فضائل و آدابِ مدینہ طیّبہ

ڈاکٹر عشرت ریحانہ  جمعـء 2 اگست 2019
دیار حبیبؐ میں حاضری نعمت عظمی ہے،یہ نہایت ہی ادب کامقام ہے اس لیے زائرکوچاہیے کہ وہ یہاں نہایت ادب واحترام ملحوظ رکھے۔ فوٹو: فائل

دیار حبیبؐ میں حاضری نعمت عظمی ہے،یہ نہایت ہی ادب کامقام ہے اس لیے زائرکوچاہیے کہ وہ یہاں نہایت ادب واحترام ملحوظ رکھے۔ فوٹو: فائل

پیغام صبا لائی ہے گل زار نبیؐ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبیؐ سے

یہ نعت سنتے ہی ہر مسلمان کا دل چاہتا ہے کہ وہ اڑ کر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ پہنچ جائے اور بیت اللہ اور روضۂ رسولؐ کی زیارت کرے۔ دل کو سرور اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائے۔ عاشقان رسولؐ دلوں میں نئی امنگ اور جذبے سے اس ارض مقدس پر قدم رکھنے کو بے قرار ہیں۔ آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ کو در حبیبؐ کی زیارت کا موقع ملا ہے، اس لیے نہایت ادب سے اس مقدس در پر حاضری دیں اور اپنی گزارشات پیش کریں۔

حضور نبی کریمؐ کے ارشاد کا مفہوم ہے: ’’ جس نے میری جائے آرام کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت لازم ہوگئی۔‘‘ ایک اور ارشاد نبویؐ کا مفہوم ہے: ’’جس نے مدینہ میں اخلاص سے میری جائے آرام کی زیارت کی وہ میری پناہ میں ہوگا اور قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا۔‘‘

اس مبارک سفر میں روانگی سے قبل یہ خیال رکھیں کہ آپ نے تجدید توبہ کرلی ہے، جن کے حقوق ادا کرنے ہیں وہ بہ احسن و خوبی ادا کردیے ہیں۔ اس میں ماں باپ، بہن بھائی، عزیز و اقارب، رشتے دار، پڑوسی، اہلِ محلہ اور اہلِ وطن سب شامل ہیں۔ اس کا بھی خیال رکھیں کہ آپ نے کسی کو دُکھ تو نہیں پہنچایا، اگر ایسا ہے تو معافی تلافی کرکے جائیں۔ اپنے اہل و عیال کے لیے اخراجات کا انتظام کرکے جائیں۔ مسنون دعاؤں کے علاوہ اس بابرکت سفر کے لیے خالص نیّت ضروری ہے۔ اس لیے کہ اعمال کا دار و مدار نیّت پر ہے۔ اس سفر میں زیارت رسول پاک ﷺ کا ہمیشہ شوق ہونا چاہیے۔ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں۔ صدقہ و خیرات زیادہ کریں۔ جب حرم شریف مدینہ منورہ میں داخل ہوں تو یہ دعا پڑھیں۔

مفہوم: یااللہ! یہ تیرے رسولؐ کا حرم ہے۔ بس تُو اسے میرے لیے آگ سے بچنے کا ذریعہ اور عذاب اور بُرے حساب سے امان بنادے۔ یااللہ! تُو اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور اپنے گھر کی زیارت سے مجھے کچھ عطا فرما، جو تُونے اپنے دوستوں اور اطاعت کرنے والوں کو عطا فرمایا، تُو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما۔ اے سب سے اچھے جس سے مانگا جائے۔

پھر سب سے پہلے غسل کرے، مسواک کرے اور پاک صاف کپڑے پہنے۔ اگر سفید کپڑے ہوں تو بہت اچھا ہے کیوں کہ سفید رنگ حضور نبی کریمؐ کو بہت پسند تھا۔ ہوسکے تو خُوش بو لگائے اور صدقہ کرے۔ حضور خاتم النبین ﷺ کی شان و عظمت کو ذہن میں لائے تاکہ دل میں خشوع و خضوع پیدا ہو۔ تصور کرے یہ وہ جگہ ہے جہاں نبی کریمؐ کے قدم پڑے تھے۔

اس لیے غافل نہ ہو۔ ہر وقت درود پڑھے۔ اپنی آواز بلند نہ کرے، کسی کو نہ ڈانٹے، اللہ تعالیٰ سبحانہ و تعالیٰ کی نعمتوں کا شُکر ادا کرتے ہوئے گناہوں کی بخشش مانگتے ہوئے دعائیں کرتے ہوئے درود پڑھتے ہوئے مدینہ منورہ میں داخل ہوں۔ مسجد نبویؐ میں داخل ہونے سے قبل صدقہ کرے اور ذہن میں رکھے کہ یہ وحی کے نازل ہونے کی جگہ اور رحمت کی جائے نزول ہے اور یہ رحمت اللعلمینؐ کی مسجد ہے۔ مسجد میں داخل ہونے سے قبل تھوڑی دیر ٹھہر جائے، گویا داخلے کی اجازت مانگنا ہے، پھر دایاں پاؤں اندر رکھے۔ پھر مسجد میں اس خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے داخل ہو کہ حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہے اور وہ اسے دیکھ اور سُن رہے ہیں، پھر سیدھا ریاض الجنّہ میں پہنچے۔

مسجد کا جو حصہ نبی کریم ﷺ کی آرام گاہ اور منبر شریف کے درمیان ہے وہ ریاض الجنّہ کہلاتا ہے، اس کو روضہ بھی کہتے ہیں اس کے متعلق نبی کریمؐ نے فرمایا ہے جو حصہ میرے گھر اور جائے آرام کے درمیان ہے وہ جنّت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ وہاں دو رکعت نفل پڑھے۔ اگر وہاں جگہ نہ مل سکے تو اس کے قریب کسی دوسری جگہ پڑھ لے۔ خواتین کے لیے ریاض الجنّہ میں جانے کے اوقات مقرر ہیں وہ اس کے مطابق وہاں جائیں اور خدا کے لیے وہاں کسی کو دھکا نہ دیں، کسی بچی کو نہ گرائیں، کسی ضعیف خاتون کو دھکا نہ دیں بل کہ اس کے بڑھاپے کا خیال کریں اور اسے جگہ دیں۔ نماز کے بعد اللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کریں جس نے اس نعمت سے نوازا۔ اس سے نعمت، رضا، توفیق اور دونوں جہانوں کی سعادت کی دعا مانگیں اور یقین رکھیں کہ یہ وہ دربار ہے جہاں سے کوئی خالی ہاتھ نہیں جاتا۔

پھر مرد حضرات زیارت کے لیے قطار میں لگ جائیں اورجائے آرام شریف کی طرف منہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اپنے فضل و کرم سے ادب کی توفیق عطا فرمائے۔ نظر نیچی کرکے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہو۔ سیلفیاں نہ لیں یہ خلاف ادب ہے۔ نہایت تعظیم کے ساتھ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھیں اور یہ یقین رکھتے ہوئے کہ حضور نبی کریمؐ اس کی حاضری سے آگاہ ہیں اور سلام و کلام کو سُن رہے ہیں۔ درمیانی آواز میں اس طرح سلام کرے، مفہوم: اے نبی کریمؐ! آپؐ پر سلام اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں۔ درود ابراہیمی پڑھیں اور پھر یہ دعائیں کریں، مفہوم: ’’ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تیرے پاس آتے ہیں، اللہ سے بخشش مانگتے اور ان کے لیے رسولؐ بخشش مانگتے تو وہ اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا پاتے۔‘‘

مفہوم: ’’ اے اللہ! ہم نے تیرا فرمان سنا اور تیرے احکام کی تعمیل میں تیرے نبیؐ کے حضور حاضر ہیں اور اس کے ساتھ ہم اپنے گناہوں کے لیے تیرے دربار میں آپ کی شفاعت کے امیدوار ہیں۔ مفہوم : اے اللہ! ہماری توبہ قبول فرما اور ہم پر رحم و کرم فرما اور حضور نبی کریمؐ کی زیارت سے نواز دے۔ آپؐ کی شفاعت ہمیں نصیب فرما۔ یارسول اللہ! (ﷺ) ہم آپؐ کی بارگاہ میں اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہوئے، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے حاضر ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رؤف و رحیم قرار دیا ہے۔ ہمیں آپؐ اس کی شفاعت فرمائیے جو آپؐ کے دربار میں حاضر ہوا ہے اور اپنی جان پر ظلم اور اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہے اور اپنے رب کے حضور توبہ کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی زائر کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین، رشتے داروں، دوستوں احباب وغیرہ کے لیے بھی دعا کرے اور آپؐ سے وسیلہ اور شفاعت کی درخواست یوں کرے۔ مفہوم: اے رسول اللہ! ﷺ میں آپؐ سے شفاعت مانگتا ہوں اور آپؐ کی ذات کو اللہ کے حضور وسیلہ بناتے ہوئے یہ کہ میں آپؐ کی امت مسلمہ پر مروں اور آپؐ کی سُنّت پر موت آئے۔ اگر کسی شخص نے نبی کریمؐ کی خدمت میں سلام عرض کرنے کے لیے کہا ہو تو اس کا سلام بھی اپنے سلام کے بعد کرے۔ اس کے بعد پھر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑا ہوجائے اور اسی طرح پھر سلام عرض کرے اور وسیلہ شفاعت اور امداد کے لیے درخواست کرے۔ پھر کہیں بیٹھ کر کلمۂ تمجید، کلمۂ توحید، دعا و ثنا اور حضرت نبی کریمؐ پر درود بھیجے۔ پھر جنّت کی کیاری میں منبر مبارک سے برکت حاصل کرے۔ اس جگہ پر آئے، جہاں اصل میں منبر مبارک تھا اور یہی مقام آنحصرت نبی کریم الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کا ہے۔ یہاں پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کیوں کہ اس جگہ پر دعا قبول ہوتی ہے۔

مدینہ طیبہ کی حاضری امتی کے لیے نعمت عظمی ہے، یہ نہایت ہی ادب کا مقام ہے، اس لیے زائر کو چاہیے کہ وہ یہاں نہایت ادب و احترام کو ملحوظ رکھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔