اسپتالوں، میڈیکل سینٹرز اور ڈاکٹروں کو ٹیکس نوٹس جاری

ارشاد انصاری / اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 3 اگست 2019
 فائلرز21 لاکھ 54 ہزار ہوگئے ،ایف بی آر تعداد 40 لاکھ تک بڑھانا چاہتا ہے
فوٹو: فائل

 فائلرز21 لاکھ 54 ہزار ہوگئے ،ایف بی آر تعداد 40 لاکھ تک بڑھانا چاہتا ہے فوٹو: فائل

 اسلام آباد / کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس نوٹسز کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئیاسے نجی میڈیکل سینٹرز کے مالکان، ہسپتالوں اور ڈاکٹرز تک پھیلا دیا ہے اور انہیں ٹیکس نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

جون 2019ء تک پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے پاس رجسٹرڈ ڈاکٹرز بشمول ڈینٹل سرجنز کی تعداد 2 لاکھ 58 ہزار 747 تھی،ایف بی آر زیادہ سے زیادہ ڈاکٹرز کو انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ کروانا چاہتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے 40 اسپتالوں اور ڈاکٹرز کی معلومات حاصل کرنے کے لیے نوٹس بھجوا ئے گیے ہیں۔

واضح رہے کہ سال 2018 ء کے لیے ملک میں انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد میں تقریباً 7 لاکھ افراد کا اضافہ ہوچکا ہے جس کے بعد ملک میں ٹیکس گوشواروں کے حامل افراد کی تعداد 21 لاکھ 54 ہزار ہوچکی ہے جبکہ ایف بی آر سال 2019 ء میں اس تعداد کو 40 لاکھ تک پہنچانا چاہتا ہے۔

214 نان فائلرریسٹورنٹس، حلوائی بیکریوں، دودھ فروشوں کو نوٹس

ریجنل ٹیکس آفس ٹو کراچی کے براڈننگ آف ٹیکس بیس زون نان فائلرز کے خلاف متحرک ہوگیا۔ ذرائع نے بتایاہے کہ بی ٹی بی زون نے قابل ٹیکس آمدنی کے حامل ریسٹورنٹس، بیکریوں، حلوائی اوردودھ کی دکانوں کیخلاف کارروائی کاآغازکردیاہے اور 214 نان فائلرریسٹورنٹسحلوائی، بیکریوں اور دودھ کی دکانوں کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔ بی ٹی بی زون نے شہرکے مختلف علاقوں سے چھوٹے پیمانے پرکاروبارکرنے والوں کاڈیٹا بھی حاصل کرلیاہے۔

ذرائع کاکہناہے کہ کراچی میں قائم بیشتر ریسٹورنٹس،بیکری مالکان اوردودھ فروش قابل ٹیکس آمدنی کے باوجود ٹیکس ادانہیں کرتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔