کراچی میں دہشت گردی کا مہلک رخ

ایڈیٹوریل  جمعرات 19 ستمبر 2013
کالعدم تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز اور گینگ وار کارندے ٹارگٹ کلنگ، بھتہ اور اغوا کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔  فوٹو: فائل

کالعدم تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز اور گینگ وار کارندے ٹارگٹ کلنگ، بھتہ اور اغوا کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ فوٹو: فائل

منی پاکستان میں پر تشدد واقعات ،انتہا پسندی ،اور بھتہ خوری کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ دہشت گردی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈائون کے اثرات بلاشبہ نظر آنے لگے ہیں تاہم جاری آپریشن سے اس کے اہداف کا مسئلہ سامنے آیا ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے قابل غور ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کراچی میں آپریشن صرف عادی جرائم پیشہ لوگوں کے خلاف ہورہا ہے۔اگر واقعی اسی سمت میںکریک ڈائون ہورہا ہے تو اس حکمت عملی اور ہدف پر نظر ثانی کی اس لیے ضرورت ہے کہ عام طور پر کراچی میں یہ تاثر عام ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں طالبان،کالعدم تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز اور گینگ وار کارندے ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔

اس لیے  زمینی حقائق کے ادراک کے بعد ہی صحیح سمت میں آپریشن کے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، بعض بد خواہ اگرچہ منی پاکستان میں انارکی کے حالات پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش میں لگے ہوئے ہیں لیکن حکام کو دور اندیشی پر مبنی دہشت گردی مخالف اسٹرٹیجی بنانی چاہیے، جب کہ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ ناگزیر ہے ورنہ صورتحال لیاری سے بھی بدتر ہوسکتی ہے جہاں گزشتہ روز گل محمدلین بزنجوچوک کے قریب گھات لگائے ملزمان کی فائرنگ سے کالعدم پیپلزامن کمیٹی کے ترجمان ظفر بلوچ اپنے ساتھی محمدعلی سمیت شدید زخمی ہوگئے، بعد میں دونوں نے دم توڑ دیا۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے ظفر بلوچ قتل کانوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کاحکم دیا ہے۔ دریں اثنا کراچی میں رینجرز سے مقابلے کے دوران لیاری گینگ وار کے3ملزمان مارے گئے، ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران ڈیڑھ سو سے زائد ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا جب کہ مری کے مختلف ہوٹلوں سے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اوربھتہ خوری میں ملوث14ملزمان کوگرفتار کر لیا گیا۔

ادھرشہر کراچی میں جاری رینجرز کے آپریشن کے دوش بدوش بھتہ خوروں اوردہشت گردوں کی کارروائیاں بھی تعجب انگیز طور پر جاری ہیں۔اخباری نیوز اورچینلز اپ ڈیٹ کے مطابق گزشتہ روز سائٹ ٹائون کے دو مختلف علاقوں میںگھروں پرکریکر کے دھماکے کیے گئے۔ایک واقعے میںجماعت اسلامی کے ایک عہدیدار سے طالبان کی طرف سے فون پربھاری رقم کامطالبہ کیا گیا اور پھران کے گھر پر بم پھینک کر فرار ہوگئے۔دوسرے واقعے میں بھی دہشت گرد بنوریہ میں ایک گھرکی چھت پربم پھینک کرفرارہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ سوات آپریشن کے دوران اور اس کے بعد سے طالبان وزیرستان سمیت مختلف علاقوں سے کراچی آکرپختونوں کے علاقوںمیں روپوش ہوگئے ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق تب سے ان علاقوں کے عوام مسلسل بھتہ خوری اورقتل وغارت گری کی زد میں ہے اور پرسانِ حال کوئی نہیں۔ان علاقوں کے عادی مجرم اور بھتہ خورشہر کے مضافات میں روپوش طالبان سے مل کرکارروائیاں کرتے ہیں۔اب تک یہ بے بس عوام سے کروڑوں روپے کے بھتے وصول کرچکے ہیں۔

بنارس اورمیٹروول کے درمیان رہائش پذیر کئی لاکھ نفوس پرمشتمل آبادی مکمل طورپربھتہ خوروںاوردہشت گردوںکے رحم وکرم پر ہے اوراس کے تین اطراف میں قائم پیرآباد‘مومن آباد اورسائٹ تھانوں کی پولیس کارویہ بہت عجیب وغریب ہے۔بھتے کی پرچی ملنے کی شکایت پرلوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منی پاکستان میں تعینات رینجرزکوبھی مضافاتی علاقوں میںسرگرم کالعدم تنظیموں سے وابستہ اور وزیرستان سے آئے ہوئے دہشت گردوںکے منظم نیٹ ورکس کوتوڑنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔منی پاکستان کو صرف جرائم پیشہ عناصر سے نہیں بلکہ دہشت گردی کے عفریت نما ناسور سے نجات دلانے کے لیے بھی ہمہ گیر آپریشن کا نتیجہ خیز ہونا لازمی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔