شروع میں فن پروَر ماحول ملتا ، تو شاید میں آج صرف ’فن کار‘ ہوتا

رضوان طاہر مبین  منگل 30 جولائ 2019
محمد عارفین سے ملاقات، جن کی قابل داد فنّی صلاحیتیں روزگار کی دوڑ دھوپ نگل رہی ہے

محمد عارفین سے ملاقات، جن کی قابل داد فنّی صلاحیتیں روزگار کی دوڑ دھوپ نگل رہی ہے

’شہر میں کھولی ہے حالیؔ نے دکاں سب سے الگ۔۔۔!‘

الطاف حسین حالی کا یہ مصرع جنوبی کراچی کی ایک ساحلی بستی میں واقع اِس دکان پر کیا ہی خوب سجتا ہے۔۔۔

کہنے کو تو یہ بازار میں گھِری ہوئی ایک دکان ہی تو ہے۔۔۔ مگر صاحب۔۔۔، یہ صرف روپے پیسے کے لین دین یا بھاؤ تاؤ کی جا نہیں۔۔۔ یہاں اگر کسی راہ گیر کی نگاہ پڑ جائے، تو وہ پھر گاہک نہیں رہتا، بلکہ ایک شائق کے روپ میں یہاں کھنچا چلا آتا ہے۔۔۔ بہت سے خوش ذوق خریدار ایسے ہوتے ہیں کہ جو یہاں اپنے سودے کے لین دین کو ایک طرف رکھ کر یہاں سجے ہوئے فن پاروں پر اَش اَش کر اٹھتے ہیں۔۔۔ اور وہ ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ ان فن پاروں پر تو قیمتی نوادرات کا گماں ہوتا ہے۔۔۔ اور یہ کوئی دکان کم اور حیران کُن فن پاروں کی نمائش گاہ زیادہ دکھائی دیتی ہے۔۔۔

چشمے کی اس دکان کے مالک محمد عارفین شہر کے ان معدودے چند ’دکان داروں‘ میں سے ہیں، جن پر مشہور شاعر جاوید اختر کا ’شکوہ‘ بالکل صادق نہیں آسکتا، کیوں کہ وہ تو ’کاروبارِ الفت میں‘ سود و زیاں بھی جانتے ہیں۔۔۔ اور ’دل کے دام‘ اور ’خواب کی گرانی‘ کی خبر بھی رکھتے ہیں۔۔۔ ’وصل کے سکوں‘ اور ’ہجر کے جنوں‘ سے بھی واقف ہیں اور ’حسن کے فُسوں‘ اور ’عشق کے دروں‘ سے بھی آشنائی ہے۔۔۔ مگر کیا کیجیے کہ اس فن کے مکمل طور پر ظاہر ہونے میں عمر عزیز کے پانچ عشرے بیت گئے۔۔۔ اسی سبب آج ہم یہ قیاس کر سکتے ہیں کہ اُن کے ہزاروں نہ سہی سیکڑوں خیالات، احساسات، مشاہدات اور تجربات تو ایسے رہے ہی ہوں گے جو کسی مجسم صورت میں سامنے آنے کے بہ جائے ذہن کے پردے پر ہی جل جل کر بجھ گئے ہوں گے، کیوں کہ اُسے اپنے اظہار کا وسیلہ تلاشنے میں کام یابی نہیں ہوئی ہوگی۔۔۔ ہمارا یہ ’فن کار‘ اگر کسی طرح خود کو صحیح وقت پر دریافت کر لیتا، تو آج اپنے فن کا ایک بڑا نام ضرور ہوتا۔

آج بھی ہم ان کی فن کارانہ صلاحیتوں سے صرف نظر نہیں کر سکتے۔۔۔ انہوں نے لکڑی، پیتل اور دیگر دھاتوں کے علاوہ گائے کی ہڈی پر بھی طبع آزمائی کی ہے اور ایک فن پارے میں جزوی طور پر پتھر بھی استعمال کیا۔ ان کے لکڑی کے نمونوں پر سلیقے سے کی گئی دھاتی پالش نگاہوں کو دھوکا دے جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ کام کہیں سے سیکھا اور نہ ہی ان کا کوئی استاد ہے۔ تمام دست کاریاں مختلف آلات کی مدد سے بنائیں اور اس کے لیے بہت سے آلات خود بھی وضع کیے، دیدہ زیب نقش ونگار سے آراستہ مختلف نمونوں کے علاوہ دور قدیم کی عکاس ’ذرہ بکتر‘ شائقین کی توجہ کھینچ لیتی ہے۔

محمد عارفین نے ماضی کے دریچے وا کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا یہ تخلیقی رجحان بچپن سے ہی تھا۔۔۔ زمانۂ اسکول سے ہی کچھ نہ کچھ ایسی چیزیں بناتے رہے۔۔۔ لاڑکانہ میں وہ کبھی اسکول سے چھٹی کے بعد، یا کبھی اسکول جانے کے بہ جائے ’اسٹیشن‘ پہنچ جاتے، جہاں ان کے اندر چھپا ہوا فن کار زمین پر پڑے ہوئے بے ترتیب دیدہ زیب پتھروں کے ڈھیر کی اچھوتی ترتیب سے کچھ وضع کرنے میں سرگرداں رہتا۔۔۔ وہ ہمارے سماج کی تختی لکھنے والی آخری پیڑھی سے ہیں، اس لیے خوش خطی میں خاص رغبت رہی۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ خالی بیٹھنے کا قائل نہیں، فرصت میں خطاطی کرتا رہتا تھا۔ آج بھی دکان کی رسید وںپر لوگ میری خوش خطی دیکھ کر چونک جاتے ہیں، ایک صاحب تو کہنے لگے کہ رسید میں سے اپنے نام کو  الگ کرکے فریم کرانا چاہیے۔

2004ء میں انہوں نے ایک آرٹسٹ شکور احمد کا فن پارہ اخبار میں دیکھا، جس میں نہایت دیدہ زیب خَط میں ’اللہ‘ لکھا ہوا تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا، جب محمد عارفین کے ذہن میں یہ خیال کوندا کہ یہ تو میں بھی بنا سکتا ہوں، سو اُسے بہت اچھی طرح سے نقل کرنے میں کام یاب ہو گئے۔۔۔ گویا اسم اللہ سے ان کے فن کے منصۂ شہود پر آنے کی باقاعدہ ’بسم اللہ‘ ہو گئی اور پھر خطاطی کے دیگر فن پاروں کو بھی تخلیق کی راہ ملی۔۔۔ انہوں نے ان فن پاروں کو اپنی دکان پر ’برائے فروخت‘ چشموں کے درمیان ’برائے نمائش‘ رکھ دیا۔۔۔ یہ دھات پر آیات اور اسمائے حسنیٰ کی خطاطی پر مبنی تھا۔

ایک آرٹسٹ شمیم خان نے جب یہ فن پارے دیکھے، تو تگ ودو کر کے 2005ء میں آرٹس کونسل کراچی میں ان کی نمائش کرائی، یہاں ان کی خطاطی کے 110 فن پارے آراستہ کیے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں شائقین کے لیے جگہ کم پڑ گئی اور نمائش تین دن کے بہ جائے سات روز تک جاری رہی۔ آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر شمیم عالم نے انہیں سراہا اور توصیفی خط بھی لکھا۔ 2010ء میں دوسری نمائش ہوئی، جس میں خطاطی کے ساتھ دیگر فن پارے بھی سجائے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب خطاطی کے بہ جائے دیگر مختلف فن پاروں کی جانب زیادہ مرکوز ہوگئے ہیں اور اتنا کام جمع ہو گیا ہے کہ اس کی ایک بھرپور نمائش کی جا سکتی ہے، کاروبار سے جوں ہی فرصت ملی وہ یہ نمائش کرالیں گے۔

محمد عارفین دکان پر کبھی اپنا فن پارہ فروخت نہیں کرتے، جس پر بعضے بگڑنے بھی لگتے ہیں کہ جب بیچنا نہیں ہے، تو لگائے ہی کیوں ہیں۔۔۔! وہ انہیں بتاتے ہیں کہ جب نمائش لگتی ہے، تو وہاں فروخت کرتے ہیں، بہت سے شائق اپنے نمبر دے جاتے ہیں کہ جب آپ نمائش کریں، تو مطلع ضرور کر دیں۔ میرے لیے پیسے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، میرا دل نہیں مانتا کہ ہزار روپے کی لاگت کی چیز کے 10ہزار لے لوں۔

وہ کہتے ہیں کہ نمائش میں مختلف فن پارے فروخت بھی ہوئے، لیکن اب بھی یہ کام صرف شوق کی حد تک ہی محدود ہے۔ لوگ عینک سازی کا کام چھوڑ کر مکمل طور پر اس فن کی طرف متوجہ ہونے کے مشورے دیتے رہتے ہیں۔ چوں کہ بچپن سے تربیت ہے کہ جو بھی کام کرو اس کا حق ادا کرو۔ میرا چشمے کے کام میں بھی نام ہے، اگر فن پاروں کے شوق کو آگے بڑھاؤں، تو شاید اپنے کام کے ساتھ اس فن کا حق ادا نہیں کر سکوں گا۔ تعطیل یا فرصت کا وقت ان تخلیقات میں صرف کرتے ہیں، اسی وقت کے حساب سے کوئی بھی فن پارہ مکمل ہو پاتا ہے۔ میں اپنے کسی بھی فن پارے کی نقل بنا تو سکتا ہوں، لیکن سارا مسئلہ دکان کی مصروفیات کا ہے، نمائش کرنے میں بھی یہی امر مانع ہے، کیوں کہ نمائش کرانے کا مطلب یہ ہے کہ کم سے کم مجھے 15 دن اس کی تیاری میں لگانے پڑیں گے۔

مختلف دھاتیں، لکڑی، اوزار اور رنگ وروغن وغیرہ تک کا سارا سامان محمد عارفین کی دکان پر ہی موجود رہتا ہے، وہ اپنا سارا کام یہیں کرتے ہیں۔ فن پاروں کے سارے تصورات اپنے ذہن کے ہیں، جو خاکہ بھی ذہن میں آتا ہے، اسے پھر مجسم صورت دینے میں جُت جاتے ہیں،اس سے پہلے کوئی خاکہ بناتے ہیں اور نہ ہی کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کا لکھا ہوا ایک فن پارہ 2005ء میں شوکت خانم اسپتال کو بھی عطیہ کیا، جس پر عمران خان نے بہ ذریعہ خط اظہار تشکر بھی کیا۔ ’یونائیٹڈ نیشنز ایسوسی ایشن آف پاکستان‘ صوبائی محتسب اعلیٰ وغیرہ میں بھی ان کے خطاطی کے نمونے آویزاں ہے۔ اِن دنوں کراچی جم خانہ کو تحفہ دینے کے لیے ایک منفرد دیواری گھڑی تیار کر رہے ہیں۔

محمد عارفین بتاتے ہیں کہ اس طرز کے فن پارے بنانے والے لوگ شاذ ہی ہیں، ایک گل جی تھے اور ایک کوئی قمر صاحب ہیں، جن سے میوزیم والوں نے مختلف نوادرات کی ’نقول‘ بنوائیں۔ کیلی فورنیا میں رہنے والے ایک صاحب نے مجھ سے اپنی کمپنی کے ’لوگو‘ کا قدیمی انداز کا ’نمونہ‘ بنوایا، جسے وہاں بہت پسند کیا گیا۔۔۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کام ’فیس بک‘ پر لگائیے، لیکن مجھے یہ کام آگے بڑھانا ہی نہیں، اس لیے نہیں لگاتا۔ مجھے خود تو اندازہ نہیں ہوتا، لیکن پذیرائی سے پتا چلتا ہے کہ میرے کام میں جان ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دکان داری کے ساتھ نہیں کر پاؤں گا۔

ہم نے محمد عارفین سے پوچھا اگر یہ فن پرور یا فن کے موافق ماحول آپ کو پہلے مل جاتا؟ تو وہ بولے کہ ’پھر شاید میں صرف آرٹسٹ ہی ہوتا۔۔۔‘ وہ اپنے فن کی مزدوری یا محنتانہ بتانے سے خود کو بالکل قاصر پاتے ہیں، اور کسر نفسی سے کام لیتے ہوئے اپنے کام کو بہت سادہ اور معمولی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میں اس معاملے میں بڑا کم زور ہوں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی فن پارے کی کیا قیمت لوں۔ نمائش میں بھی میں نے فن پاروں کی قیمت کا تعین انچارج آرٹسٹ پر چھوڑ دیا تھا۔ وہاں میرے فن پارے پانچ سے 15 ہزار روپے تک میں فروخت ہوئے، اپنا فن پارہ خود سے جدا کرنا دل کو بہت لگتا ہے، لیکن نمائش میں تو فروخت کرنا ہی تھے، کیوں کہ یہ طے تھا کہ 30 فی صد رقم آرٹس کونسل کو جائے گی۔ مجھے بچپن سے پیسوں کی طرف دل چسپی نہیں۔ پیدائشی فن کاروں میں کاروباری ذہن ذرا کم ہی ہو پاتا ہے، صرف گائیک حبیب ولی محمد ہی ایسے دکھائی دیتے ہیں کہ جن کا اپنا کاروبار بھی تھا۔ اس کے علاوہ کوئی اور فن کار باقاعدہ کسی کاروبار سے منسلک نظر نہیں آیا۔

اب تک کے فن پاروں کی تعداد کا ذکر ہوا تو عارفین صاحب نے خود کو ’بے پروا‘ کہا اور بتایا کہ کوئی باقاعدہ شمار نہیں رکھا، جتنے مختلف نمونے شائقین لے جا چکے ان کی بھی کوئی تصاویر محفوظ نہیں کیں، لیکن اب تک تقریباً 300 سے زائد فن پارے بنا چکا ہوں، اس سے پہلے آیات اور اسمائے حسنیٰ کی خطاطی بھی 200 نمونے مجسم کر چکے ہیں۔ اب کچھ فن پاروں کا تصویری ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا ہے۔

عملی طور پر یہ فن سکھانے میں بھی وہ وقت کی کمی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ایک گھنٹے کی کلاس کے لیے بھی معذرت کر لی تھی کہ کاروبار کے سبب پابندی نہیں کر پاؤں گا۔ بہت سے فن کے دل دادہ یہ سیکھنے کے خواہاں ہیں، ایک طالبہ اپنے نمبر لکھوا گئی کہ اگر سکھانا شروع کریں، تو میں آپ کی سب سے پہلی شاگرد بنوں گی۔

محمد عارفین کہتے ہیں کہ میںگوشہ نشیں طبیعت کا مالک ہوں، ہمارا خاندان بھی بہت چھوٹا سا ہے اور دوستوں کا حلقہ بھی محدود ہیِ۔ میں کم گو ہوں، بس سیدھی سیدھی سی دو چار باتیں ہی کر سکتا ہوں۔ نجی خبری چینل کی میزبان کرن آفتاب کے لیے ’لینسز‘ ہمارے ہاں سے جاتے تھے، انہیں میرے اس کام کی خبر ہوئی، تو انہوں نے بھی خواہش ظاہر کی کہ وہ مجھے اپنے صبح کے پروگرام میں مدعو کریں گی۔‘ محمد عارفین کی شادی 1980ء میں ہوئی، تین بیٹیوں کے والد ہیں، تینوں اپنے گھر کی ہیں، چھوٹی بیٹی کائنات غزل اخبارات اور رسائل میں بچوں کی کہانیاں لکھتی ہیں، ان کی کہانیوں پر مشتمل ایک کتاب بھی آچکی ہے۔

میں نے بالکل آزاد زندگی گزاری ہے

محمد عارفین کے بزرگ بٹوارے کے ہنگام میںدلی سے کراچی آئے اور پھر سکھر منتقل ہوگئے، وہیں 1949ء میں محمد عارفین نے آنکھ کھولی۔ پھربچپن میں ہی لاڑکانہ منتقل ہو گئے اور 1960ء میں کراچی کا رخ کیا۔ انہوں نے کراچی میں ہی 1970ء میں ’نجم دہلی بوائز اسکول‘ سے میٹرک کیا۔ اس کے بعد لالوکھیت میں گھڑیوں کی دکان پر والد کا ہاتھ بٹانے لگے۔ کہتے ہیں کہ ’جیسی زندگی میں نے گزاری ہے، بہت کم لوگ گزار پاتے ہیں۔ میں گھر کی طرف سے بالکل آزاد تھا، مجھ پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ خوب گھومنے پھرنے کے علاوہ مختلف کاروبار بھی شوق شوق میں ہی شروع کیے۔

کڑھائی، مولڈنگ اور خراد مشین کے علاوہ ’ڈائی میکنگ‘ وغیرہ کو بھی یافت کا ذریعہ بنایا۔ 1970ء میں ایک جگہ ملازمت بھی کی۔ وہ کہتے ہیں کہ شوق میں جو کام اچھا لگا، اپنا لیا، اللہ نے سب میں کام یابی دی، ’ڈائی میکنگ‘ کے شعبے میں یہاں لوگ ہندوستان سے کام کرتے ہوئے آرہے تھے، لیکن وہ پرانے لوگ بھی اپنے پھنسے ہوئے کام میرے پاس بھیجتے تھے۔ اسی اثنا میں، میں نے ’مولڈنگ مشین‘ پر کچھ اپنی چیزیں بھی ڈھالنا شروع کیں، جن میں مختلف کھلونے، جیولری، موٹر سائیکلوں کی لائٹ اور بٹن وغیرہ قابل ذکر ہیں۔‘ گویا ان کے اندر خوابیدہ فن کار اپنی موجودگی کا اظہار کر رہا تھا۔ کام کی لگن سے متعلق بتاتے ہیں کہ رات کو دو، دو بجے تک مصروف رہتے اور لوگ ان کی محنت دیکھ کر انہیں ’جن‘ کہا کرتے۔

محمد عارفین 1995ء میں ’ڈائی میکنگ‘ ہی کے کام سے چشمے کے کام کی طرف مرکوز ہوئے۔ اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ یہ مشقت طلب کام ہے، جب تک میرے ہاتھ پیروں میں جان ہے، یہ کام کر لوں گا، لیکن اس کے بعد نہیں کرپاؤں گا، اس لیے کوئی کم مشقت کا کام کرنے کے واسطے چشمے کے کام کی طرف راغب ہوا۔

اس کام کی شروعات کے حوالے سے گویا ہوئے کہ ان کے ایک قریبی دوست انوار کے مشورے سے یہ کام شروع کیا، ابتداً ایک شریک کار بھی رہا، لیکن کچھ حساب کتاب میں گڑ بڑ ہونے لگی، تو پھر خود ہی باقاعدہ یہ کام سنبھال لیا، ورنہ میں اپنے کارخانے کی طرف ہی مرکوز رہتا، میرا ارادہ تھا کہ جب اُس کام سے تھک جاؤں گا، تو یہاں آجاؤں گا، لیکن صورت حال ایسی ہوئی کہ پہلے یہ کام سنبھالنا پڑا۔

کوئی مورت بنانے کے لیے ہاتھ نہیں اٹھتا۔۔۔!

محمد عارفین نے اپنے کچھ فن پارے دکان کے نزدیک ہی واقع ایک قالین کے شو روم میں بھی رکھوائے، جہاں ان کا کام دیکھ کر ایک فوج کے میجر نے انہیں کوئٹہ میں اپنے انفینٹری کے دروازوں پر کام کی پیش کش کی، جس میں ہر انفینٹری کے مختلف نشانات مجسم مورت کرنا تھے۔ انہوں نے معذرت کر لی اور کہا کہ مورت بنانے کے لیے میرا ہاتھ نہیں اٹھتا۔ آرٹسٹ شمیم خان کو جب یہ پتا چلا تو انہوں نے کام سکھانے کی پیش کش کی اور کہا اگر وہاں کام پسند آجاتا تو بہت معقول محنتانے کے عوض زندگی بھر کے لیے اُن کا کام ملتا رہتا۔ میں نے انہیں بتا دیا کہ دراصل ان کا دل ہی اس کام کو کرنے میں مطمئن نہیں، ورنہ دیگر فن پاروں کی طرح اگر وہ اس قسم کی مورت اور شبیہات بنانا شروع کریں، تو شاید کام یابی سے بنا بھی لیں۔  لوگوں نے کہا کہ جب تک عورت یا گھوڑے کو مجسم نہ کریں یہ فن نامکمل رہتا ہے، لیکن میں نے مجسمے بنانے کی بہت سی پیش کش قبول نہیں کیں۔

قبل اس سے کہ ہم ان سے فوٹوگرافی کے شوق سے متعلق کچھ پوچھتے کہ دکان پر آویزاں پرانی تصاویر میں وہ کہیں سیاہ وسفید فلموں کے عہد کے منجھے ہوئے ہیرو کی طرح نظر آتے ہیں، تو کہیں رنگین تصاویر میں کسی ماڈل کی صورت معلوم ہوتے ہیں، وہ بولے کہ میں بچپن سے ہی فوٹو کھنچوانے کا بہت شوقین ہوں۔ اب تو ڈیجیٹل عکس بندی کا دور ہے، لیکن میں نے پرانے زمانے میں فوٹو گرافی کی مخصوص تیکنیک اور روشنی کی کمی بیشی وغیرہ کو خوب سمجھا تھا۔ ہر فوٹو اسٹوڈیو میں فوٹو گرافی کی تشہیر کے طور پر باہر میری تصاویر ضرور لگائی جاتیں۔ میں نے اپنے اسی شوق کو پورا کرنے کے لیے اپنا فوٹو اسٹوڈیو کھولنے کا بھی ارادہ کیا، لیکن پھر اس حوالے سے مذہبی تعلیمات سے آگاہی کے بعد ارادہ ترک کر دیا۔ پہلے شاید ہزاروں تصاویر کھنچوائی ہوں گی، لیکن اب یہ بہت کم کر دیا ہے۔

میرا کبھی کوئی فن پارہ ضایع نہیں ہوا۔۔۔!

فن کار محمد عارفین کے بقول وہ اپنے ذہن میں روشن ہونے والے کسی بھی نمونے کو مادّی شکل میں مجسم کرتے ہیں اور اس کے لیے کسی کاغذی خاکے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے، جب کہ ہم بہت سے مصوروں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے کام کے دوران کئی بار لکیروں کو مٹاتے اور رنگوں کو سدھارتے ہیں۔ جب کہ اِن کا کام تو سراسر دھاتی ہے، جس میں کسی ’غلطی‘ کی تصحیح کرنا مشکل یا کبھی تو ناممکن بھی محسوس ہوتا ہوگا۔۔۔ اس حوالے سے وہ بولے کہ ’بس یہ اللہ کا انعام ہے۔ ایک نقشہ ذہن میں ہوتا ہے، پھر اس کے مطابق کام کرتا چلا جاتا ہوں۔ جس وقت کوئی چیز ذہن میں آجائے، بنانے بیٹھ جاتا ہوں، رات کو آجائے تو نیند مشکل ہو جاتی ہے، صبح دکان آتے کے ساتھ ہی اس پر کام شروع کر دیتا ہوں، کوئی تخلیقی خیال ذہن آتا ہے، تو پھر جم جاتا ہے، جب تک بنا نہیں لوں، چین نہیں آتا۔ میری کبھی کوئی چیز ایسی ہوئی نہیں کہ بناتے ہوئے خراب ہوگئی اور پھر اسے چھوڑ دیا ہو۔ جو بنانے بیٹھا تو پھر کچھ نہ کچھ بنا ہی دیا، غلطی کے سبب کبھی کوئی فن پارہ ضایع نہیں کیا۔

محمد عارفین کا دعویٰ ہے کہ ان کا ہر فن پارے کا تصور ان کے اپنے ذہن کی اختراع ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنی دھن میں مگن رہنے والا آدمی ہوں۔ ہم نے تجریدی آرٹ سے متعلق پوچھا تو وہ بولے کہ کبھی اس طرف نہیں آئے۔

’’کبھی کسی خاص خیال کے اظہار کو اپنے فن پارے میں سمونے کی کوشش کی؟‘‘ اس سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا نہیں ہے، میرا کام بہت سادہ سا ہے۔‘ حساس طبیعت کا ذکر ہوا، تو وہ بولے کہ ’زیادہ حساسیت بعض اوقات پریشانی کا سبب بن جاتی ہے، بہت سی باتوں پر میں سوچنے بیٹھ جاتا ہوں، جب کہ لوگوں کو کوئی پروا نہیں ہوتی، لیکن یہ حساسیت ہمارے اختیار میں تو نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔