زندگی محفوظ کرنے کیلئے دس کھرب درخت لگانے کا چیلنج

سید عاصم محمود  اتوار 4 اگست 2019
سائنس دانوں نے ایک انقلابی منصوبہ بنی نوع انسان کے سامنے پیش کر دیا

سائنس دانوں نے ایک انقلابی منصوبہ بنی نوع انسان کے سامنے پیش کر دیا

چالیس سال پیشتر میرا بچپن و لڑکپن لاہور اور پھر کراچی میں گزرا ۔ خوب یاد ہے، جب کبھی صبح سویرے سیر کرنے نکلتا ، تو فضا درختوں سے خارج ہوتی آکسیجن سے معمور ہوتی۔ پاک صاف ہوا میں سانس لے کر جسم و جاں تازہ دم اور طبعیت ہشاش بشاش ہوجاتی۔ لیکن اب کراچی و لاہور سمیت وطن عزیز کے تمام بڑے شہروں میں ایسے مقامات بہت کم ہیں جہاں شہریوں کو آکسیجن سے بھر پور صحت مند ہوا میسّر آسکے۔حتی کہ باغات میں بھی کوئی نہ کوئی اجنبی بو فضاکا حصہ محسوس ہوتی ہے۔

بیشتر شہری آلودہ ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہیں جو انہیں مختلف بیماریوں میں مبتلا کررہی ہے۔ارض پاک کے شہری علاقوں میں آلودہ ہوا نے دو عوامل کے ملاپ سے جنم لیا۔ اول جوں جوں شہروں کا رقبہ بڑھا، تعمیراتی منصوبے انجام دینے کے لیے لاکھوں درختوں اور پودوں کو کاٹ دیا گیا جو نہ صرف آکسیجن خارج کرتے تھے بلکہ ہوا میں موجود خطرناک گیسیں اور ذرات بھی جذب کرلیتے۔ دوم شہروں میں رکازی ایندھن (پٹرول، گیس، کوئلے) سے چلنے والے کارخانے اور گاڑیاں حرکت میں آگئیں۔

یہ کارخانے اور گاڑیاں روزانہ بے حساب دھواں فضا میں خارج کرتی ہیں جس میں آلودگی جنم دینے والی گیسیں اور ذرات پائے جاتے ہیں۔غرض پہلے تو ہوا تروتازہ رکھنے والے درخت شہروں سے معدوم ہوئے اور پھر وہ گاڑیوں اور کارخانوں سے بھر گئے۔ یہی نہیں، شہروں کا فضلہ بھی جلایا جانے لگا جس نے فضائی آلودگی میں اضافہ کردیا۔ تازہ سائنسی رپورٹوں کے مطابق بھارت اور پاکستان کے شہروں میں فضائی آلودگی دیگر عالمی شہروں کی نسبت سب سے زیادہ ہوچکی۔ یہی وجہ ہے، آج آپ کراچی یا لاہور کے کسی باغ میں صبح سویرے بھی چلے جائیں تو وہاں آپ کو آکسیجن و پھولوں کے ملاپ سے جنم لینے والی وہ دلربا مہک بہ مشکل ملے گی جو چالیس پچاس سال قبل روح مہکا دیا کرتی تھی۔

جدید تحقیق نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ آلودہ ہوا میں شامل گیسوں، صنعتی فضلے،کوڑے کرکٹ اور گردو غبار کے ننھے منے زہریلے ذرات (Particulate matter)بذریعہ سانس ہمارے دماغ، دل، جگر اور پھیپھڑوں تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ ان کی وجہ سے لاکھوں شہری امراض تنفس کے علاوہ کندذہن اور یادداشت میں کمی کا شکار ہونے لگے ہیں۔ وہ پہلے کی طرح چست و چالاک نہیں رہے۔ جب جسم میں آلودہ ہوا کے زہریلے ذرات کی کثرت ہوجائے، تو کوئی بھی اہم عضو کینسر کا نشانہ بن سکتا ہے۔ گویا شہروں میں آلودہ فضا کروڑوں انسانوں کی تندرستی کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکی۔

آبی ذرائع خطرے میں

ہوا کی آلودگی اور زمین کے بڑھتے درجہ حرارت (گلوبل وارمنگ) نے مل کر پانی اور خوراک کے ذخائر کو بھی ختم ہونے کے خطرے سے دوچار کردیا۔کرہ ارض پہ زندگی پانی، ہوا اور خوراک…ان تینوں کے دم قدم ہی سے برقرار ہے۔ ذرا سوچیے، اگر ان میں سے ایک شے بھی ہمیں میسر نہ آئے، تو کرہ ارض سے زندگی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ صد افسوس کہ انسان اپنی سرگرمیوں کے ذریعے ہی اسی خوفناک قیامت کو جنم دے رہا ہے۔سب سے پہلے پانی کی نعمت کو لیجیے کیونکہ انسانی جسم کا 60 فیصد حصہ اسی مائع پر مشتمل ہے۔

دماغ ‘ دل اور جگر سمیت ہمارے تمام اہم اعضا پانی کی مدد ہی سے اپنے افعال انجام دیتے ہیں۔ پانی نہ ملے تو وہ کام نہیں کر پاتے ا ور انسان بڑے اذیت ناک طریقے سے موت کی آغوش میں پہنچ جاتا ہے۔ گویا انسان جب پیاسا ہو‘ تو ا یک گلاس پانی اس کے لیے سونے چاندی سے بھی زیادہ قیمتی بن جائے گا ۔ اسی لیے ایک بادشاہ نے پیاس کی حالت میں اپنی سلطنت کی قیمت ایک پیالہ پانی لگائی تھی۔دلچسپ بات یہ کہ ساڑھے چار ارب سال پہلے زمین پر پانی بہت کم تھا۔ رفتہ رفتہ جب سیارچے (Asteroids) اور شہاب ثاقب (Comets) زمین سے ٹکرائے‘ تو ان میں محفوظ پانی بھی کرہ ارض میں منتقل ہو گیا۔ یوں زمین پر پانی کی کثرت ہو گئی۔اور پھر اسی کی بدولت کرہ ارض پر زندگی کی نمو ممکن ہو سکی۔

زمین کی ایک نادر و نایاب خصوصیت کے باعث پانی سمندروں‘ جھیلوں اور تالابوں وغیرہ کی صورت جمع ہوا۔ وہ یہ کہ زمین سورج سے اتنی دور ہے کہ اس کی حدت سارے ارضی پانی کو بخارات میں تبدیل نہیں کر پاتی۔ دھوپ سے جو پانی بخارات بن جائے اس کا بھی بیشتر حصہ زمین کی کشش ثقل کے باعث ارضی فضا میں چکر لگاتا رہتا ہے۔

زمین مگر سورج سے اتنی دور بھی نہیں کہ اس پر موجود پانی درجہ حرارت کم ہونے پر برف بن جائے۔ گویا جب ہمارا شمسی نظام وجود میں آیا تو قدرت الٰہی نے کرہ ارض کو ٹھیک ایسے مقام پر رکھ دیا جہاں بہ آسانی زندگی جنم لے سکے۔عام خیال یہ ہے کہ کرہ ارض پر محفوظ پانی ارضی فضا سے نکل نہیں پاتا ۔ یہ سوچ غلط ہے۔ دراصل جب پانی بخارات کی صورت فضا میں پہنچے‘ تو وہاں فوٹون ذرات پانی کے سالمات (مالیکیولز) توڑ ڈالتے ہیں۔

یہ کیمیائی عمل ’’نورکثافت‘‘ (Photodissociation) کہلاتا ہے۔ یہ عمل ہائیڈروجن اور آکسیجن گیسوں کے ایٹم علیحدہ کر دیتا ہے جن سے کہ پانی بنتا ہے۔ تب کچھ ہائیڈروجن ایٹم ارضی کشش ثقل سے آزاد ہو کر خلا میں فرار ہو جاتے ہیں۔گویا ہماری زمین روزانہ کچھ پانی سے محروم ہو رہی ہے۔ مگر زمین پر روزانہ ہی شہاب ثاقب کے ٹکڑے بھی گرتے ہیں۔ چنانچہ ان میں محفوظ پانی زمینی پانی کا حصہ بن جاتا ہے ۔ اس قدرتی عمل کے باعث زمین پر پانی کی مقدار کم نہیں ہو پاتی اور لاکھوں برس سے تقریباً یکساں چلی آ رہی ہے۔ لیکن اب انسانی سرگرمیاں یہ قدرتی توازن تباہ کرنے سے کرہ ارض پر پانی کی کمی پیدا کر سکتی ہیں۔

مثبت و منفی خصوصیات کی حامل گیسیں

زمین کا درجہ حرارت معتدل رکھنے میں سبز مکانی گیسوں (Greenhouse Gases) کا بنیادی کردار ہے۔ یہ گیسیں آبی بخارات (ہائیڈروجن و آکسیجن)، کاربن ڈائی آکسائیڈ ،میتھین اور اوزون پر مشتمل ہیں۔ یہ گیسیں سورج کی دھوپ زمین تک پہنچنے دیتی ہیں اور ان کا راستہ نہیں روکتیں۔ جب زمین دھوپ سے گرم ہو جائے تو تپش والی شعاعیں خارج کرتی ہے۔ سبز مکانی گیسیں ان گرم شعاعوں کا بہت سا حصّہ جذب کر کے انہیں واپس زمین کی طرف پھینکتی رہتی ہیں۔ یہ عمل سائنسی اصطلاح میں ’’سبز مکانی اثر‘‘ (Greenhouse effect)کہلاتا ہے۔

گویا زمین پر زندگی کی پیدائش میں سبز مکانی گیسوں کا بھی اہم کردار ہے۔ وجہ یہ کہ اگر سبزمکانی گیسیں نہ ہوتیں‘ تو سورج کی دھوپ سطح زمین کو زیادہ گرم نہیں کر پاتی۔ چنانچہ سطح زمین کا درجہ حرارت منفی 18 درجے سینٹی گریڈ رہتا ۔ اتنی شدید سردی میں زندگی بمشکل ہی جنم لیتی۔ یعنی سبزمکانی گیسیں زندگی کی بقا کی ضامن ہیں۔ ان کے باعث ہی سطح زمین کا درجہ حرارت 15 درجے سینٹی گریڈ ہوا اور یوں یہ ممکن ہو گیا کہ زندگی معتدل ماحول میں نشوونما پا سکے۔

زمین کی فضا میں چکر کھاتی گیسوں میں سبز مکانی گیسوں کا حصہ بہت کم ہے۔ ارضی فضا 78 فیصد نائٹروجن‘ 21 فیصد آکسیجن اور 0.9 فیصد آرگون گیسوں سے بنی ہے۔ اس فضا کا صرف 0.1فیصد حصہ سبز مکانی گیسوں پر مشتمل ہے۔ مگر جیسا کہ بتایا گیا،یہ اپنے کام کے اعتبار سے بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر یہ زمین سے اٹھتی پُرتپش شعاعیں قابو میں نہ رکھیں تو زمین کی آب و ہوا شدید سرد ہو جائے ۔ان گیسوں کا 65فیصد حصہ آبی بخارات، 25 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ، 6فیصد میتھین اور 4فیصد اوزون گیس پر مشتمل ہے۔

دیگر سبز مکانی گیس بھی ہیں مگر ارضی فضا میں ان کی مقدار بہت کم ہے۔قدرت الٰہی نے کائنات کی ہر شے کی طرح سبز مکانی گیسوں کی مقدار میں بھی توازن رکھا ۔ ظاہر ہے، اگر زمین کی فضا میں ان گیسوں کی مقدار بڑھ جائے، تو یہ سطح زمین سے اٹھنے والی تپش بھی زیادہ مقدار میں جذب کرکے اسے واپس کرہ ارض کی جانب پھینکیں گی۔ اس طرح زمین کا درجہ حرارت بڑھ جائے گا۔ جدید انسان کی سرگرمیاں سبز مکانی گیسوں کی مقدار بڑھا کر ہی درجہ حرارت میں ’’غیر فطری‘‘ اضافہ کررہی ہیں۔

ماضی میں سبز مکانی گیسوں کی مقدار گھٹتی بڑھتی رہی ہے۔ لیکن یہ کمی بیشی کرہ ارض کی آب و ہوا (Climate) اور موسموں (Weather) میں فطری تبدیلیوں کے باعث وجود میں آتی تھی، اسی لیے انہوں نے جانداروں کو زیادہ متاثر نہیں کیا اور زندگی پھلتی پھولتی رہی۔ لیکن حضرت انسان اپنی سرگرمیوں سے فضا میں سبز مکانی گیسوں کی مقدار بڑھا رہا ہے جو ایک غیر فطری عجوبہ بن چکا۔ اسی لیے انسانی سرگرمیاں کرہ ارض کے فطری آب و ہوائی نظام کو نقصان پہنچا کر اسے تلپٹ کرنے لگی ہیں۔

سبز مکانی گیسیں بڑھنے کا عمل تین سو سال قبل شروع ہوا جب انسان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ انسان زیادہ مویشی پالنے لگے۔ مویشی چارا کھا کر میتھین خارج کرتے ہیں۔ چاول کے کھیت اور سڑتا کوڑا کرکٹ بھی میتھین چھوڑتے ہیں۔ جنگل جلنے سے بھی میتھین فضا میں شامل ہوتی ہے۔ یوں فضا میں اس گیس کی مقدار بڑھنے لگی۔اس دوران انسان پٹرول، گیس اور کوئلہ بطور ایندھن استعمال کرنے لگا۔ یہ ایندھن جل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج کرتے ہیں۔ چناں چہ فضا میں اس گیس کی مقدار میں بھی اضافہ ہونے لگا۔

پچھلے تین سو برس میں انسان اپنی سرگرمیوں کے باعث فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین، دونوں سبزمکانی گیسوں کی مقدار میں بہت زیادہ اضافہ کرچکا۔ 1750ء میں فضائی گیسوں کے ہر ایک ارب حصوں میں میتھین کی مقدار ’’722 حصے‘‘ تھی۔ 2019ء میں یہ مقدار بڑھ کر ’’1866 حصّے‘‘ ہوچکی۔ اسی طرح 1750ء میں فضائی گیسوں کے ہر دس لاکھ حصوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ’’395 حصے‘‘ تھی جو 2019ء میں بڑھ کر ’’417 حصے‘‘ تک پہنچ چکی۔ فضا میں دونوں سبز مکانی گیسوں کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے۔سائنس داں خبردار کررہے ہیں کہ اگر یہ اضافہ مسلسل جاری رہا، تو خدانخواستہ ’’فراری سبزمکانی اثر‘‘ (Runaway greenhouse effect) کرہ ارض پر جنم لے سکتا ہے۔ اس عمل کو بس قیامت کی آمد سمجھیے۔ اگر یہ وجود میں آیا، تو زمین سے انسان سمیت تمام جاندار ناپید ہوجائیں گے اور کرہ ارض ایک دہکتے گولے کی صورت اختیار کرلے گا۔

’’فراری سبز مکانی اثر‘‘ اس وقت جنم لیتا ہے جب ایک سیارے کی فضا میں سبز مکانی گیسوں کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جائے۔ چناں چہ وہ سیارے کی سطح سے اٹھنے والی ساری پُرتپش شعاعیں جذب کرکے انہیں واپس نیچے دھکیل دیتی ہیں۔ وہ شعاعیں سطح کا درجہ حرارت اتنا زیادہ بڑھاتی ہیں کہ اس پر پانی ہرگز جمع نہیں ہوپاتا۔ یہ عجوبہ سیارہ زہرہ پر ظہور پذیر ہوچکا۔ اربوں سال قبل زہرہ پر ایک وسیع سمندر موجود تھا۔ سیارے کی فضا سبز مکانی گیسیں رکھتی تھی۔جب زہرہ میں درجہ حرارت بلند ہوا تو گیسوں نے ’’فراری سبز مکانی اثر‘‘ جنم دے ڈالا۔ چناں چہ کچھ ہی عرصے میں سیاہ زہرہ کا سارا پانی خلا میں تحلیل ہوگیا۔سائنس دانوں کے مطابق زمین کی فضا میں سبز مکانی گیسوں کا تناسب بہت کم ہے۔

اس لیے فی الحال وہ ’’فراری سبز مکانی اثر‘‘ پیدا نہیں کرسکتیں۔ لیکن انسانی سرگرمیوں کے باعث فضا میں سبز مکانی گیسوں کا تناسب بڑھتا رہا، تو ارضی سطح کا درجہ حرارت اگلے پچاس برس میں دو سے چار درجے سینٹی گریڈ کے مابین بڑھ جائے گا۔ایک خطرناک بات یہ کہ ممکن ہے، آنے والے برسوں میں زمین کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھنے لگے۔ وجہ یہ کہ سبز مکانی گیسیں جذب کرنے زمین کے دو سب سے بڑے محافظ تھکن و بڑھاپے کا شکار ہوچکے۔

ہمارا پہلا بڑا محافظ

زمین کے پہلے طاقتور محافظ سمندر ہیں۔ کرہ ارض کے70 فیصد حصے پر سمندر پھیلے ہوئے ہیں ۔ عالمی سطح پہ آب و ہوا اور موسم پیدا کرنے میں انہی سمندروں کا بڑا کردار ہے۔ سمندر ارضی سطح پہ جنم لینے والی بہت سی پرُتپش شعاعیں جذب کرکے سطح زمین کا درجہ حرارت معتدل رکھتے ہیں۔ مزید براں فضا میں گھومتی بہت سی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بھی جذب کرتے ہیں۔

مسئلہ مگر یہی ہے کہ انسانی سرگرمیاں قدرتی توازن بگاڑ کر سمندروں کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے ڈھائی سو برس کے دوران انسانی سرگرمیوں سے جتنی بھی کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا ہوئی ہے، اس کا 25 فیصد حصہ سمندروں میں جذب ہوچکا۔ مزید براں انسانی سرگرمیوں کے باعث زمین سے اٹھتی پُرتپش شعاعوں میں اضافہ ہوا تو ان کے بڑے حصے کو بھی سمندروں نے جذب کرلیا۔ اس طرح سمندروں نے زمین کا درجہ حرارت اعتدال پر رکھا اور اسے زیادہ بڑھنے نہیں دیا۔ مگر انسان کی سرگرمیوں کے منفی عوامل پر پردہ ڈالے ہوئے سمندروں نے اپنے آپ کونقصان پہنچا لیا۔

دراصل سمندر حد سے زیادہ پُر تپش شعاعیں جذب کرلیں تو قدرتاً ان کا پانی گرم ہوجاتا ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ سمندروں میں الجی اور دیگر نباتات معتدل درجہ حرارت میں نشوونما پاتے ہیں۔ سمندری نباتات پھر چھوٹے آبی جانور کھا کر پلتے بڑھتے ہیں۔

جبکہ مچھلیاں، وہیل اور دیگر بڑے سمندری حیوان چھوٹے جانور کھا کر زندہ رہتے ہیں۔ گویا سمندروں میں زندگی کا ایک باقاعدہ چکر چل رہا ہے جسے قدرت الٰہی نے جنم دیا۔سمندروں میں زندگی کا قدرتی چکر مگر اب شدید خطرے سے دوچار ہے۔ پچھلے ڈھائی سو برس کے دوران انسان ساختہ پُر تپش شعاعیں اور کاربن ڈائی گیس مسلسل جذب کرنے کی وجہ سے سمندروں کا پانی کافی گرم ہوچکا۔ لہٰذا کئی سمندری مقامات سے الجی اور دیگر نباتات کے خاتمے کا افسوس ناک عمل جاری ہے ۔ نباتاتی غذا نہ ملنے سے وہاں چھوٹے جانور بھی ناپید ہوگئے۔ چھوٹے جانوروں کی عدم دستیابی سے مچھلیاں بھی بھوکی مرنے لگی ہیں۔ یہی وجہ ہے، سمندروں میں مچھلیوں کی تعداد تیزی سے کم ہورہی ہے۔ اس کمی کی ایک بڑی وجہ سمندری پانی میں بڑھتی تیزا بیت بھی ہے۔

دنیا میں ہر مائع دو حالتیں رکھتا ہے: تیزابی اور القلی۔ مائع کتنا تیزابی یا القلی ہے، اس کی پیمائش پی ایچ پیمانے (pH scale) پر ہوتی ہے۔ اس پیمانے کے مطابق عام درجہ حرارت میں خالص پانی نیوٹرل حیثیت رکھتا ہے یعنی نہ تیزابی ہوتا ہے نہ القلی۔ پیمانے پر خالص پانی کا نمبر 7 ہے۔ ماضی میں سمندری پانی القلی تھا اور اسے نمبر 8 دیا گیا تھا۔ مگر پچھلے دو سو برس میں سمندری پانی کی تیزابیت 30 فیصد بڑھ چکی۔ وجہ پانی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا زیادہ جذب ہونا ہے۔سمندری پانی کی بڑھتی تیزابیت خول والے آبی جانوروں اور مچھلیوں کے لیے خطرناک ہے۔

زیادہ تیزابیت ان کے خول گھلا دیتی ہے۔ گویا سمندری پانی کی تیزابیت میں مزید اضافہ ہوا، تو مستقبل میں سمندر خول والے جانوروں اور مچھلیوں سے محروم ہوسکتے ہیں جو ایک بڑا المیہ ہوگا۔ ایسی صورت میں عام سمندری مچھلیوں کی نشوونما پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔دوسرا بڑا خطرہ یہ ہے کہ ایک سمندر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت نہ رہے، تو وہ یہ گیس دوبارہ فضا میں خارج کرنے لگتا ہے۔ گویا سمندروں نے مستقبل میں جب بھی اپنے اندر جذب شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ ماحول میں خارج کرنا شروع کی، تو نیا مسئلہ جنم لے گا۔ سمندروں سے اس گیس کا اخراج فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں تیزی سے اضافہ کرے گا۔ یوں زمین کا درجہ حرارت بھی زیادہ بلند ہونے لگے گا جس سے نئے مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں۔

ماں سے تشبیہ دی گئی ٹھنڈی چھاؤں

زمین کے دوسرے بڑے محافظ درخت ہیں۔ یاد رہے، ہائیڈروجن، ہیلیم اور آکسیجن کے بعد کاربن کائنات میں سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر ہے۔ یہ قدرتی طور پر ٹھوس یا گیسی حالت میں ملتا ہے۔ گیسی حالت میں کاربن کا ایک ایٹم آکسیجن کے دو ایٹموں سے مل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بناتا ہے۔ ان دونوں عناصر کے ایک ایک ایٹم مل کر کاربن مونو آکسائیڈ بھی بناتے ہیں جو ایک زہریلی گیس ہے۔ارضی ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کا ایک بڑا ذریعہ درخت و پودے بھی ہیں۔

درخت یہ گیس جذب کرکے کاربن کو بطور غذا استعمال کرتے ہیں۔ یہ کاربن ان کی جڑوں، تنے، شاخوں اور پتوں میں جمع ہوجاتا ہے جبکہ آکسیجن فضا میں شامل ہوجاتی ہے جس میں کہ زمین پر آباد تمام جاندار سانس لیتے ہیں۔ گویا کرہ ارض پر درخت نہ ہوں تو آکسیجن کی کمی سے انسان سمیت تمام جاندار ہلاک ہوجائیں۔ایک بڑا سایہ دار درخت دو سے چار انسانوں کو آکسیجن فراہم کرتا ہے۔جبکہ ایک ہیکٹر رقبے پہ لگے تقریباً ایک ہزار درخت روزانہ آٹھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ چوسنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق درخت کا ’’پچاس فیصد حصہ‘‘ کاربن سے بنا ہوتا ہے۔ گویا آکسیجن پیدا کرنے کے علاوہ درختوں کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ چوس کر ارضی فضا میں اس گیس کی مقدار متوازن رکھتے ہیں۔ خدانخواستہ زمین سے درخت ناپید ہوجائیں، تو زندگی بھی تادیر باقی نہیں رہ سکتی۔ کرہ ارض پر حقیقتاً زندگی کا وجود درختوں کے دم قدم سے بھی قائم ہے۔بدقسمتی سے پچھلے دو ڈھائی سو برس کے دوران انسان گھر، کھیت، فیکٹریاں، سڑکیں وغیرہ بنانے کی خاطر سینکڑوں جنگلات کا صفایا کرچکا۔ اس عمل سے دو بڑے نقصانات رونما ہوئے۔ اول درختوں کی لکڑی جلنے سے کثیر تعداد میں کاربن ڈائی آکسائیڈ ماحول میں جاشامل ہوئی۔ دوسرے انسان نے آکسیجن پیدا کرنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ چوسنے والے اربوں درخت تباہ کردیئے۔ اس کوتاہی سے بھی زمینی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھ گئی۔ یہ اضافہ اب بنی نوع انسان کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکا۔

وجہ یہ ہے کہ زمین کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ دیگر سبز مکانی گیسوں کا اضافہ عالمی آب و ہوا کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں لارہا ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے موسم تبدیل ہورہے ہیں۔ خصوصاً کئی ممالک میں موسم سرما کا دورانیہ کم ہوچکا اور گرمی بڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں یورپ گرمی کی شدید لہر میں گرفتار رہا اور بلند درجہ حرارت کے کئی ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

اسی طرح برصغیر پاک و ہند میں حالیہ مون سون کا موسم تاخیر سے شروع ہوا اور بیشتر علاقوں میں اس کی شدت بھی زیادہ نہیں۔ بعض علاقوں مثلاً ممبئی میں تو زبردست بارشیں ہوئیں مگر دیگر علاقوں میں معمول سے کم بارشں دیکھنے کو ملی۔ اس قسم کے موسمیاتی عجوبے سبز مکانی گیسوں کی وجہ سے درجہ حرارت غیر قدرتی انداز میں بڑھنے کا نتیجہ ہیں۔عالمی آب و ہوا اور موسموں میں تبدیلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ بارشوں کے انداز بدل رہے ہیں۔ کبھی یک دم بہت تیز بارشیں ہونے لگتی ہیں۔ کبھی مہینوں گزر جاتے ہیں، بارش نہیں ہوتی۔ اس باعث مختلف علاقوں میں قحط جنم لے چکے اور وہاں کھیت و باغات تباہ ہوگئے۔ یہ تباہی عالمی سطح پر خوراک کی قلت کو جنم دے رہی ہے۔اسی باعث خوراک کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔

غرض پچھلے ڈھائی سو برس کے دوران انسان نے محیر العقول ترقی تو ضرور کرلی مگر اب اس بڑھوتری کے خطرناک ضمنی اثرات بھی سامنے آرہے ہیں۔ ان اثرات نے کرہ ارض میں جاری و ساری ہوا، پانی اور خوراک کا فطری نظام درہم برہم کردیا اور یہ نعمتیں انسان سے چھنتی چلی جارہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انسان کھربوں درخت لگالے تو ہوائی آلودگی اور بڑھتے درجہ حرارت کے منفی اثرات خاصی حد تک کم کرسکتا ہے۔ گویا کرہ ارض پر درخت ہی بنی نوع انسان کے سب سے طاقتور محافظ بن چکے جو نہ صرف ہوا میں موجود کاربن گیسیں اور ذرات جذب کرتے ہیں بلکہ آکسیجن خارج کرکے فضائی آلودگی کے اثرات کم کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے، پوری دنیا میں سائنس داں حکومتوں سے لے کر عوام تک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ہر خالی جگہ پر درخت و پودے لگائیں تاکہ آنے والی انسانی و حیوانی نسلوں کا مستقبل محفوظ و صحت مندانہ بنایا جاسکے۔ اس سلسلے میں ایک تجویز پچھلے دنوں سوئٹزر لینڈ میں سامنے آئی۔

بنی نوع انسان کو چیلنج

سوئٹزر لینڈ کے شہر زیورچ میں ایک تحقیقی ادارہ،فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی واقع ہے۔اس ادارے سے منسلک سائنس داں پچھلے دو برس سے گوگل میپ اور دیگر آلات کی مدد سے یہ تحقیق کر رہے تھے کہ کرہ ارض کا کتنا رقبہ جنگلات،باغات اور درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔اس تحقیق کا نتیجہ پچھلے ماہ سامنے آیا۔انکشاف ہواکہ زمین کا ایک ارب ہیکٹر رقبہ خالی ہے جس پہ دس کھرب(ایک ٹرلین)درخت لگائے جا سکتے ہیں۔یہ ایک بڑی خوش خبری ہے۔یاد رہے،صنعتی انقلاب شروع ہونے سے قبل دنیا ساٹھ کھرب درختوں کی چھتری سے ڈھکی ہوئی تھی۔مگر اب صرف تیس کھرب درخت رہ گئے ہیں۔زمین ہر سال دس ارب درخت کھو رہی ہے جو ہولناک المیہ ہے۔

کرہ ارض کے خالی پڑے ایک ارب ہیکٹر رقبے میں سے آدھا چھ ممالک…روس،کینیڈا،آسٹریلیا،برازیل اور چین میں واقع ہے۔بقیہ دیگر ملکوں میں پھیلاہوا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رقبے پر درخت لگ جائیں تو وہ اگلے پانچ چھ برس میں فضا سے 225 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائڈ گیس چوس لیں گے۔(واضح رہے،پچھلے تین سو برس سے 750ٹن کاربن ڈائی آکسائڈ فضا میں شامل ہو چکی)۔اس عمل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ فضا میں یہ خطرناک گیس کم ہونے سے زمین کے درجہ حرارت میں کمی آئے گی۔یوں بدلتی آب وہوا اور موسموں کے منفی عوامل سے نمٹنا آسان ہو گا۔

دس کھرب درخت لگانا مگر آسان کام نہیں، اس منصوبے پر کھربوں روپے اور بہت سا وقت و توانائی خرچ ہو گی۔امریکا کی مشہور مخیر ہستی،وارن بفٹ نے یہ چیلنج قبول کر لیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ درخت لگاؤ مہم کے سلسلے میں کثیر رقم دینے کو تیار ہیں۔نیز دیگر کھرب پتیوں کو بھی اس مہم کا حصہ بنائیں گے۔وارن بفٹ کا مشہور قول ہے:’’آج آپ سایہ دار درخت کے نیچے آرام سے اس لیے بیٹھے ہیں کہ برسوں قبل ایک ہمدرد انسان نے اسے لگایا تھا۔‘‘یہ ضروری ہے کہ دنیا میں آباد تمام لوگ خالی جہگوں پر زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں تاکہ اپنے بچوں کا مستقبل خوشگوار اور بہتر بنا سکیں۔بقول شخصے جان ہے تو جہاں ہے۔

پاکستان کے لیے درخت اُگاؤ

1947ء میں جب پاکستان آزاد ہوا تو اس کے وسیع رقبے پر جنگلات اور باغات موجود تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ لکڑی اور زمین حاصل کرنے کی خاطر کروڑوں درخت کاٹ ڈالے گئے۔ چنانچہ 2015ء میں سرزمین پاکستان پر جنگلات کا رقبہ سکڑ کر صرف 1.91 فیصد رہ گیا۔ درختوں کی کمی نے پاکستان کے ماحول میں بڑھتی آلودگی کا عمل تیز تر کردیا۔2014ء میں حکومت خیبرپختونخواہ نے ’’بلین ٹری سونامی‘‘ منصوبے کا آغاز کیا۔ اس منصوبے کے تحت اگست 2017ء تک صوبے کے مختلف اضلاع میں ایک ارب درخت لگائے گئے۔

ستمبر 2018ء میں وزیراعظم پاکستان، عمران خان نے دس ارب درخت لگانے کے منصوبے ’’پاکستان کے لیے درخت اگاؤ‘‘ (پلانٹ فار پاکستان) کا افتتاح کیا۔ وطن عزیز کو ہرا بھرا کرنے کی خاطر وزیراعظم کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ یہ عیاں کرتی ہیں کہ وہ آنے والی پاکستانی نسلوں کے مستقبل کا بھی تحفظ چاہتے ہیں۔دس ارب درخت اگلے پانچ برس کے دوران لگائے جائیں گے۔ منصوبہ اگر کامیاب رہا تو پاکستان میں جنگلات کا رقبہ 1.91 فیصد سے بڑھ کر چار پانچ فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ اربوں درخت لگانے سے پاکستان ماحول صاف ستھرا کرنے میں بھرپور مدد ملے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومتیں بھی درخت لگانے کے جامع منصوبوں کا آغاز کریں تاکہ مملکت خداداد کا ماحول انسان دوست بنایا جاسکے۔ درخت لگانے کے فوائد طویل عرصے بعد ملتے ہیں مگر وہ بیش بہا ہیں اور انسان کے لیے نہایت مفید بھی۔

کیلشیم کاربائیڈ کا استعمال

پاکستان، بھارت اور دیگر کئی ممالک میں آب و ہوا اور موسموں میں تبدیلیوں کے سبب بہت سے پھل اور سبزیاں پکنے میں زیادہ عرصہ لگانے لگی ہیں۔ مگر پھل و سبزی اگانے والا اور آڑھتی بھی مال جلد از جلد مارکیٹ بھیجنے کے خواہش مند ہوتے ہیں تاکہ رقم کمائی جاسکے۔ اس خواہش کا نتیجہ یہ نکلا کہ لالچی لوگ کیلشیم کاربائیڈ سفوف پھلوں اور سبزیوں پر لگانے لگے تاکہ انہیں جلد پکایا جاسکے۔ ان غذاؤں میں آم، کیلا، ناشپاتی، پپیتا، ٹماٹر اور چیکو نمایاں ہیں۔کیلشیم  معدن اور کاربن کے ملاپ سے کیلشیم کاربائیڈ بنتا ہے۔ یہ کیمیائی مادہ ایسیٹلین گیس بنانے اور کھاد و اسٹیل تیار کرنے میں کام آتا ہے۔ یہ مگر زہریلا مادہ ہے کیونکہ اس میں فاسفین (Phosphine) اور آرسین کے اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔

یہ زہریلے کیمیائی مرکبات انسانی جسم میں داخل ہوکر اعصابی نظام متاثر کرتے ہیں۔ انسان باتیں بھولنے لگتا ہے۔ بیماریاں آن دبوچتی ہیں اور انسان مسلسل کیلشیم کاربائیڈ استعمال کرے تو ذیابیطس اور کینسر کا بھی نشانہ بن سکتا ہے۔ لہٰذا ایسے پھل اور سبزیاں بالکل استعمال نہ کیجیے جنہیں کیلشیم کاربائیڈ یا کسی اور کیمیائی مادے سے پکایا گیا ہو۔زہریلے مادوں سے پاک آم کی جانچ کا طریقہ سادہ ہے۔ ایک آم پانی سے بھری بالٹی میں ڈبوئیے۔ اگر وہ ڈوب جائے تو مطلب یہ کہ اسے قدرتی انداز میں پکایا گیا ہے۔ اگر تیرنے لگے، تو اس کی پکائی میں کیلشیم کاربائیڈ استعمال ہوا ہے۔ واضح رہے، غیر فطری طریقے سے پکایا گیا آم بہت کم رس رکھتا ہے۔ اسے کھاتے ہوئے منہ میں جلن کا احساس ہوتا ہے۔ نیز کیمیائی مادوں سے پکائے گئے پھل اور سبزیاں دیکھنے میں صاف ستھری اور چمکتی دکھائی دیتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔