چاند پر انسانی قدم کی گولڈن جوبلی

رانا نسیم  اتوار 4 اگست 2019
 2سوارب ڈالر کے اپالو پروگرام نے انسانی تجسس کی تسکین کا سامان کیا

 2سوارب ڈالر کے اپالو پروگرام نے انسانی تجسس کی تسکین کا سامان کیا

’’ایک انسان کا چھوٹا سا قدم، انسانیت کی عظیم جَست ہے‘‘ آنجہانی نیل آرم سٹرانگ کے یہ وہ الفاظ تھے، جو انہوں نے 20 جولائی 1969ء کو چاند پر قدم رکھتے ہوئے کہے۔ چاند پر پڑنے والا یہ وہ پہلا انسانی قدم تھا، جس نے چاند کو انسان کے لئے مسخر کر دیا۔ بلاشبہ چاند کی تسخیر انسانی دماغ کا وہ کارنامہ ہے، جس نے حقیقی معنوں میں انسانیت کا سر فخر سے بلند کر دیا، جس نے ثابت کر دیا کہ واقعی انسان اشرف المخلوقات ہے۔

انسان کے چاند پر پہنچے کے منصوبے کو اپالو 11 مشن کا نام دیا گیا ہے، جسے آج 50 برس بیت چکے ہیں، ناسا کی طرف سے اس کامیاب مشن کی گولڈن جوبلی کو دنیا بھر میں بڑے دھوم دھام سے منایا جا رہا ہے، کہیں ناسا کی دفاتر سے لائیو براڈکاسٹنگ کا اہتمام کیا جا رہا ہے تو کہیں مشن میں استعمال ہونے والی چیزوں کی نمائش کی جا رہی ہے، جہاں اپالو 11 میں استعمال ہونے والی اشیاء کی کروڑوں ڈالر میں نیلامی کرکے اس مشن کی کامیابی کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

سائنس دانوں اور انجینئرز سمیت تقریباً 4 لاکھ افراد کی انتھک محنت اور اربوں ڈالر کی لاگت سے جولائی 1969ء کو صبح نو بج کر بتیس منٹ پر اپالو 11 امریکی خلا نوردوں کو لے کر چاند پر قدم رکھنے کے لیے روانہ ہوا۔ اس مشن میں تین خلاء باز شامل تھے ، نیل آرمسٹرانگ، بز الڈرن اور مائیکل کولن۔ راکٹ 2 حصوں پر مشتمل تھا، ایک حصے کا نام کولمبیا اور دوسرے کو ایگل پکارا گیا۔ کولمبیا دراصل وہ حصہ تھا جو کہ چاند کے گرد چکر لگاتا رہا، اس میں مائیکل کولن سوار تھے جبکہ ایگل نے چاند کی سطح پر لینڈ کیا، جس میں نیل آرمسٹرانگ اور بزالڈرن سوار تھے۔ ایگل کے لینڈنگ کے فوراً بعد بز الڈرن نے مذہبی کلمات پڑھے جس کے بعد ایگل کا دروازہ کھول کر نیل آرمسٹرانگ چاند پر اتر گئے۔

اس منظر کو اْس وقت دنیا بھر میں تقریباً 60 لاکھ انسانوں نے ٹی وی پر دیکھا۔ اگلے اڈھائی گھنٹے تک دونوں سائنس دانوں نے چاند پر چہل قدمی کی، تصاویر کھینچیں، امریکی جھنڈا لگایا، پتھر اور گرد جمع کی، جس کے بعد وہ واپس ایگل میں آگئے اور 7 گھنٹے تک نیند پوری کی۔ زمین پر واپسی سے قبل بزالڈرن اور نیل آرمسٹرانگ چاند پر امریکی پرچم اور ایک صفحے پر اپنا پیغام بمعہ آٹو گراف چھوڑ کر آئے، پیغام کچھ یوں تھا ’’ہم سیارہ زمین کے انسان ہیں اور پہلے انسان ہیں، جنہوں نے چاند پر قدم رکھا، جولائی 1969 عیسوی۔ ہم سب کے لئے امن کا پیغام لائے ہیں‘‘ پھر انجن نے اڑان بھری اور کولمبیا راکٹ کے ساتھ منسلک ہوگیا جہاں مائیکل کولن ان کے منتظر تھے۔ 8 دن، 3گھنٹے، 18منٹ اور 35 سیکنڈ کے سفر کے بعد 24 جولائی 1969ء کو یہ ہیروز زمین پر پہنچے تو ایک زمانے نے ان کا تاریخی استقبال کیا۔

بلاشبہ چاند کی تسخیر نیل آرمسٹرانگ اور ان کی ٹیم کا عظیم کارنامہ ہے، لیکن 50 سال بعد بھی ایک مکتبہ فکر اسے تسلیم کرنے پر تیار نہیں، جس کی وہ بہت ساری وجوہات بیان کرتا ہے، کبھی ہوا نہ ہونے کے باوجود لہراتا ہوا جھنڈا، قدموں کے نشانات تو کبھی خلابازوں کے سایہ کو جھوٹ قرار دیا جاتا ہے، لیکن ماہرین فلکیات، سائنس دانوں اور انجینئرز کی ایک بڑی تعداد اسے درست تسلیم کرتے ہوئے اپنے جوابی دلائل دیتی ہے کہ جھنڈا لہرا نہیں رہا بلکہ لگاتے ہوئے اس میں سلوٹ پڑی تھی، چاند پر ہوا نہ ہونے کی بات درست ہے اور اسی وجہ سے قدموں کے نشانات برقرار رہے۔

اس کے علاوہ مختلف شعبہ جات کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسی بے یقینی کا اظہار ایسے ہی ہے جیسے کوئی یہ سوال کرنے لگے کہ کیا واقعی ٹائی ٹینک نامی جہاز کا کوئی وجود تھا اور کیا واقعی وہ حادثے کا شکار ہو کر غرق ہو گیا تھا؟ یہ اعتراض بھی کیاجاتا ہے کہ واپسی کے لئے لانچنگ پیڈ نہیں تھا راکٹ کیسے اڑا؟ اتنا فیول کہا ں سے آیا؟ تو اس کا جواب سائنسدان یہ دیتے نظر آتے ہیں کہ چوں کہ چاند پر کشش ثقل انتہائی کم ہوتی ہے اسی خاطر وہاں پر اڑنے کے لئے زیادہ فیول بالکل درکار نہیں ہوتا ، اس کے علاوہ چاند پر لینڈ کرنے والے کیپسول میں راکٹ ہوتا ہے جو اسے اترنے اور اڑنے میں مدد کرتا ہے بعد میں چاند کے مدار میں پہنچ کر یہی کیپسول بڑے راکٹ کے ساتھ جڑجاتا ہے، جو چاند کے مدار میں گردش کرتے ہوئے اس کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔

تمام ترمفروضات کے باوجود انسان کا چاند پر پہنچنا ایک حقیقت بن چکا ہے، جس کے لئے ایک طرف ماہرین کے اس کے حق میں دلائل ہیں تو دوسری طرف سب کی آنکھوں کے سامنے ہونے والی وہ کوششیں ہیں، جن میں نہ صرف دنیا کے عظیم دماغ استعمال ہوئے بلکہ اربوں ڈالر بھی خرچ ہوئے۔ چاند پر پہنچنے کا انسان نے جو خواب دیکھا، اس کی تعبیر آسان نہیں تھی، یہ حالات و واقعات نے ثابت کیا۔ 1958ء سے 1963ء تک ناسا نے انسان کو خلاء میں بھیجنے کے لئے ’’مرکری پراجیکٹ’’ لانچ کیا، جس کے لئے اْس وقت 28 کروڑ امریکی ڈالر خرچ ہوئے جبکہ 2 لاکھ امریکی ماہرین نے دن رات محنت کی۔

اس پراجیکٹ کے تحت 26 بار مختلف مشنز خلاء میں بھیجے گئے، جس کے بعد سائنسدانوں کا اگلا نشانہ زمین سے قریب ترین ٹھکانہ تھا۔ اور اس مقصد کے لئے ناسا نے 1961ء میں اپالو جبکہ 1966ء میں سروئیر(Surveyor) نامی پراجیکٹس لانچ کیے۔ اپالو تقریباً 12 مشنز پر مبنی تھا جبکہ سروئیر 7 مشنز پر مبنی پراجیکٹ تھا۔سروئیر پراجیکٹ کے تحت 1966ء سے 1968ء تک چاند کے مختلف علاقوں پر خلائی گاڑیاں اتار کر جائزہ لیا گیا کہ کون سی جگہ انسانوں کے اترنے کے موزوں ہے۔

27 جنوری 1967ء کو اپالو 1 کی ٹیسٹنگ کی گئی، اس کے عملے میں گیریسم، ایڈ وائٹ اور راجر شامل تھے۔ ابھی عملہ اندر داخل ہوکر مختلف آلات کی آزمائش میں مصروف تھا کہ راکٹ کے اس حصے میں آگ بھڑک اٹھی، ناسا کے عملے کی کوششوں کے باوجود ان خلاء بازوں کو باہر نہ نکالا جاسکا اور تینوں جل کر ہلاک ہوگئے۔ ان انتہائی تجربہ کار خلاء بازوں کی موت نے ناسا کے اپالو پراجیکٹ کو شدید دھچکا پہنچایا اورپراجیکٹ کو تقریباً د و سال کے لئے معطل کردیا گیا، لیکن ناسا کے ماہرین نے راکٹ کو بہتر بنانے کے لئے کام جاری رکھا۔ پراجیکٹ کی معطلی کے دوران اپالو 4،5،6 کو ٹیسٹ کرکے ان پر تحقیق کی گئی اور خامیوں کو ختم کیا گیا، جس کے بعد بالآخر جولائی 1969ء میں اپالو 11 مشن کامیابی سے ہم کنار ہوگیا اور اس حیران کن کامیابی کو آج دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے۔

اپالو پروگرام کے انسانیت پر چند احسانات

12 ستمبر 1962ء کو سابق امریکی صدر جان ایف کینڈی نے ٹیکساس میں رائس یونیورسٹی فٹبال سٹیڈیم میں 40 ہزار افراد کے مجمع کے سامنے چاند کو مسخر کرنے کا اعلان کیا، انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے چاند پر جانے کا انتخاب کیا ہے۔ ہم نئے سمندری سفر پر جا رہے ہیں، جس سے ہمیں نت سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق نئے علوم حاصل ہوں گے اور اس سے انسانیت کی مزید ترقی و بہتری ممکن ہو گی‘‘ پھر وقت نے ثابت کیا کہ اپالو پروگرام نے حقیقت میں انسان کے لئے مختلف شعبوں میں ترقی کی نئی راہیں کھول دیں، جیسے کہ انسان کی روزمرہ کی ضرورت یعنی صفائی کا کام اس پروگرام کی وجہ سے آسان ہو گیا۔ اگرچہ بغیر تار والے آلات اپالو پروگرام سے پہلے بن گئے تھے لیکن اِس پروگرام کے ذریعے اِن آلات کی وہ شکل سامنے آئی جو آج ہم دیکھتے ہیں۔

مثلاً آلات بنانے والی کمپنی بلیک اینڈ ڈیکر نے 1961ء میں اپنی پہلی ایسی ڈرل مشین بنائی جس میں تار نہیں تھے۔ اسی کمپنی نے خلا میں سیاروں سے مٹی کے نمونے جمع کرنے کے لیے ایک خاص ڈرل مشین امریکی خلائی ادارے ناسا کو بنا کر دی تھی۔ اِس ڈرل مشین کی تیاری سے حاصل ہونے والی مہارت اور علم کو استعمال کرتے ہوئے بلیک اینڈ ڈیکر نے بہت سے نئے گھریلو آلات متعارف کرائے جن میں دنیا کا پہلا دستی ویکیوم کلینر، ڈسٹ بسٹر 1979ء میں سامنے آیا۔ 30 سال میں ڈسٹ بسٹر کے پندرہ کروڑ سے زیادہ یونٹ فروخت ہوئے تھے۔

وقت کی اہمیت سے کون واقف نہیں، لیکن اس اہمیت کی قدر وہی کرتے ہیں، جو اس کا درست استعمال کرتے ہیں۔ انتہائی درست وقت، چاند پر لینڈ کرنے کے لیے لازمی تھا کیوں کہ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت کا فرق خلا میں زندگی اور موت کا مسئلہ بنا سکتا تھا۔ اس لیے ایسی جدید کوارٹز گھڑیاں بنائی گئیں جن میں ایک برس میں ایک منٹ سے بھی کم فرق پیدا ہوتا تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وقت کے بہتر استعمال کے لیے شہرت اْن روایتی میکینیکل کلائی کی گھڑیوں کو ملی جو نیل آرمسٹرانگ اور اْن کی ساتھی بز آلڈرن اپالو مشن پر پہنے ہوئے تھے۔

صاف پانی آج کی دستیابی آج دنیا بھر کا سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور اپالو پروگرام نے ہمیں اس مسئلہ سے نمٹنے میں بھی مدد فراہم کی ہے۔ اپالو مشن پر پانی صاف کرنے کی ٹیکنالوجی آج کئی طریقوں سے پانی کے ذخائر میں بیکٹیریا، وائرس اور کائی وغیرہ کے خاتمے میں استعمال ہوتی ہے۔ اپالو مشن نے کلورین کے بغیر، چاندی کے آئن استعمال کرنے کے پانی صاف کرنے کا طریقہ استعمال کیا تھا۔ اب یہ طریقہ دنیا بھر میں سوئمنگ پولز اور فواروں کی پانی کی صفائی کے لیے استعمال ہورہا ہے۔

جوتا سازی کی صنعت میں بھی اپالو پروگرام آج دنیا کے کام آ رہا ہے۔ خلاباز آج بھی 1965ء کے اپالو مشن کے خلائی لباس کے ڈیزائن پر بنے سوٹ استعمال کر رہے ہیں، جن کا بنیادی مقصد چاند پر چہل قدمی کے دوران خلابازوں کا تحفظ تھا لیکن یہ ٹیکنالوجی جوتا سازی کی جدید صنعت کے لیے ایک بڑی پیشرفت بھی بنی۔ اسی کے نتیجے میں پچھلے چند عشروں میں زیادہ لچکدار اور جھٹکا برداشت کرنے والے ایتھلیٹک جوتوں کی بہت سی اقسام مارکیٹ میں آئیں۔

اپالو پروگرام کی وجہ سے ایسا کپڑا تیار ہونے لگا، جو انسان کو آگ سے محفوظ رکھتا ہے۔ 1967ء میں اپالو اول کے ایک تربیتی مشن کے دوران لگنے والی آگ سے تین خلاباز ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد پورا پروگرام بحران کی زد میں آگیا تھا۔ لیکن اسی کے نتیجے میں ناسا نے آگ نہ پکڑنے والا ایسا کپڑا تیار کیا جو اب زمین پر بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اپالو مشن کے دوران خلابازوں کے لیے ٹھنڈک کی فراہمی کا نظام اب ملٹی پل سلروسس (ایم ایس) کا شکار افراد سمیت بہت سے مریضوں حتٰی کہ گھوڑوں کو بھی پرسکون رکھنے میں استعمال ہو رہا ہے۔

دنیا بھر میں آج دل کے امراض کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کا علاج نہ صرف مہنگا بلکہ مریض کیلئے تکلیف کا باعث بھی بنتا ہے۔ پیس میکر وہ آلہ ہے، جو دل کے ایسے مریضوں کو لگایا جاتا ہے جن کے دل کی دھڑکن خطرناک حد تک بے قاعدہ ہوتی ہے، یہ آلہ بھی ناسا کی ننھے سرکٹ کی ٹیکنالوجی کی بدولت بنا تھا۔ اسی طرح خوراک کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے کی جدید ٹیکنالوجی بھی انسان کو اپالو پروگرام سے اس وقت حاصل ہوئی، جب خلابازی میں اس کی ضرورت محسوس ہوئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔