مظفر نگر فسادات، 6 سیاستدانوں کے وارنٹ جاری، گرفتاری کیلیے اترپردیش اسمبلی کا گھیراؤ

آئی این پی  جمعرات 19 ستمبر 2013
تحقیقات سے ثابت ہوگیا کہ مظفر نگر فسادات حکومت کی ایما پر ہوئے، بی جے پی، درست احکام سے فساد روکا جاسکتا تھا، پولیس   فوٹو: اے ایف پی/فائل

تحقیقات سے ثابت ہوگیا کہ مظفر نگر فسادات حکومت کی ایما پر ہوئے، بی جے پی، درست احکام سے فساد روکا جاسکتا تھا، پولیس فوٹو: اے ایف پی/فائل

نئی دہلی / مظفر نگر: بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر مین ہونے والے ہندو مسلم فسادات کے الزام میں 6 سیاست دانوں کیخلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے۔

سیاستدانوں کی گرفتاری کیلیے پولیس نے اترپردیش اسمبلی کا محاصرہ کر لیا، دوسری جانب دہلی کی جامع مسجد کے امام کو مظفر نگر جاتے ہوئے پولیس نے حراست میں لے لیا۔ گزشتہ روز بھارتی میڈیا کے مطابق 6 سیاست دانوں میں سے 3 کا تعلق مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی،2 کا بی جے پی اور ایک کا کانگریس سے ہے۔

کانگریس کے سابق رکن سعید الزماں اور ان کے بیٹے کیخلاف بھی وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ بی جے پی نے تازہ ترین پیشرفت پر اکھلیش حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات سے ثابت ہوگیا کہ مظفرنگر فسادات ریاست کی ایما پر ہوئے۔ بھارتی پولیس کے ایک سنیئر افسر کا بھی کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے درست احکامات دیے جاتے تو مظفر نگر میں ہونے والے فسادات کو روکا جا سکتا تھا۔

دوسری جانب اترپردیش پولیس نے دہلی کی جامع مسجد کے امام کو مظفر نگرجاتے ہوئے حراست میں لے لیا۔ امام بخاری فسادات سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے جا رہے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔