حالات جیسے بھی ہوں سچ بولنا چاہیے

قیصر افتخار  اتوار 4 اگست 2019
پاکستانیت میری اُولاد کے خون میں شامل ہے، عالمی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی اور ان کے بچوں کی ایکسپریس سے گفتگو

پاکستانیت میری اُولاد کے خون میں شامل ہے، عالمی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی اور ان کے بچوں کی ایکسپریس سے گفتگو

دیار غیر میں بسنے والوں کی بات کی جائے تو فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جو بیرون ملک پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی نے 35 برس قبل فرانس میں اپنی زندگی کی نئی شروعات کی تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ مستقبل میں اتنے کامیاب ہو پائیں گے لیکن آج وہ دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ خاص طور پر فیشن کی دنیا میں ان کا طوطی بولتا ہے۔ انہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے ذریعے ملبوسات کے جو ڈیزائن متعارف کروائے وہ مغربی ممالک میں بہت پسند کئے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کا شمار فیشن انڈسٹری کے مقبول ترین فیشن ڈیزائنرز میں ہوتا ہے۔

محمود بھٹی کو عزت ،دولت ،شہرت تو فرانس سے ملی لیکن ان کی وطن عزیز سے محبت بہت مثالی ہے۔ وہ خود تو پاکستان کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں لانے کا عزم رکھتے ہیں بلکہ عملی طور پر کام کر رہے ہیں لیکن ان کے بچے جو امریکہ میں مقیم ہیں وہ بھی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ حال ہی میں ان کی دو بیٹیاں ایریکا ، ایلیسیا اور بیٹا شیراز پاکستان آئے تو ان سے ہونے والی گفتگو میں پاکستان سے محبت کی خوشبو کی مہک نمایاں تھی۔

ایکسپریس کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے تینوں کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ میں رہتے ہیں لیکن ہمارا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ایک یہ ہے کہ ہمارے والد کا تعلق پاکستان سے ہے اور ہمیں فخر ہے کہ ہمارے والد پاکستانی ہیں۔ ہم بچپن میں پاکستان آ چکے ہیں لیکن اب اس عمر میں پاکستان آ کر بہت خوش ہوئی۔ خاص طور پر لاہورجس کو زندہ دلانِ لاہور بھی کہا جاتا ہے، یہاں گھوم کر بہت اچھا لگا۔ ہم نے لاہور میوزیم ، آرمی میوزیم کے علاوہ مینار پاکستان، فوڈ سٹریٹ اور دیگر تاریخی مقامات بھی دیکھے، مگر جو مزہ واہگہ بارڈر پر ہونے والی تقریب دیکھ کر آیا وہ اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا۔ رینجرز کے جوان معمول کے مطابق اپنا کام کر رہے تھے لیکن ان کے جوش اور ولولے نے ہمیں بھی مجبور کیا اور ہم نے پاکستان زندہ باد کے نعرے خوب لگائے۔ جہاں تک بات لاہور کے کھانوں کی ہے تو ہم امریکہ میں رہتے ہیں لیکن ہمیں پاکستانی کھانے بہت پسند ہیں۔

بچوں نے اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے والد ایک کامیاب انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت ہی شفیق اور پیار کرنے والے باپ ہیں۔ انہوں نے ہماری ہر خواہش پوری کی ہے۔ وہ پیرس میں رہتے ہیں اور ہم امریکہ میں لیکن وہ ہر وقت ہم سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ہمیں کوئی پریشانی ہو تو وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔

بڑی بیٹی ایریکا بھٹی نے بتایا کہ میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں لیکن اپنے شوقِ کو پورا کرنے کے لیے امریکہ میں بطور پروفیشنل ماڈل کام کر رہی ہوں اور اب تک دنیا کے بہت سے انٹرنیشنل برانڈز کے شوٹ کرچکی ہوں۔

بیٹے شیراز نے بتایا کہ میں بطور میوزیشن ایک معروف امریکی بینڈ کے ساتھ کام کرتا ہوں اور  آئندہ برس یورپ کا دورہ بھی کروں گا۔

سب سے چھوٹی بیٹی ٹی ایلیسیا بھٹی نے بتایا کہ وہ پڑھائی کر رہی ہیں لیکن ہمارے والد نے کبھی ہم پر اپنی مرضی مسلط نہیں کی ۔ وہ بس اتنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی تعلیم مکمل کریں اور اس کے بعد جس  پروفیشن کو اپنانا چاہیں اپنا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تینوں بہن بھائی اپنی اپنی پسند کے پروفیشنز میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم پر بھی پوری توجہ دے رہے ہیں۔

شیراز نے بتایا کہ والد چاہتے ہیں کہ میں کچھ عرصہ اپنے شوق کو پورا کروں اور پھر ان کے ساتھ ان نئے پراجیکٹس پر کام کروں۔ وہ پاکستان میں بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ جس طرح پہلے بہت کامیاب ہوئے ہیں آئندہ بھی اسی طرح کامیاب ہونگے۔

محمود بھٹی کے بچوں کا کہنا تھا کہ ہمارے والد کی زندگی کے اتار چڑھاؤ ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ وہ ایک سچے اور ایماندار انسان ہیں، ان کی یہی بات ہمیں بہت پسند ہے ، وہ ہمیشہ کہتے ہیں ہیں کہ جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے محنت سے کام نہیں کرتے وہ کبھی کامیابی نہیں ہو پاتے۔دیکھا جائے تو ان کی یہ بات بالکل درست ہے ۔اگر ہم دنیا کے کامیاب ترین لوگوں کی زندگی کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ وقت کی قدر کی اور انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ اپنا کام انجام دیا جس کی وجہ سے آج ان کو پوری دنیا میں عزت دی جاتی ہے۔ ہمارے والد نے جب پاکستان سے فرانس میں قدم رکھا تو وہ زیرو تھے لیکن اپنی شب و روز محنت سے وہ ہیرو بنے اور وہ ہمارے بھی ہیرو ہیں، ہم فخر محسوس کرتے  ہیں کہ محمود بھٹی ہمارے والد ہیں۔

انٹرویو کے دوران محمود بھٹی نے بتایا کہ میری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہے ، میں کیا تھا میں کیا ہوں سب کے سامنے ہے۔ میں نے زندگی میں ایک ہی بات سیکھی ہے کہ ہمیشہ سچ بولو، حالات جیسے بھی ہوں سچ بولنا چاہیے۔میں آج ایک کامیاب انسان کے طور پر سب کے سامنے ہوں اور اگر چاہتا تو اپنا ماضی جو کہ دکھ ، تکلیفوں اور غربت سے بھرا پڑا تھا، اس کے بارے میں کوئی بھی کہانی بنا کر سنانے بیٹھتا توسب لوگ یقین کرتے مگر میرا ضمیر کبھی مطمئن نہ ہوتا۔ مجھے وہ عزت اور شہرت نہیں ملتی جو آج میرے پاس ہے۔

اس کے پیچھے کوئی بڑا فلسفہ یا فارمولا نہیں ہے صرف ایک ہی بات ہے جس پر عمل کیا جائے تو مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالی کی ذات اپنی کرم نوازی کرتی ہے۔ میں نے وقت کی قدر کی اور دن رات محنت سے کام کیا۔ جب میں بطور سیلز مین دکان میں کام کرتا تھا اس وقت بھی میں بہت محنت سے کام کرتا تھا اور آج میں دنیا بھر میں بہت سے پراجیکٹس پر کام کر رہا ہوں لیکن میری روٹین وہی ہے۔ میں صبح سویرے اٹھ کر اپنے کام کو شروع کرتا ہوں اور جب تک وہ مکمل نہ ہوجائے میں اپنی محنت جاری رکھتا ہوں۔ یہی بات میں نے اپنے بچوں کو بھی سمجھا رکھی ہے۔

میرے بچے  اگر چاہیں تو بہت ہی آسان اور آرام دہ زندگی بسر کر سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا نواز رکھا ہے کہ میں ان کی ہر طرح کی خواہش کو پورا کر سکتا ہوں لیکن میں اپنے بچوں کو ایک ایسا انسان بنانا چاہتا ہوں جو ہر طرح کے حالات میں زندگی بسر کر سکیں۔ کیونکہ زندگی میں اتار چڑھاؤ  ہمیشہ آتے ہیں۔ آج اگر اچھے دن ہیں تو کل برے دن بھی آ سکتے جس کے لیے ہر کسی کو تیار رہنا چاہیے۔ اسی لیے میں نے اپنے بچوں کو اپنی تعلیم پر فوکس کرنے کا کہہ رکھا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ میرے بچے جو بھی کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں میں اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتا۔ میرے بچے سمجھدار ہیں  وہ یہ بات جانتے ہیں ہیں کہ انہیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا جس سے میرے نام کو نقصان پہنچے۔

جہاں تک بات پاکستان سے محبت کی ہے تو جس طرح میرے خون میں پاکستانیت بھری پڑی ہے اسی طرح میرے بچے بھی پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں۔ ہم پاکستان سے ہزاروں میل دور رہتے ہیں لیکن ہمارے دل پاکستان کے لئے ہی دھڑکتے ہیں۔ میں یہ دیکھ کر خود بھی حیران ہوا کہ جب میرے بچے واہگہ بارڈر پر ہونے والی پرچم کشائی کی تقریب میں شریک ہوئے تو انہوں نے جس انداز سے پاکستان زندہ باد کے نعرے فضا میں بلند کیے ، ہر کوئی انہی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ان کا جوش اور ولولہ واقعی دیدنی تھا۔ یہی ایک سچے پاکستانی کی نشانی ہے ۔پھر چاہے وہ امریکہ میں رہے یا فرانس میں مگر اس کی روح تو اپنے وطن کے ساتھ ہی رہتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے بچے میری طرح پاکستان کیلئے بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور مستقبل میں ایسے بہت سے پراجیکٹس ہمارے سامنے ہونگے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔