انتظامی نااہلی کی انتہا

عبدالرحمان منگریو  اتوار 4 اگست 2019

کے پی کے اور پنجاب میں گذشتہ ماہ کے دوران برسات کی شدت کو دیکھتے ہوئے حکومت ِ سندھ نے صوبہ میں ’’رین ایمرجنسی ‘‘ لاگو کرنے کا اعلان کیا۔

عوام بڑے خوش ہوئے اور وہ سمجھنے لگے کہ سندھ حکومت صوبے کی مخدوش حالت کے پیش نظر ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے کراچی سمیت صوبہ بھر کے شہری علاقوں کی نکاسی ِ آب کے تمام قدرتی راستوں و ڈرینیج نالوں کی پیشگی صفائی کراکر اُن پر قائم قبضے چھڑاکر آنیوالے پانی کو خیر وعافیت کے ساتھ سمندر تک پہنچانے کی حتی الامکان کوششیں کرے گی۔

سڑکوں اور شاہراہوں پر بنے پلوں کی ہنگامی انسپیکشن کرکے حفاظتی و تدارکی اقدامات فوری کرے گی ۔ تمام محکموں بالخصوص بلدیاتی اداروں میں ہنگامی صورتحال نافذ کرکے عملے کو مستعد الرٹ کیا جائے گا۔ صوبہ بھر سے کچرہ اُٹھالیا جائے گا۔ میئرز سے یوسی چیئرمینوں تک سب کے سب اپنے عملے سمیت پانی کو پیش آنیوالی امکانی رکاوٹیں دور کرنے میں مصروف ہوں گے ۔

اداراتی باہمی تعاون کو یقینی بناتے ہوئے صوبہ حاکم اعلیٰ کی سربراہی میں فعال مانیٹرنگ سیل قائم ہوگا جو کہ نہ صرف پیشگی انتظامات کی تکمیل کو یقینی بنائے گا بلکہ بارش کے دوران اور بارش کے بعد کے انتظامات کی بھی کڑی نگرانی کرے گا اور لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال کے پیش نظر اقدامات کیے جائیں گے ۔بجلی کے کھمبوں اور تاروں کی ہنگامی انسپیکشن ، نگرانی اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا ۔

دوران ِ بارش بجلی ، ٹریفک اور دیگر مواصلاتی نظام کی روانی کو یقینی بنایا جائے گا۔ صوبہ کے دارالحکومت میں سٹیزن کمیونٹی و سماجی تنظیموں کے رضاکاروں اور تمام محکموں کے عملے کو ون ونڈو آپریشن کے جدید طریقے کے تحت مستعد کیا جائے گا ۔ صوبہ بھر میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، محکمہ صحت ، محکمہ پبلک ہیلتھ ، اریگیشن ڈیپارٹمنٹ سمیت کے وفاقی اداروں کو بھی صوبائی انتظامیہ کے ساتھ فعال اور مستعد ہوکر کام کرنے کا پابند کیا جائے گا۔

کے الیکٹرک، حیسکو ، سیپکو کو ریڈ الرٹ کیا جائے گا وغیرہ وغیرہ سمیت وہ سب کچھ ہوگا جو ایمرجنسی ڈکلیئر کرنے کے بعد ہوتا ہے ۔ اور یہ سب سوچ کر عوام بھی لمبی تان کر سوگئے ۔ پتا تو تب چلا جب بارش دھمکی اور دیکھتے ہی دیکھتے پانی گھروں میں داخل ہوگیا ،بجلی کے کرنٹ لگنے ، مکان گرنے اور دیگر واقعات میں 25کے قریب لوگ جاں بحق ہوگئے ۔ اس پر جب عوام نے کروٹ بدل کر دیکھا تو حکومت اور حکومتی مشینری کو بھی اپنے برابر گہری نیند میں سویا ہوا پایا ۔

صوبہ میں سب سے زیادہ بارشیں حیدر آباد میں 188ملی میٹر ، ٹھٹہ میں 179ملی میٹر اور کراچی میں 150ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ۔ تینوں شہر بے یارو مددگار نظر آئے ۔ اگر ٹھٹہ کی بات کی جائے تو وہاں نہ تو کوئی حکومت کی مخالف جماعت ہے اور نہ ہی کوئی کثیر النظام اداراتی رکاوٹ، اور وہ شہر بھی کوئی اتنا بڑا نہیں کہ جس کے انتظام میں کوئی زیادہ بجٹ ، وقت یا محنت درکار ہو۔ بلکہ ڈرینیج نظام کی پیشگی صفائی دوران ِ بارش یا بارش کے بعد محض چند زیرین مقامات پر واٹر لفٹر مشینیں لگاکر پانی نکالنے کے فوری اقدامات سے ہی شہر کے نظام ِ زندگی کو مفلوج ہونے سے محفوظ رکھا جاسکتا تھا ، لیکن کیا کیا جائے کہ ٹھٹہ، کراچی ، حیدر آباد سمیت سندھ بھر میں اس وقت ذہنی طور پر فالج زدہ سیاستدانوں ، سرکاری عملداروں اور اداروں کا راج ہے ۔

دل و دماغ ایسے اعضاء ہیں کہ جن کے لیے کہا جاتا ہے کہ جس انسان کے دل و دماغ سالم اور فعال ہیں وہ جسمانی طور پر معذور ہونے کے باوجود وہیل چیئر پر بیٹھ کر بھی اسٹیفن ہاکنگ کی طرح کائنات کو تسخیر کرسکتا ہے لیکن اگر دل و دماغ پر سیاسی طاقت و عہدے اور کرسی کا نشہ غالب ہوتو وہ ہمارے ملک بالخصوص ہمارے صوبہ جیسی تباہی و بربادی کا باعث بن جاتا ہے ۔ صوبہ کی حالت دیکھ کر تو رونا آگیا کہ دنیا کا بہترین آبپاشی کا نظام رکھنے والے صوبہ سندھ میں جگہ جگہ نہروں کے پشتے ٹوٹے دکھائی دیے ۔ دنیا کا پہلا منظم ڈرینیج نظام رکھنے والا سندھ گٹروں کے ابلنے اور نالوں کے چوک ہونے کی وجہ سے ڈوبتا نظر آیا ۔ دنیا کو تعمیراتی انجنیئرنگ کا ماڈل دینے والے سندھ کا بے ترتیب اور تباہ شدہ انفرااسٹرکچر اس شاندار ماضی اور ہماری تہذیب کا منہ چڑارہا تھا ۔

حیدر آباد میں بارش کے پانچویں روز بھی شہری اپنی مدد آپ کے تحت گھروں ،گلیوں اور سڑکوں سے پانی نکالتے نظر آئے ۔ جب کہ کراچی کا انفرا اسٹرکچر تو اس قدر بگڑ چکا ہے کہ شہری اپنے محلے ، گلی اور اپنے گھر تک سے بھی پانی نکالنے سے قاصر رہتے ہیں ، کیونکہ سمندر کی طرح پھیلے اس شہر میں بے ہنگم طریقے سے آباد ہونیوالے غیرمقامی لوگوں نے ایسا بے ترتیب کردیا ہے کہ نہ تو ڈرینیج کا نظام آپس میں یک سطحی ہے اور نہ گھر وگلیاں کسی سطح سے ہموار ہیں اور نہ ہی گلیاں شاہراہوں سے ہموار ہیں۔

پھر شہر بھر کے نالوں پر رہائشی قبضے اس قدر کیے گئے ہیں کہ ماضی میں ندیاں نظر آنیوالے یہ نالے اب چھوٹی چھوٹی نالیوں کی تصویر بن کر رہ گئے ہیں ۔ اُن میں بھی پولیتھین تھیلیوں یعنی شاپنگ بیگ و دیگرکوڑے کچرے کی بھر مار نے اُنہیں ’’چوک‘‘ یعنی بند کردیا ہے ۔ اس لیے شہر کے بیشتر علاقوں میں آج بھی بارشی پانی کھڑا ہے ۔ شہر کی گلیاں اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کررہے ہیں ۔

شہر میں مشینیں لگاکر پانی نکالا جاسکتا تھا لیکن اُس کے لیے بھی کے ایم سی اور کراچی کے میئر موصوف بجلی بند ہونے کا بہانا بناتے نظر آئے ۔ کوئی اُن سے پوچھے کہ مشینیں تو ڈیزل انجن و جنریٹر پر چلتی ہیں تو ان میں بجلی جانے سے رکاوٹ کیسے آئی ؟ یہ بات دراصل اپنے سر سے اتارکر دوسرے کے سر پر ڈالنے کی کوشش ہے جیسے وفاقی وزیر پانی و بجلی فیصل واوڈا چرب زبانی کرتے نظر آئے کہ وفاق بجلی کے کھمبے پر چڑھ کرتاریں تو نہیں نکال سکتا یا گٹر میں جاکر پانی نکالنے کا کام تو نہیں کرے گا ، یہ ہماری نہیں صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے ۔ میئر صاحب ہمیشہ ایسے مواقع پر روتے نظر آ تے ہیں کہ میرے پاس اختیارات نہیں ہیں۔

ہائے یہ تیری ستم ظریفی ، اربوں روپوں کا بجٹ وصول کرتے وقت تو کبھی اختیارات پر بات یاد نہیں ہوتی اور نہ ہی صوبائی حکومت کو بائی پاس کرتے ہوئے وفاق سے براہ ِ راست فنڈز اور اسکیمیں و پراجیکٹس لیتے ہوئے تو بے اختیاری نظر نہیں آتی لیکن جب بھی عوام کو Deliverکرنے کی بات آتی ہے تو صاحب بے اختیار بلکہ اپاہج بنے نظر آتے ہیں ۔

پھر دیکھا جائے تو سندھ حکومت جو کہ صوبہ بھر کے انتظامی اُمور کی ذمے دار ہے وہ بھی میئر کراچی و حیدر آباد اور بلدیاتی و دیگر اداروں پر نااہلی اور کام چوری کا لیبل لگاکر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتی ہے ، اور دکھاوے کے طور پر وزیر اعلیٰ اور دیگر وزراء ’’رین ایمرجنسی ‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے بارش کے پانی میں کھڑے صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے ہونے اور ’’ذمے دار ہونے ‘‘ کا احساس دلاتے نظر آتے ہیں ۔ کراچی اور حیدر آباد تو ایسی سیاسی چپقلش کی وجہ سے تباہ بلکہ برباد ہوگئے ہیں ۔

جب کہ سندھ صوبہ دراصل کثیر القومی اور مخلوط نظام ِ حکومت کی وجہ سے اس تباہی کو جھیل رہا ہے ۔ یہاں دیگر صوبوں سے بڑے پیمانے پر آکر لوگ آباد ہوئے ہیں یا پھر آباد کیے گئے ہیں ، جس وجہ سے یہاں کے اُمور اور سیاسی نظام میں دیگر صوبوں ، وہاں کی جماعتوں اور وفاق کا زیادہ عمل دخل نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کوئی بھی چیز ، کوئی بھی کام اور کوئی بھی نظام زمینی حقیقت کے مطابق کارگر ، سالم اور کار آمد نظر نہیں آتا۔ صوبہ کے دارالحکومت کے ساتھ تو ظلم کی انتہا ہے۔

ایک طرف شہری حکومت کا درجہ رکھنے والا بلدیاتی نظام ہے ، جس کی انتظامیہ سیاسی بنیادوں پر شہر کے مخصوص علاقوں پر تو اپنا بجٹ فضول لٹاتے نظر آتی ہے لیکن شہر کی مجموعی حالت بدلنے کو تیار نہیں بلکہ شہر بھر کو وہ اپنی ذمے داری بھی نہیں سمجھتی ۔ 80کے عشرے سے شہر کو میٹروپولیٹن کا درجہ ملنے کے باوجود 40سال گذرجانے کے بعد بھی شہر کو میٹروپولیٹن سہولتوں سے آراستہ نہیں کرپائے ہیں حالانکہ اس عرصہ بھر میں انھی کی جماعت کا ہی شہر اور شہری اداروں پر راج رہا ہے ، لیکن آج بھی شہر کا 70فیصد حصہ شہری بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہا ہے ۔

دیکھا جائے تو شہروں میں سہولیات کی فراہمی اور وسائل کی دستیابی مردم شماری اور گھر شماری کی بنیاد پر کی جاتی ہے ۔ اور یہاں بھی ایسا ہی ہے لیکن اس حقیقت پر کیوں وفاقی ، صوبائی اور شہری انتظامیہ آنکھیں بند کرلیتی ہے کہ صوبہ بھر میں تقریباایک کروڑ کے قریب غیرقانونی آبادی یہاں بستی ہے ۔ یہ غیر قانونی لوگ یہاں ڈیرے جمائے بیٹھے ہیں اور اُن میں سے 70لاکھ کے قریب تو صرف کراچی میں موجود ہیں جو کہ اس شہر کے وسائل ہڑپ کرجانے کے ساتھ ساتھ یہاں کے نظام ِ زندگی کو بھی مفلوج کیے رکھتے ہیں ۔ عرب دنیاسمیت دیگر ممالک کی طرح ان غیر قانونی لوگوں کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے یہاں کوئی سنجیدہ نہیں ۔ حالانکہ اس وقت تو خود پاکستانیوں کو بھی دنیا بھر سے ڈی پورٹ کیا جارہا ہے ۔

پھر اگر اُنہیں رکھنا ہی ہے تو کراچی کو وسائل اور سہولیات بھی اُن کے حساب سے دو تاکہ شہر کا نظام ڈانواں ڈول نہ ہوسکے ۔ جب پاکستان بھر سے تمام افغانیوں کو نکالنے کے نوٹیفکیشن جاری کیے جاچکے ہیں تو ایسے میں ان افغانی باشندوں کو زبردستی کراچی میں رکھنے کی پالیسی کیوں ہے ؟ جب کہ پاکستان بھر میں بجلی کے نرخ ایک جیسے ہیں تو کراچی میں علیحدہ رکھنا کیا کراچی کے عوام کے ساتھ ظلم نہیں ؟ وفاقی حکومت نے کس بناء پر کے الیکٹرک کمپنی کو صبح کے علیحدہ اور شام کے اوقات میں علیحدہ بجلی کے نرخ طے کرنے جیسی مضحکہ خیزپالیسی کی اجازت کیوں دی ہے ؟ اور ایسی کونسی بہترین سروس ہے کے الیکٹرک کی کہ اُسے نوازا جارہا ہے ۔ حالانکہ انھیں صفحات پر گذشتہ دنوں کے الیکٹرک کی بدترین سروس کی داستانیں چھپتی رہی ہیں ۔

تھوڑی سی پُھوار ہونے سے سیکڑوں فیڈرز ٹرپ کرجانا ، بجلی غائب ہوجانا ، کرنٹ لگنے سے 25کے قریب لوگ جاں بحق ہوجانا وغیرہ وغیرہ جیسے واقعات پر تو کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ ہونا چاہیے یا پھر کم از کم سرزنش ہونی چاہیے لیکن یہاں تو الٹا اُنہیں سفید و کالے تمام ہی اُمور کا مالک بنایا گیا ہے ۔میٹر تیز چلنے جیسی شکایات کو خاطر میں نہ لانے کے باوجود وفاق نے کے الیکٹرک کو 20.70 روپے جیسے مہنگے اوردوہرے نرخ رائج کرنے کی اجازت دیکر جیسے کراچی پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کا لائسنس جاری کیا ہو۔ پھر شہر ِ قائد میں کراچی ، کلفٹن ، فیصل، کورنگی ، ملیر اور منوڑہ کے نام سے ان علاقوں میں کینٹونمنٹ کا نظام ہے۔

لیکن وہاں بھی تباہی ہی تباہی نظر آتی ہے ۔دوسری جانب عید الاضحی قریب ہونے کی وجہ سے سپر ہائی وے پر لگی ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی بھی کئی روز تک پانی میں ڈوبی نظر آئی ۔ جس سے وہاں ملیریا ، کانگو اور دیگر بیماریاں پھیلنے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ جب کہ حال ہی میں کراچی کے ایک نجی اسپتال میں نیگلیریا وائرس کا ایک کیس بھی ظاہر ہوا جس سے متاثرہ مشہور نعت خواں ذوالفقار حسینی جاں بحق ہوچکے ہیں ۔

دیکھا جائے تو حالیہ بارشوں کے دوران ہونے والی ہلاکتیں یا تو بجلی کے کرنٹ لگنے سے ہوئی ہیں یا پھر مکان گرنے اور پانی میں بہہ جانے سے ہوئی ہیں جوکہ بہرحال تمام کی تمام اداراتی غفلت کا نتیجہ ہیں۔پھر جب یہ تمام تر نقصانات اداراتی لاپرواہیوں بلکہ غیر ذمے داریوں اور اپنے فرائض میں کوتاہی کرنے والے عملداروں کی روش کا نتیجہ ہے تو پھر کیوں نہ ایسے تمام واقعات کی FIRمتعلقہ اداروں اور اُن کے اداراتی ذمے داران کے خلاف کٹوائی جائے۔

جیسے بجلی کے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے ناظم آباد کے تین سالہ عمر اور بارہ سالہ اعراف سمیت کئی افراد کی ہلاکت کی ایف آئی آر کے الیکٹرک پر درج کروانی چاہیے ۔ اسی طرح مکان گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کی ایف آئی آر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پر درج ہونی چاہیے اور پانی میں ڈوب کر مرنے والے لوگوں کی ایف آئی آر میونسپل انتظامیہ ، بلدیاتی اداروں ، محکمہ بلدیات ، محکمہ پبلک ہیلتھ اور دیگر ذمے داران کے خلاف درج کروانی چاہیے ۔

اس سال تو برطانیہ اوربھارتی گجرات میں بھی برسات نے تباہی مچائی لیکن انھوں نے مل کر اس پر قابو پالیا جب کہ واشنگٹن میں بھی گذشتہ ماہ تاریخی بارشیں ہوئی اور شہر کا نظام درہم برہم ہوگیا لیکن وہاں مصیبت کو چیلینج سمجھ کر وہ اپنے لوگوں کو بچانے اور از سر ِ نو بحالی کے لیے متحد ہو جاتے ہیں ، پاکستان کی طرح مدد کرنے کے بجائے کنارے کھڑے ہوکر طعنے نہیں دیتے ، مذاق نہیں اُڑاتے اور اس بات پر سیاسی حریف جماعت کو زچ کرنے کی روش نہیں اپنائی جاتی ۔

گذشتہ ہفتے اسی کالم کے ذریعے ہم نے امکانی برساتی تباہ کاریوں سے خبردار کیا تھا لیکن نہ تو کے الیکٹرک نے کوئی پیشگی انتظامات کرتے ہوئے کھمبوں اور تاروں کی مرمت و احتیاطی اقدامات کیے اور نہ ہی شہری ، صوبائی اور وفاقی انتظامیہ نے کوئی عملی احتیاطی تدابیر اختیار کیں بلکہ سب نے شیخیاں بگھاڑیں ۔ کسی نے تو پریس ریلیزیں جاری کیں تو کسی نے اعلامیہ جاری کیا اور کسی نے تو ہنگامی صورتحال کا اعلان کردیا مگر یہ سب زبانی جمع خرچ تھا، عملی طور پر کسی نے بھی کوئی کام نہیں کیا ۔

اگر اعلانات پر 50 فیصد کے برابر بھی کوئی کام کیا جاتا تو شاید ایسی تباہی و بربادی اور جگ ہنسائی نہ ہوتی۔ ہر سال بارشوں میں یوسی سے میونسپل اور میٹروپولیٹن تک صوبہ میں بلدیاتی اداروں کی نااہلی کھل کر سامنے آجاتی ہے اور پھر انتظامی نااہلی کے الزامات صوبائی اور بلدیاتی اداروں کے درمیان فٹبال بن کر رہ جاتے ہیں لیکن اس مرتبہ وفاق کے شامل ہونے سے یہ الزاماتی میچ سہ فریقی نظرآرہا ہے ۔ پر تینوں فریقوں کی اہلیت کا کمال یہ ہے کہ یہاں شہری حکومت کا مرکزی ادارہ کے ایم سی بلڈنگ ، صوبائی حکومت کا قانونی مرکزی ادارہ سندھ اسمبلی اور وفاقی سیٹ اپ کا صوبائی مرکز گورنر ہاوس پانی میں ڈوبے ہوں اور تینوں انتظامیائیں اپنے اداروں کو ہی نہ سنبھال سکتی ہوں تو ایسے میں اُن سے باقی شہر اور صوبہ کے تحفظ کی کیا اُمید رکھی جائے ؟

آخر حکومت عوام کو دے کیا رہی ہے ۔ جب عوام بجلی سولر اور جنریٹرز کے ذریعے ، پانی ٹینکرز کے ذریعے ، تعلیم نجی اسکولوں کے ذریعے ، علاج نجی اسپتالوں کے ذریعے پیسوں پرحاصل کرتے ہوں اورگھروں سے کچرہ نجی افراد کے ذریعے پیسوں پر اُٹھواتے ہوں تو پھر حکومت ٹیکس کیوں اور کس بات پر لیتی ہے اور پھر وہ رقم کہاں خرچ ہوتی ہے ۔ ایسے سوال اُٹھانے میں عوام حق بجانب ہیں اور اداروں و انتظامیہ کو اُس دن سے ڈرنا چاہیے جب عوام یہ سارا حساب کتاب مانگنے پر آئیں گے ۔پھر ڈرو اُس دن سے جب عوام ایسے ناکارہ اور نااہل وظالمانہ نظام کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں تو پھر اقتداری طاقت کی رسی سے جڑے ان تمام فریقوں کو کہیں سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔