انیتا محسود؛ جنوبی وزیرستان سے پہلی خاتون رکن خیبرپختونخوا اسمبلی

وقائع نگار / ویب ڈیسک  پير 5 اگست 2019
انیتا محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کی تحصیل سروکئی سے ہے فوٹو: ایکسپریس

انیتا محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کی تحصیل سروکئی سے ہے فوٹو: ایکسپریس

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کی انیتا محسود نے جنوبی وزیرستان سے پہلی خاتون رکن خیبرپختونخوا اسمبلی ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔

انیتا محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کی تحصیل سروکئی سے ہے، اپنی سیاسی زندگی کا آغاز انہوں نے تحریک انصاف سے کیا، وہ فاٹا ریفارمز کمیٹی اور فاٹا سیاسی اتحاد کی رکن بھی رہ چکی ہیں، فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے وقت انیتا محسود نے پارٹی کی جانب سے نمائندگی کی، خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشستوں کے لیے انتخابات کے موقع پر تحریک انصاف کی جانب سے انیتا محسود کا نام خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے دیا گیا۔

جنوبی وزیرستان سے پہلی خاتون رکن خیبرپختونخوا اسمبلی بننے والی انیتا محسود نے ایکسپریس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع سے ارکان اسمبلی جب خیبرپختونخوا اسمبلی کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے، وہ تاریخی دن ہوگا اور قبائلی عوام اسی انتظار میں تھے کہ ان کے مسائل کو بھی اسمبلی اٹھایا جائے۔ ان کے مسائل کے حل کے لیے قانون سازی ہو ان کو بھی قانون سازی میں حق مل سکے۔

انیتا محسود نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ قبائلی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے مسائل اسمبلی میں اٹھائے جائیں اور ان کی خصوصی توجہ جنوبی وزیرستان کے مسائل پر ہوگی۔ ان کے علاقے میں روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں، اس لیے ان کی کوشش ہوگی کہ وہ علاقے میں روزگار کے مواقع پیدا کریں۔

نومنتخب رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ ان کے حلقے میں خواتین تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں لیکن تعلیم کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ سے زیادہ ایف اے تک تعلیم حاصل کرپاتی ہیں اس کے لیے بھی انھیں ٹانک آنا پڑتا ہے، ان کی کوشش ہوگی کہ وہ گریجویٹ کالج اور یونیورسٹی کے قیام کی منظوری لے سکیں، فاٹا کے انضمام کے وقت ہر کسی سے تجاویز مانگی گئی لیکن اس فیصلے میں بھی خواتین کو نظر انداز کیا گیا اور ان کے رائے کو فاٹا انضمام کے فیصلے میں شامل نہیں کیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔