نیا پاکستان، کرپٹ اپوزیشن اور میڈیا

محمد ساجدالرحمٰن  پير 5 اگست 2019
نئے پاکستان میں میڈیا پر اپوزیشن کی پشت پناہی کا الزام لگایا جارہا ہے۔ (فوٹو: فائل)

نئے پاکستان میں میڈیا پر اپوزیشن کی پشت پناہی کا الزام لگایا جارہا ہے۔ (فوٹو: فائل)

وزیراعظم عمران خان نے دورۂ امریکا کے دوران امریکی تھنک ٹینک ’’یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس‘‘ کی چیئرمین نینسی لنڈبورگ کے ساتھ سوال و جواب کی ایک نشست میں پاکستان کے داخلی و خارجی پالیسی بحث کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی میڈیا برطانوی میڈیا سے زیادہ آزاد ہے، کیونکہ وزیراعظم کی طلاق کی پیشگوئیاں بھی ٹی وی پروگرام میں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نگراں اداروں کی مدد سے میڈیا پر نظر ضرور رکھیں گے مگر سنسر شپ نہیں کریں گے۔ ایک میڈیا گروپ نوازشریف کو بچانے اور اسے معصوم ثابت کرنے میں مصروف تھا، سابق حکمرانوں کے کرتوت چھپانے کےلیے آخری حد تک گیا، میری کردار کشی کی گئی اور مجھ پر ذاتی حملے بھی کیے گئے، جب اس میڈیا سے پوچھو کہ ٹیکس کتنا دیا تو آزادی اظہار پر حملہ قرار دے دیتے ہیں۔

اگر وزیراعظم کی پریس کانفرنس کا جائزہ لیا جائے تو چند معاملات توجہ طلب تھے، لیکن زیادہ تر الیکشن سے قبل کی گئی باتوں کو دہرایا گیا تھا۔ میڈیا کے حوالے سے عمران خان کے کئی تحفظات بالکل جائز ہیں۔ چند اینکرز اپنی ذاتی رنجشوں کے باعث ہر حد عبور کرجاتے ہیں۔ کسی انسان پر بلاوجہ کیچڑ اچھالے جانے سے ادارے کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ سیاسی رہنماؤں اور شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگی پر روز و شب بحث کی جاتی ہے۔ بڑے بڑے صحافی جسے چاہیں نواز دیں اور جسے چاہیں عوام کی نظروں میں گرا دیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے حوالے سے غلط خبریں چلائی گئیں اور طرح طرح کی پیشگوئیاں کی گئیں۔

ہمارے ملکی میڈیا میں ایک اور سنگین مسئلہ تجزیہ کاروں کی جانب سے کیے گئے دعوے اور پیش گوئیاں ہیں۔ پروگرام میں آئے صحافی اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، حالانکہ ان تمام کہانیوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کبھی پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی پیش گوئی کی جاتی ہے تو کبھی پاکستان کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دیا جاتا ہے۔ درجنوں میڈیا اینکرز کی دکان ان فضول اور من گھڑت دعوؤں کے باعث چمک رہی ہے۔ باقی کی رہی سہی کسر سوشل میڈیا پورا کردیتا ہے۔ مثلاً جب کوئی دعویٰ کیا جاتا ہے تو اس کے حامی یا مخالف میڈیا سیل خبر بنانے کے بعد سوشل میڈیا پر یوں وائرل کردیتے ہیں کہ جیسے حقائق صرف یہی ہیں۔

آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے حکومتی معاہدے کے دوران پورے ملک میں غیریقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ اینکرز کی جانب سے عوام کو جان بوجھ کر انجانے خوف میں مبتلا کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے ان بے لگام گھوڑوں کو لگام ڈالنے کی کوششیں انتہائی خوش آئند ہیں۔

قومی سلامتی جیسے مسائل پر مثبت رپورٹنگ میڈیا کی ذمے داری ہے۔ جب ہمارا حکمران طبقہ کسی بیرونی ملک دورے پر پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے تو جہاں میڈیا کو اچھے پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیے، وہیں صاحب اقتدار شخصیات کی ذمے داری بھی ہے کہ ایسے بھڑکیلے بیانات سے اجتناب کریں جس سے پاکستان کا منفی چہرہ عیاں ہو۔ مثال کے طور پردورۂ امریکا کے دوران وزیراعظم عمران خان نے سیاسی جماعتوں کو مافیا سے تشبیہ دی۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نوازشریف سے جیل میں اے سی اور ٹی وی کی سہولت واپس لینے کا بھی اعلان کیا ۔وزیراعظم عمران خان کی حکومت سنبھالنے کے بعد کی تقاریر اور الیکشن سے قبل کی گئی تقاریر میں رتی برابر بھی فرق نہیں۔

میں بطور پاکستانی شہری وزیراعظم کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں، کیونکہ ملک کا خزانہ لوٹنے والے حکمران اور کرپٹ اشرافیہ کسی بھی سہولت کے حقدار نہیں، لیکن قانونی ماہرین اس اعلان کو خلافِ قانون قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ سابق حکمرانوں کو جیل میں سہولیات کی فراہمی قوانین کے مطابق ہے۔

ہر پلیٹ فارم پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سابقہ حکومتیں کرپٹ جبکہ موجودہ قیادت کے پاس تمام مسائل کو حل کرنے کا جن ہے۔ پی ٹی آئی قیادت میں ایسے درجنوں افراد موجود ہیں جو گزشتہ حکومتوں کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے درجنوں جیالے موجودہ حکومت میں اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔ کپتان سے صرف پی ٹی آئی کارکنوں کی نہیں بلکہ معاشرے کے بڑے طبقے کی امیدیں وابستہ ہیں، لیکن اپوزیشن کو بار بار ڈرانے اور دھمکانے کے اعلانات سے ان کی اپنی شخصیت متاثر ہورہی ہے۔ کرپٹ مافیا کو پکڑنا بالکل جائز ہے اور اس کام کےلیے پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ لیکن وزیراعظم عمران خان کی سیاسی مخالفین کےلیے پالی گئی نفرت حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہورہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں پر بار بار تنقید کے باعث معاشرے میں عدم برداشت کی فضا قائم ہوچکی ہے۔ پی ٹی آئی کے ٹائیگرز اپنے قائد کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کو تیار نہیں ہیں۔ کچھ عرصہ قبل برابری پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان کے نامور گلوکار جواد احمد نے فیصل آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر حکومت ایک دوسرے کو کرپٹ کہتی ہے، اس کا مطلب ہے کہ پاکستان جب سے بنا ہے تب سے آج تک ساری کرپٹ حکومتیں ہی آئی ہیں۔ جواد احمد کے منہ سے یہ الفاظ نکلنے کی دیر تھی کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے انہیں اسٹیج سے اتار دیا۔

یہ تمام معاملات بحیثیت قوم ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کو اپوزیشن جماعتوں پر تنقید سے قبل اپنی صفوں پر بھی نگاہ دوڑانی ہوگی۔

میڈیا کو قومی سلامتی کے امور کے علاوہ بھی ہر اس کام میں حکومت کی مدد کرنی چاہیے، جس سے پاکستان کا مثبت چہرہ اجاگر ہوسکے اور بلاضرورت تنقید سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ لیکن اگر سکے کے دوسرے رخ کا جائزہ لیا جائے تو پی ٹی آئی قیادت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد میڈیا انڈسٹری پر چند حیران کن پابندیاں عائد کی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی پریس کانفرنسز اور انٹرویوز کو کوریج دینے سے روکا گیا ہے۔ (ن) لیگ کے دور اقتدار میں پی ٹی آئی قیادت نے 160 دن دھرنا دیا تو میڈیا نے دن رات بھرپور کوریج دی۔ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن میں ہمیشہ میڈیا کی طرفداری کرتے ہوئے (ن) لیگی قیادت کو جتاتے رہے کہ میڈیا کا کام ہی حکومت پر تنقید کرنا اور خامیاں بتانا ہے۔ حکومت میڈیا کو اپنی کرپشن بچانے کےلیے بند کرتی ہے۔

پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے بعد معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ کپتان کی جانب سے اب اسی میڈیا پر اپوزیشن کی پشت پناہی کا الزام لگایا جارہا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد ساجدالرحمٰن

محمد ساجدالرحمٰن

بلاگر بطور افسر تعلقات عامہ پنجاب فوڈ اتھارٹی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ جبکہ اخبارات اور میگزین میں بھی لکھتے رہتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔