عمر قید 25 سال یا پوری زندگی ؟ سپریم کورٹ نے قانونی نکتے پر لارجر بینچ بنادیا

نمائندہ ایکسپریس  منگل 30 جولائ 2019
بہت سی غلط فہمیاں درست کرنے کا وقت آ گیا،چیف جسٹس،چاروں ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس، مقدمہ اکتوبر میں سماعت کیلیے لگانے کا حکم
 فوٹو: فائل

بہت سی غلط فہمیاں درست کرنے کا وقت آ گیا،چیف جسٹس،چاروں ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس، مقدمہ اکتوبر میں سماعت کیلیے لگانے کا حکم فوٹو: فائل

 اسلام آباد:  عمر قید کی سزا 25 سال ہو گی یا پوری زندگی، چیف جسٹس نے اہم سوال پر لارجر بینچ تشکیل دیدیا۔

سپریم کورٹ میں قتل کے ملز م ہارون الرشید کی اپیل پر سماعت کی دوران سماعت ملز م کے وکیل ذوالفقار ملوکہ نے موقف اپنایا کہ ہارون الرشید کو قتل کے12 مقدمات میں 12 مرتبہ عمر قید کی سزائیں ہوئیں جن پر وہ 22 سال سزا کاٹ چکا ہے، عدالت تمام سزائیں ایک ساتھ شروع کرنے کا حکم دے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ غلط فہمی نہیں عمر قید کی سزا کی مدت 25 سال ہے؟جب یہ پتہ نہیں کہ زندہ کتنا رہنا ہے تو اسکو آدھا کیسے کردیں؟ بڑے عرصے سے ایسے کسی کیس کا انتظار تھا جس میں عمر قید سزا کی مدت کا فیصلہ کریں، جیل کی سزا میں تو دن رات شمار کیے جاتے ہیں، اس طریقے سے تو مجرم5 سال بعد باہر آجاتا ہے، بہت سی غلط فہمیوں کے درست کرنے کا وقت آ گیا ہے، عمر قید کی مدت کے تعین کا معاملہ عوامی اہمیت کا ہے، اس لئے اس کا نوٹس لے کر لارجر بینچ تشکیل دے رہے ہیں جو فیصلہ کرے گا کہ اگر کسی ملزم کو عمر قید ہو گی تو وہ کتنا عرصہ جیل میں رہے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔