننگ کرنے بھیج دیا۔ میچ کے آغاز سے ہی چیف سلیکٹر ظہیر عباس کو پتا چل گیا کہ کچھ خلاف معمول ہوا ہے۔ کامران اکمل نے 75 رنز کی اننگز کھیلی۔ ظہیر عباس کو نوجوان بلے باز وکٹ کیپر کے بارے میں بتایا گیا، وہ ان کی کارکردگی سے بہت خوش ہوئے۔

2002ء میں پاکستان کو آسٹریلیا سے ٹیسٹ سیریز میں 3-0 سے شکست ہوئی۔ زمبابوے ٹور کے لیے کیمپ لگا ہوا تھا۔ کامران اکمل کو پی سی بی سے فون آیا کہ وہ آ جائیں، وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر نے بالنگ پریکٹس کرنی ہے، وہ ان کے سامنے بیٹنگ کریں۔ عظیم بالرز کو کھیلنے کا سن کر کامران اکمل کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ فوراً اسٹیڈیم پہنچ گئے اور دو گھنٹے بلے بازی کی۔ ٹیم انتظامیہ ان کی کارکردگی دیکھنا چاہتی تھی۔ اس امتحان میں بھی وہ کامران ٹھہرے۔ پھر کیمپ میں موجود کھلاڑیوں کی دو ٹیمیں بنائی گئیں، وسیم اکرم اور معین خان کپتان تھے۔ کامران اکمل عظیم وسیم اکرم کی ٹیم کا حصہ بننے پر شاداں تھے۔ یہاں بھی سلیکٹرز نے وسیم اکرم سے درخواست کر کے کامران اکمل سے اوپننگ کرائی۔ یوں وسیم اکرم پہلی بار کامران اکمل سے متعارف ہوئے، اور کسی سینئر کھلاڑی کے پوچھنے پر اپنے مخصوص انداز میں سلیکٹرز کی درخواست کا ذکر کیا۔ کامران اکمل نے 44 اسکور کیے اور بالآخر انہیں زمبابوے ٹور کے لیے منتخب کر لیا گیا۔

٭٭٭

زمبابوے سے پہلے ٹیسٹ سے ایک دن پہلے پلیئنگ الیون کا اعلان ہوا تو راشد لطیف کھیل رہے تھے۔ کامران اکمل ریلیکس تھے، تو اپنے کمرے میں رات کو ٹی وی دیکھتے رہے اور رات کو دو بجے کے قریب سو گئے۔ صبح انہیں بتایا گیا کہ راشد لطیف گردن میں کھچائو کی وجہ سے نہیں کھیل سکیں گے، لہذا اب وہ ٹیم کا حصہ ہیں۔ یہ کامران اکمل کی انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز تھا، جلد ہی وہ ٹیم کے مستقل رکن بن گئے، اس طرح راشد لطیف اور معین خان کے کیریئر کا اختتام ہو گیا۔ اس وقت وقار یونس کپتان تھے، بعد میں انہیں کئی کھلاڑیوں کی کپتانی میں کھیلنے کا موقع ملا۔ انضمام الحق کی کپتانی میں کھیلنے کا انہیں سب سے زیادہ مزہ آیا۔ کہتے ہیں، ’’انضی بھائی نے ٹیم بنائی، پہلے کئی کھلاڑی ٹیم میں آتے جاتے رہے۔ انہوں نے لڑکوں کو اعتماد دیا، انہیں مستقل ٹیم میں رکھا، اس طرح مجموعی طور پر ٹیم کی کارکردگی اچھی ہوتی گئی اور ہم نے کئی یادگار سیریز جیتیں۔ ان کی کپتانی میں ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی۔‘‘

آغاز کے دو تین سال کامران اکمل کے لیے آسان نہیں تھے۔ بطور وکٹ کیپر اور بلے باز متاثر تو کیا لیکن مجموعی کارکردگی معمولی تھی۔ وہ پریشر میں کھیل رہے تھے۔ اس طرح کے اشارے ملنے لگے کہ انہیں ٹیم سے ڈراپ کر کے یونس خان سے وکٹ کیپنگ بھی کرا لی جائے۔ لیکن اس کے ساتھ سب کھلاڑی اور کپتان حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ یونس خان نے بھی سمجھایا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف بلے بازی کیسے کرنی ہے۔ اس طرح وہ جنوری 2005ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے میں اپنی پہلی انٹرنیشنل سنچری کرنے میں کامیاب ہوئے، 124رنز کی اننگز کھیل کے پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا اور مین آف دی میچ قرار پائے۔ اس کارکردگی سے انہیں حوصلہ ملا۔ پھر بطور وکٹ کیپر بلے باز ان کی کارکردگی بہتر ہوتی گئی۔ انڈیا سے ٹیسٹ سیریز میں انہوں نے چند یادگار اننگز کھیلیں۔

موہالی ٹیسٹ کے بارے میں بتاتے ہیں، ’’موہالی میں ہم میچ تقریباً ہار گئے تھے، ڈیڑھ دن پڑا ہوا تھا، وہاں لوگ کہہ رہے تھے کہ اگلے دن لنچ تک میچ ختم ہو جائے گا۔ ہم نے کوشش کی، میں نے تو 100کیا ہی ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ عبدالرزاق بھائی کو کریڈٹ دینا چاہیے۔ دوسرے اینڈ پہ کھڑے رہے، انہوں نے کہا کہ خطرے والی شاٹس نہیں کھیلنی اور ہم نے پہلے 230 کی لیڈ ختم کرنی ہے، پھر پریشر کم ہو گا۔اگر ٹائم ضائع کرنے کی طرف گئے تو میچ نہیں بچ سکے گا۔ یہ میچ ڈرا کرنا بہت بڑی بات تھی، اور ہم ٹیسٹ سیریز ڈرا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔‘‘ 2006ء میں انڈیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ کو ان کے کیریئر کی بہترین اننگز کہا جا سکتا ہے۔ 36 اسکور پہ 6کھلاڑی آئوٹ ہو گئے تھے ، جب وہ بیٹنگ کرنے آئے۔

ان کی سنچری سے پاکستان نہ صرف یہ ہارا ہوا ٹیسٹ جیتا بلکہ سیریز بھی جیت گیا۔ اس میں بھی وہ عبدالرزاق اور شعیب اختر کوکریڈٹ دیتے ہیں جنہوں نے دوسرے اینڈ سے وکٹ سنبھالی اور اچھا اسکور کیا۔ کہتے ہیں، ’’کرکٹ ٹیم گیم ہے، جس میں جیت کا کریڈٹ سب کو ملنا چاہیے۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے جتنے بھی 100 ہیں، جتنی بھی پرفارمنس ہے، وہ مشکل وقت میں کی ہے اور اس سے پاکستان کو فائدہ ہوا ہے۔‘‘اگلے سال انڈیا کے ٹور میں بھی ان کی کارکردگی شاندار رہی۔ ان برسوں میں انہوں نے دوسری ٹیموں کے خلاف بھی اچھی اننگز کھیلیں۔ سری لنکن ٹیم پرحملے کو وہ پاکستان کرکٹ کا بدترین دن قرار دیتے ہیں، جس سے پاکستان کی کرکٹ کئی برس پیچھے چلی گئی۔ اب انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لیے بہت پرامید ہیں۔

2010ء میںسڈنی ٹیسٹ کو اپنے کیریئر کا بدترین وقت قرار دیتے ہیں، جس میں ان سے کئی کیچ ڈراپ ہوئے۔ کہتے ہیں، ’’وہ برا وقت تھا جوکسی بھی کھلاڑی کے کیریئر میں آتا ہے۔ جس طرح اچھی پرفارمنسز ہیں، اس طرح یہ بری کارکردگی بھی بدقسمتی سے میرے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ کچھ لوگوں کو صرف یہی نظر آتا ہے، شاید یہ بات کرنے سے انہیں کچھ فائدہ ملتا ہو۔‘‘ سڈنی ٹیسٹ میچ کے بعد انہوں نے صرف پانچ ٹیسٹ میچ کھیلے، اور اسی سال برطانیہ میں ان کے اب تک کے ٹیسٹ کیریئر کا اختتام ہو گیا۔ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا حصہ رہے۔ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی جیتنے والی ٹیم کا وہ اہم حصہ تھے۔ آگے چل کر بھی محدود اوورز کے کھیل میں ان کی کارکردگی اچھی رہی۔انٹرنیشنل کرکٹ سے دوری کے بعد پی ایس ایل کے وہ اب تک کامیاب ترین بلے باز ہیں۔ وکٹ کیپر بھی اچھے ہیں۔ ڈومیسٹک میں کارکردگی شاندار رہی ہے۔ آئی پی ایل کے پہلے سیزن میں فاتح ٹیم کا حصہ تھے، شین وارن کی کپتانی کے معترف ہیں، ان سے بہت سیکھا۔ اور ڈیرن سیمی پشاور زلمی کی ٹیم کی جس طرح قیادت کرتے ہیں، اس سے وہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ان کے چھوٹے بھائی عدنان اکمل اور عمر اکمل بھی قومی ٹیم کا حصہ رہے ہیں، جسے وہ اپنے خاندان کے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ وہ ملتان میں قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کھیل رہے تھے، جب والدہ کا انتقال ہوا۔ والدہ کی دعائوں سے محرومی کو اپنا نقصان قرار دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، ’’جب یہ خبر ملی تو میں ہوش میں نہیں تھا۔ اتنی تیز گاڑی چلائی کہ کسی طرح امی کے پاس پہنچ جائوں۔ ان سے ہم نے محنت، اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھا ہے اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ دوسروں کی عزت کرنی ہے۔ جس پر ہم ہمیشہ عمل کرتے ہیں۔‘‘ والدہ کے بنائے ہوئے کھانے شوق سے کھاتے۔ 2006ء میں ارینج میرج ہوئی۔ وہ کہتے ہیں، ’’اچھی شریک حیات ملے تو گھر کا ماحول خوشگوار ہوتا ہے۔ میں اس حوالے سے خوش قسمت ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ہماری اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے۔ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ میں ٹورز پہ فیملی کے ساتھ جاتا ہوں۔ خدا نے دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا ہے۔ بڑی اچھی فیملی ہے۔ بچوں کی تعلیم اور انہیں اچھا انسان بنانا پہلی ترجیح ہے۔ بیٹا کرکٹ بھی کھیلنے لگا ہے۔ سب پاکستانیوں کو کہتاہوں کہ پاکستان کے لیے سوچیں، محنت کریں اور اچھے شہری بنیں۔‘‘

([email protected])

٭ ’شاید سلیمانی ٹوپی پہن کر کھیلتا رہا‘

گزشتہ برسوں میں ہر لیول کی کرکٹ میں میری کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ لیکن ٹیم میں جگہ کے باوجود میری سلیکشن نہیں ہوئی تو اس کی وجہ یہ لگتی ہے کہ میں شاید ہیلمٹ کے بجائے، سلیمانی ٹوپی پہن کر کھیلتا رہا ہوں، اس لیے کسی نے دیکھا ہی نہیں۔ یہ تو آپ سلیکٹر، کوچ سے پوچھیں، جو ان کا کام تھا۔ ایک پروفیشنل کرکٹر کی حیثیت سے میرے لیے سب سے پہلے کرکٹ ہے۔ میں ہر فارمیٹ کی کرکٹ میں جان لگاتا ہوں۔ سلیکشن کا معیار فٹنس، پرفارمنس اور سکل ہوتی ہے۔ جو آپ کے سامنے ہے اور سو فیصد ہے۔ عمر کی بات کرنے کا کوئی جواز نہیں، جب مصباح الحق ، یونس خان پرفارمنس اور فٹنس کے ساتھ کھیل سکتے ہیں تو دوسرے کیوں نہیں۔اللہ کا شکر ہے کہ عزت اور پرفارمنس سے اب تک کھیل رہا ہوں اور جب تک کھیل سکا ، کھیلتا رہوں گا۔

نوجوان کرکٹر ز کے لیے میں کہوں گا کہ وہ اپنی بنیاد مضبوط کریں۔ میںقومی ٹیم سے قبل چار روزہ کرکٹ کے تین سیزن کھیل چکا تھا۔ جو کھلاڑی ڈومیسٹک میں پرفارمنس دیتا ہے وہ مار نہیں کھاتا اور لمبے عرصے تک کھیلتا ہے۔ ایک دو میچوں میں کارکردگی کی بنیاد پر سلیکشن نہیں ہونی چاہیے، کھلاڑی کو ہر فارمیٹ میں پرفارم کرنا چاہیے۔

٭ پاکستان میں کرکٹ نہ ہونے کا نقصان

ہماری کرکٹ کا یہ حال نہیں ہونا تھا اگر ہمارے ہاں کرکٹ ختم نہ ہوتی۔ پاکستان کی پچز بہت اچھی ہیں، تھوڑا بائونسی اور ہارڈ ہیں، پیس زیادہ ہے، یو اے ای میں سست وکٹ ہے، ٹرن بھی آہستہ ہوتا ہے، اس لیے وہاں لو اسکورنگ میچ ہوتے ہیں۔جس طرح ہم ٹی ٹوئنٹی میں بہتر ہیں، ایسے ہی ون ڈے اور ٹیسٹ میں بھی ہونا چاہیے تھا۔ اگر پاکستان میں کرکٹ پر پابندی نہ لگتی تو ہماری ٹیم بھی انڈیا کی طرح ہر فارمیٹ میں اچھی بن جاتی۔ انشاء اللہ جب پاکستان میں مکمل کرکٹ آ جائے گی تو ہمارے نوجوانوں کو بڑا فائدہ ہو گا۔

٭ وسیم، وقار بھائی کو جان مارتے ہوئے دیکھا

جب میں نے قومی ٹیم کے کیمپ میں وسیم ، وقار بھائی ، شعیب اختر کو کھیلا، تو ان کی محنت کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ انہوں نے دو گھنٹے لگاتار پورے رن اپ سے بالنگ کی، باقی وقت وہ گرائونڈ ٹریننگ کرتے رہے جو خاصی سخت تھی۔ حالانکہ یہ ان عظیم پلیئرز کے کیریئر کا آخری دور تھا لیکن مجھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا کہ ایک پروفیشنل کھلاڑی کیسے ہوتا ہے۔ بڑے کھلاڑی ایسے نہیں بنتے اور ایسے ہی عزت نہیں ملتی۔ اس کے لیے جان مارنی پڑتی ہے۔ وہ ہر لیول کی کرکٹ پوری سنجیدگی سے کھیلتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔