ذکر کچھ پاکستانی انقلاب کا

انیس باقر  جمعرات 19 ستمبر 2013
anisbaqar@hotmail.com

[email protected]

ہرلیڈر جو پاکستان میں ووٹوں کی گنتی بڑھانے کا خواہاں ہے وہ تبدیلی کی بات کرتا ہے، یہ تبدیلی کی بات انھوں نے امریکی صدر باراک حسین اوباما سے سیکھی ہے، امریکی عوام کو تو بش سے یہ تکلیف تھی کہ وہ ایک جنگ کے بعد دوسری جنگ میں عوام کو جھونکنا چاہتے تھے اور اس میں ان کو بہت ملکہ حاصل تھا حالانکہ یکے بعد دیگرے جنگوں نے انھیں کچھ کما کے نہ دیا بلکہ امریکا کی معاشی بدحالی 8 فیصد سالانہ کے حساب سے روبہ زوال تھی مگر مزاجاً امریکی قیادت اور ان کی پوری مشنری کی بنیاد جنگ سے جنگی سازوسامان فروخت کرنا ہے ۔ ظاہر ہے ان کی انڈسٹری کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ 5 یا 6 ڈالر کی قمیض ایکسپورٹ کریں اس کے لیے انھوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کا انتخاب کر رکھا ہے مگر پاکستان میں ایکسپورٹر کو مہنگی توانائی نے مار ڈالا اور حالات کی خرابی نے بروقت مال کی تیاری اور جان کے خوف نے ایکسپورٹ کے اہداف ناممکنات تک پہنچا دیے۔

افغانستان کی جنگ جاری ہے اور پاکستان اس جنگ کا ایک بڑا فریق ہے جو اس بری طرح اس میں دھنس چکا ہے کہ نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اس جنگ کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس جنگ کا دائرہ بڑھتا نظر آتا ہے خواہ طالب کا زیاں ہو یا مطلوب کا ہر صورت میں زیاں اس خطے کے عوام کا ہوگا شام کے حالیہ واقعات سے یہ بات ظاہر ہوچکی ہے جس کا عندیہ میں نے پچھلے مضامین میں دیا تھا کہ اب دنیا یونی پولر نہیں رہی یہاں ہماری بحث کا موضوع یہ نہیں کہ راستی پر کون ہے بلکہ یہ کہ ماضی کی طرح پھر ایک بار چین اور روس اشتراک باہم سے جڑے ہوئے ہیں۔

اے پی سی کی اتنی بڑی کانفرنس منعقد ہوئی بس لیڈران بادل نخواستہ بیٹھ گئے اورکانفرنس سے باہر آتے ہی اپنی اپنی پوزیشن کو واضح کرتے گئے جب کہ طالبان نے متفقہ طور پر پاکستان کی پیشکش پر غور کیا اور اپنی حکمت عملی تیار کی جب کہ اے پی سی کی حکمت عملی انتشار کا شکار ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کا عالم یہ ہے کہ وہاں جو عملہ مباحثے کے لیے آتا ہے اپنی اپنی اختلافی رائے ظاہر کرتا ہے۔ تقسیم شدہ رائے عامہ آخر کس راستے کا تعین کرنے میں مصروف ہے ، مذاکرات کی پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ مذاکرات عام طور پر جب ہی ہوتے ہیں جب کہ ایک دوسرے کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں اور جو مذاکرات میں پہل کرتا ہے اس کو مخالف کی دلیل کو سننا پڑتا ہے اگر دس مطالبات پیش کیے جاتے ہیں تو پانچ ماننے کے لیے تیار ہونا پڑتا ہے جب کہ اے پی سی نے کوئی ایسا ہوم ورک یا فریم ورک تیار نہیں کیا کون ہے جو امن نہیں چاہتا اور امن کا راستہ تلاش نہیں کرنا چاہتا، مگر پاکستان میں تو اصولی سیاست کا راج ختم ہوگیا بقول طاہر القادری کے مک مکا کی سیاست غالب ہے۔

صدر زرداری نے صدارتی محل سے رخصت ہوتے ہوئے نواز شریف صاحب کو یہ یقین دلایا کہ ہم آپ کو پانچ سال تک سکون سے بیٹھے رہنے دیں گے اس پر حزب اختلاف کی پارٹی کہلانا کیا معنی پھر غریبوں کی قسمت بدلنے کے اقوال زریں ایسی باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں راست گوئی کی سیاست جاتی رہی بے روزگاری، زیادتی، ظلم ناانصافی کا بازار جس تیزی سے گرم ہوگا یہاں تین راستوں کی طرف بڑھیں گے ایک وہ راستہ جو طالبان کا ہے آئے دن ان کا لشکر مضبوط تر ہورہا ہے اگر یہاں پر فقہی بندشیں نہ ہوں تو اس تعداد میں مزید سرعت آسکتی ہے دوسرا راستہ انفرادی اور چھوٹے چھوٹے پتھارے داروں کا ہے جو دریائے سندھ سے گزرنے والے جنگلات میں بیٹھے ہیں یا جیسے کراچی میں وارداتیں، کمزور گھرانے عصمت فروشی پر مجبور ہیں اور ایک تیسرا راستہ انقلاب کا ہے جس کا علامہ طاہر القادری دم بھرتے ہیں۔

علامہ صاحب نے تو پہلا راؤنڈ کھیل لیا اور جس آسانی سے پیپلز پارٹی کی باتوں پر یقین کرکے کنٹینر سے باہر نکلے اس پر سیاست کا ادنیٰ طالب علم بھی پریشان تھا کہ جو حکومت روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا رہی ہے اور جلد لوگ روٹی سے محروم ہونے کو ہیں ان کی باتوں پر یقین کامل کرنا کچھ سمجھ میں نہ آیا اور دوبارہ بھی وہ دوسری پارٹیوں کو اپنا ہمنوا بنانے کا پروگرام بنا رہے ہیں علامہ صاحب نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں فرمایا کہ وہ عنقریب عوام سے رابطہ کریں گے اور پھر حکم اذاں دیں گے ایسی اذاں جس میں ملک بھر سے ایک کروڑ عوام انقلاب کے لیے کمربستہ ہوں گے اور ملک میں موجود چند سو اشرافیہ کا اقتدار ختم کردیں گے مگر انقلابات ٹی وی اسکرین سے ہرگز نہیں آسکتے ٹی وی اسکرین کا ذریعہ تو بن سکتے ہیں مگر انقلاب کا سرچشمہ ہرگز نہیں کیونکہ وہ بھی کسی قانون اور مجبوریوں کے پابند ہیں گزشتہ لانگ مارچ میں جو کچھ ہوا اس سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان غلطیوں کا اعادہ ہرگز نہ ہونا چاہیے اول تو اگر ایک کروڑ عوام کمربستہ ہوجائیں تو سب کچھ ممکن ہے مگر اس کے لیے تنظیم نو کی ضرورت ہے، دیہاتوں کو منظم کرنا، موجودہ کسان کمیٹیاں، ہر جگہ ایسے جوان اکٹھے کرنے ہوں گے خصوصاً ان لوگوں کو جن کے گھرانوں نے عبدالمجید سندھی، حیدر بخش جتوئی کے ساتھ کام کرنے کا شرف حاصل کیا ہوگا۔

لگتا ہے کہ ملک کے کئی لیڈروں کو وڈیرہ شاہی سرداری کی بساط الٹنے کا شوق ہے مگر یہ سب کیسے ممکن ہوگا۔ مزدور انجمنوں سے اشتراک، طالب علموں سے اشتراک اور سب کو کم ازکم چند نکات پر متحد کرنا ہوگا ورنہ یہ عزم محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا جو لوگ پہلے راؤنڈ میں انقلاب کی آس میں نکلے مال و اسباب فروخت کیے شیرخوار بچوں کو سردیوں میں بھیگتے دیکھا اور صاحبان اقتدار کو کنٹینر میں دیکھا ان میں سے کچھ کے دل میں آج تک داغ باقی رہ گیا لہٰذا دوسرے راؤنڈ میں نئے لوگ یقیناً آئیں گے رہ گیا میڈیا کا کردار کچھ ساتھی ہوں گے کچھ مشکوک یہ دستور جہاں سے انقلاب کا نعرہ لگانا تو آسان ہے مگر انقلاب کی پرورش اس کی پاداش میں ظلم و ستم سہنا عالمی سامراج اور ملک میں سامراج کے گماشتوں سے لڑنا کوئی آسان نہیں ہے، بس میں جس قدر لوگ سوار ہوتے ہیں ڈرائیور کی ذمے داری سی قدر بڑھ جاتی ہے لہٰذا جو لاکھوں اور کروڑہا لوگوں کی بات کرے تو اس کو اسی قدر احتیاط برتنی پڑے گی۔ انقلاب بچوں کا کھیل نہیں اس کا پہلا مرحلہ کچھ یوں ہے ، کاوش رضوی کا شعر ہے۔

شب خون کے پرچم کو لہو سے بھرلو

ترکش میں کٹے سر‘ کڑے بازو دھرلو

پاکستانی قوم مسلسل عذاب سے گزر رہی ہے، گیس کا عذاب، بجلی کا عذاب، ناامیدی اور بے روزگاری کا عذاب، ماؤں بہنوں کا لاشے اٹھانے کا عذاب کوئی منزل نہ کوئی رہنما خودساختہ دائیں اور بائیں بازو کے یہ رہنما عوام کو مسلسل بے وقوف بنانے میں مصروف ہیں، افکار میں جدیدیت اور اقدامات پرستی کی جنگ ہے جو لوگ انقلاب کے ذریعے ترقی کا سفر تیز کرنے کا عزم رکھتے ہیں ان کو مشکلات تو پیش آتی ہیں جیسے علامہ اقبال نے کچھ یوں بیان کیا ہے:

آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

دنیا میں آج جس قدر جنگیں ہیں وہ دراصل نظریات کا تصادم ہے اور ہر شخص اپنے نظریے کو درست گردانتا ہے اگر اس پر مکالمہ اور مباحثہ جنم لے تو پھر تصادم کی گنجائش کم رہ جاتی ہے مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان میں نظریات کے تصادم نے حقیقی تصادم کی راہ لے لی ہے اس کی وجہ یہاں کئی اقسام کے مکاتب تعلیم ہیں اور ان کے مابین ثقافتی خلیج ہے جو ہر روز بڑھتی جارہی ہے اور دانستہ 4 اقسام کے تعلیمی نظام پروان چڑھائے جارہے ہیں۔ اے اور اولیول ، سرکاری پیلا اسکول، درمیانہ درجے سے کم کی تعلیم، درمیانی درجے کے انگریزی اردو مکس تعلیم اور مذہبی تعلیمی ادارے ظاہر ہے افکار کی جہتیں الگ الگ ہوتی جارہی ہیں ایسی صورت میں انقلاب کی اصطلاحات اور اقسام بھی بدلتی جائیں گی۔ انقلاب کے دعویداروں کو اپنی زندگی سے آسائش کو دور کرنا ہوگا، وینزویلا صدر نکولس مادورو کی طرح آج کے دور میں پارٹی کنونشن میں شرکت کے لیے سائیکل پر جانا ہوگا اور یہی طرز جدید چین کے بانی ماوزے تنگ کا بھی تھا لیڈروں کو قول اور فعل میں تضاد پیش کرکے غریبوں کا ورد ترک کرنا ہوگا ورنہ انقلاب کے کھوکھلے نعرے عوام کو لے کر ڈوب جائیں گے انداز شہنشاہی سے انقلاب ممکن نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔