وقت کی ٹہنی سے اپنے خواب چنتی ہیں

شبنم گل  بدھ 18 ستمبر 2013
shabnumg@yahoo.com

[email protected]

یکسانیت زندگی کو بوجھل بنا دیتی ہے۔ زندگی کو نیا پن چاہیے۔ جس کی تلاش میں آپ کہیں دور جا نکلیں۔ درختوں کے سرسبزجھنڈ کے نیچے یا کسی خوبصورت وادی میں یا پھر کسی ایسی جگہ جہاں ہرے بھرے کھیت ہوں اور احساس بھی ان رنگوں کی تازگی سے مہک اٹھے۔ یہی سوچ کر میں نے بھی حیدرآباد سے چند کلو میٹرز کے فاصلے پر واقع ایک خوبصورت گاؤں کا رخ کیا۔ اس گاؤں کے قریب دریائے سندھ بہتا ہے۔ جسے چھوکر ہوائیں گرمی کی حدت میں بھی شبنمی ٹھنڈک بانٹتی پھرتی ہیں۔

گاؤں کے خوبصورت منظر بدلتے رہے۔ ایک جگہ سرسبزکھیتوں میں بہت سی عورتیں اور لڑکیاں کپاس کی چنائی میں مصروف تھیں۔ سرسبزپودوں کے درمیان ان کے رنگین لباس تتلیوں کی مانند دکھائی دیے۔ آج کل حیدر آباد کا موسم دوپہرکو سخت گرم ہوجاتا ہے۔ جبکہ یہاں کی شامیں سخت ترین گرمیوں میں بھی ٹھنڈک لیے ہوتی ہیں۔ آج کی دوپہر بھی گرم ترین ہے۔ سورج کی تپش سے چہرے دہک رہے تھے اور ان پر پسینے کے قطرے دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے پھولوں پر اوس کے قطرے جھلملاتے ہیں۔ ان کے درمیان گھومتے ہوئے مجھے قطعی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا کیونکہ وہ مجھے اکثر کھیتوں میں گھومتے دیکھتی ہیں۔

پودوں پرکپاس کے پھول بادلوں کے چھوٹے ٹکڑے دکھائی دے رہے تھے۔ پاکستان روئی کی پیداوار کرنے والے ملکوں میں پانچویں نمبر پر ہے۔ خام روئی بیچنے والا تیسرا ملک کہلاتا ہے۔ اور چوتھا بڑا کاٹن کنزیومر ملک ہے۔ گزشتہ دنوں کپاس کی قیمتوں میں سو روپے کا اضافہ ہونے سے کپاس کی قیمت فی من پانچ ہزار نو سو روپے ہوگئی ہے۔ کپاس کی برآمدی مانگ میں اضافہ ہونے کی وجہ سے کپاس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ بنگلہ دیش، بھارت اور ویت نام کے ملکوں میں کپاس کی طلب بڑھ رہی ہے۔ بھارت نے تو 2012-13 کے لیے پھٹی کی امدادی قیمت مقرر کردی ہے، مگر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ دو برسوں سے یہاں پر پھٹی کی امدادی قیمت مقرر نہیں کی گئی۔

عورتوں نے مختلف انداز میں دوپٹے اوڑھ رکھے تھے جس میں وہ کپاس کے سفید پھول چن رہی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس دوپٹے کو ’’کانبھو‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک چھوٹا سا بچہ کھیتوں کے درمیان مزے سے سو رہا تھا۔ ’’یہ بچہ کس کا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ایک اٹھارہ سالہ لڑکی نے جواب دیا ’’میرا بچہ ہے۔‘‘

’’اسے اگر کسی کیڑے یا مچھر نے کاٹ لیا تو بیمار پڑ جائے گا‘‘۔ میری بات سن کر مسکرائی۔ ’’اسے بہت سے کیڑے کاٹ چکے ہیں۔ ویسے بھی اکیلے گھر میں کس کے پاس چھوڑوں، اس لیے اسے کھیتوں میں لے آتی ہوں۔‘‘ بہت سی عورتیں اپنے بچے کھیتوں میں لے کر آتی ہیں۔ ایک عورت نے بتایا کہ پچھلے سال اس کے بیٹے کو کتے نے کاٹ لیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بچے پیسٹیسائیڈ (pesticides)کے مضر اثرات بھی جھیلتے ہیں۔ حاملہ ماؤں کی اپنی اور بچے کی صحت بھی ان زہریلی ادویات سے متاثر ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ اس کے علاوہ الرجی اور دمے کی بیماریاں بھی ان کاٹن پکرز میں عام ہیں۔

’’زینب۔۔۔۔اری او زینب!‘‘

میرے قریب کھڑی ہوئی ساراں زور سے چلائی مگر زینب اپنی ہم جولیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ وہ نو سال کی زندگی سے بھرپور بچی دکھائی دی۔ وہ اس وقت اٹھی جب ماں نے اس کے پھول سے گالوں پر زوردار چانٹا رسید کیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ وہ ہچکیاں بھرتے ہوئے سفید پھول اپنے دوپٹے میں بھرتی جاتی تھی اور اس کے آنسو بھی گالوں پر بہہ رہے تھے۔ اس ملک میں ہزاروں لاکھوں بچے ہیں، جو اپنے بچپن سے محظوظ ہونا چاہتے ہیں۔ جو جی بھر کے کھیلنا چاہتے ہیں مگر ان کا بچپن زندگی کی سختیوں کی نذر ہوجاتا ہے۔

کپاس کی چنائی ستمبر اور اکتوبر میں عروج پر ہوتی ہے۔ اس عمل کو سندھی میں ’’چونڈو‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’’ہم سال بھر اس سیزن کا انتظار کرتے ہیں۔‘‘ ساراں نے ہنس کر کہا۔ اس کی آنکھوں میں بے خبری کا خمار تیر رہا تھا۔ گالوں پر عجیب سی خوشی جو اپنے وجود سے خبر ہونے کی وجہ سے جھلکتی ہے۔ یہ عورتیں آگہی کے عذاب سے ناواقف ہیں اور نہ ہی ’’انا‘‘ کے جھمیلوں سے الجھتی ہیں۔

’’جب تمہارے پاس بہت سارے پیسے جمع ہوجائیں گے تو کیا خریدوگی؟‘‘ میں نے اس کی آنکھوں کے خواب پڑھنے کی کوشش کی۔ میرا سوال سن کر ساراں کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔ ’’اپنے اور بچوں کے کپڑے اور گھر کا سامان خریدوں گی۔‘‘’’اور میں اپنے لیے بہت ساری چوڑیاں خریدوں گی۔‘‘زینب کے چہرے پر چوڑیوں کے تصور سے قوس و قزح سے رنگ بکھر گئے۔

ایک عمر رسیدہ عورت نے بتایا کہ وہ اپنا گاؤں چھوڑکر یہاں پھٹیاں چننے آئی ہے۔ پچھلے چنائی کے موسم میں اس کے گاؤں کے زمیندار نے اسے پیسے نہیں دیے تھے۔ اس کی بات سن کر خیال آیا کہ اگر یہاں حقدار کو حق بن مانگے ملنے لگے تو کئی خودساختہ مسائل کو مستقل حل مل سکتا ہے۔

معصوم چہرے والی مومل نے بتایا کہ اس سال کی اجرت سے ماں کا علاج کرائے گی۔ کپاس کی چنائی کرنے والی عورتوں کے کئی مسائل ہیں۔ کانٹوں سے ان کے ہاتھ زخمی ہوجاتے ہیں اور اکثر ان کے کپڑے تک پھٹ جاتے ہیں۔

’’کپڑے اتنے مہنگے ہیں کہ خریدنے کا سوچ کے ہی رہ جاتے ہیں‘‘ مومل نے کہا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ دو تین سالوں سے کپڑے کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ لان کا ایک عام سا سوٹ آٹھ سو سے کم نہیں ملتا۔ کچھ اچھی کوالٹی کے بارہ سو تک نظر آئے۔ اور مشہورکمپنیز اور ڈیزائنرز کے سوٹ تین سے پانچ ہزار تک تھے۔ لان کے یہ مہنگے سوٹ عام خریدار کی پہنچ سے باہر ہیں مگر پھر بھی متوسط طبقے کی خواتین کی اولین ترجیح بنے رہتے ہیں۔ مہنگا لباس اعلیٰ رتبے کا ترجمان ہے اور طبقاتی تضاد کو جنم دیتا ہے، جس کے بعد حد سے بڑھتی ہوئی خواہش پرستی معاشرتی برائیوں کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ جہاں لباس و ضروریات زندگی ذاتی خوشی کے بجائے محض دکھاوے کی رسمیں بن جاتی ہیں۔ کیونکہ ہم Materialistic Consumerist Culture میٹیریلسٹک کنزیومرسٹ کلچر کے زیر اثر دہرے معیار کو اپنا چکے ہیں۔ کنزیومر کلچر اٹھارویں صدی میں انگلینڈ میں شروع ہوا تھا۔ جس نے فیشن کمرشلائزیشن کو متعارف کروا کے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں انقلاب برپا کردیا تھا۔ آج ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری و ڈیزائنرز متوسط طبقے کے صارف کو نظرانداز کرچکے ہیں۔

دھوپ کی حدت سے سر بھاری محسوس ہونے لگا۔ یہ موسم سندھی میں ’’چیٹ‘‘ کہلاتا ہے یہی وجہ ہے کہ گرمی سے بے زار ایک ضعیف عورت کہنے لگی ’’چیٹ‘‘ کے سورج کی تپش اور سوتیلی ماں کا تھپڑ ایک سے لگتے ہیں‘‘۔ کھیتوں میں ایک مخصوص سی مہک رچی تھی۔ جو شفاف ہوا کے ساتھ اٹکھیلیوں میں مصروف تھی۔ سورج کی روشنی میں سبزہ کھل اٹھا تھا۔ لڑکیاں خاموشی سے کپاس کے پھول چن رہی تھیں مگر ان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ وقت کی ٹہنی سے اپنے خواب چن رہی ہوں جیسے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔