پی آئی اے

جاوید چوہدری  جمعرات 19 ستمبر 2013
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

میں اپنی عملی زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم کروں تو اس کے دو بڑے حصے بنیں گے ‘ ایک‘ وہ حصہ میں جس میں صرف ملازم ہوتا تھا‘ میں مختلف اخباری اداروں میں ملازمت کرتا تھا‘ میں نے لاہو کے ایک اخبار میں چودہ سو روپے ماہانہ پر صحافت شروع کی اور مجھے یہ معاوضہ یونیورسٹی میں ٹاپ کرنے اور گولڈ میڈل حاصل کرنے کے بعد ملا‘ میں اس کے بعد مختلف اداروں میں مختلف پوزیشنوں پر دھکے کھاتا رہا یہاں تک کہ میں نے کالم نگار بننے کا فیصلہ کر لیا‘ کالم نگاری نسبتاً آزاد ملازمت ہے‘ آپ کو اس کے لیے دفتر نہیں جانا پڑتا‘ آپ گھر میں بیٹھ کر کالم لکھتے ہیں‘ اخبار یہ کالم شایع کر دیتا ہے اور آپ کو ہر مہینے ایک لگا بندھا معاوضہ مل جاتا ہے‘ میں کالم نگاری کے شعبے میں آیا اور یوں ملازمت کے بندھنوں سے آزاد ہو گیا‘ دو‘ میری عملی زندگی کاوہ حصہ میں نے جس میں کاروبار شروع کیا۔

میں نے اپنی کمپنی بنائی‘ اپنے بھائی کو یونیورسٹی سے اٹھوایا اور کاروبار میں لگا دیا‘ وہ اس ادارے‘ اس کمپنی کا باس تھا اور میں اس کا اسسٹنٹ‘ میں اپنے خاندان میں بڑا ہوں‘ میرے بھائی میری والد کی طرح عزت کرتے ہیں‘ میں انھیں ڈانٹ بھی لیتا ہوں اور مہینوں ان سے ناراض بھی رہتا ہوں مگر خاندان میں میرے احترام میں کمی نہیں آتی اور یہ اللہ تعالیٰ کی ہزاروں نعمتوں میں سے ایک گراں قدر نعمت ہے‘ ہمارا کام چل پڑا تو ہم نے دوسری کمپنی بنائی اور سب سے چھوٹے بھائی کو بھی یونیورسٹی سے اٹھوا کر اس کام میں لگا دیا‘ میں اب اس بھائی کا اسسٹنٹ بھی بن گیا‘ یہ دونوں چند برسوں میں نہ صرف اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے بلکہ یہ دن رات ترقی بھی کر رہے ہیں‘ میرا بیٹا یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہے‘ میں اب اسے دفتر لے جاتا ہوں اور دفتر کا بوجھ آہستہ آہستہ اس کے سر‘ اس کے کندھوں پر ڈالتا جا رہا ہوں‘ میرے دوست میرے اس آئیڈیا کے خلاف ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں تعلیم کو اولیت دینی چاہیے‘ پہلے تعلیم پھر کام‘ میں بھی اس فلسفے کا حامی تھا مگر ہم نے جب اپنا کام شروع کیا اور مختلف کاموں‘ مختلف شعبوں کے لیے لوگ بھرتی کرنا شروع کیے تو یہ فلسفہ جڑوں سے اکھڑ گیا کیونکہ ہمارا نظام تعلیم نوجوانوں کو صرف ڈگری دیتا ہے‘ یہ ان میں قابلیت‘ اہلیت اور اخلاقیات پیدا نہیں کرتا‘ یہ انھیں ہنر (اسکل)‘ کام کرنے کا طریقہ‘ ملازمت تلاش کرنے اور ڈیوٹی سرانجام دینے کا طریقہ نہیں سکھاتا اور یہ انھیں ٹیم اسپرٹ‘ اداروں کی حفاظت‘ ان کی گروتھ اور ان کے معاشرے پر اثرات کے بارے میں بھی ٹریننگ نہیں دیتا چنانچہ یہ لوگ جب ڈگری لے کر یونیورسٹی سے نکلتے ہیں تو ان کے ہاتھ میں کاغذ کے ایک ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور یہ کاغذ کا ٹکڑا زندگی کے لیے انتہائی ناکافی ہوتا ہے۔

اصل تعلیم یونیورسٹی کے گیٹ کے باہر سے شروع ہوتی ہے اور ہم اپنے بچوں کو اس کی تعلیم‘ اس کی ٹریننگ نہیں دیتے جب کہ میں نے اپنے بھائیوں اور اپنے بچوں کو وہ اصل تعلیم دینا شروع کر دی‘ میں انھیں کھینچ کر خوابوں اور خیالوں کے آسمان سے حقائق کی زمین پر لے آیا اور میں اس میں بڑی حد تک کامیاب ہو گیا‘ میری آپ تمام احباب سے درخواست ہے آپ اپنے بچوں کی تعلیم کو دو حصوں میں تقسیم کردیں‘ کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم اور معاشرے کی عملی تعلیم‘ آپ کو اگر اپنے بچے کے ایک دو سیمسٹر منقطع بھی کرنا پڑیں تو آپ کر دیں‘آپ ڈگری مکمل ہونے سے قبل اس سے ملازمت کروائیں‘ اسے دفتر‘ کسی دکان میں ملازم رکھیں تاکہ وہ زمینی حقائق سے واقف ہو سکے‘ آپ کے بچے نے اگر یہ کر لیا تو یہ دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ ترقی کرے گا‘ زیادہ کامیاب ہوگا۔

میں واپس موضوع کی طرف آتا ہوں‘ میں جب ملازم تھا تو مجھے ادارے اور مالکان بہت ظالم‘ مطلبی‘ مفاد پرست اور بے انصاف محسوس ہوتے تھے‘ میں اپنے کام‘ اپنی ذمے داری کو دوسروں کا کام اور دوسروں کی ذمے داری بھی سمجھتا تھا مگر میں نے جب کاروبار شروع کیا تو میری رائے 360 کے زاویئے پر تبدیل ہو گئی‘ مجھے معلوم ہوا دنیا کا کوئی کام سیٹھ کا کام نہیں ہوتا‘ یہ اس ادارے اور اس کے ملازمین کا کام ہوتا ہے اور کوئی کمپنی‘ کوئی ادارہ اور کوئی فیکٹری کسی ایک شخص یا خاندان کی نہیں ہوتی‘یہ اس کے ملازمین اور معاشرے کی ہوتی ہے اور اگر ملازمین کام نہیں کریں گے‘ یہ دفتر کو اپنے گھر جتنی اہمیت نہیں دیں گے تو ادارہ آگے نہیں بڑھے گا اور اگر ادارے کی گروتھ رک جائے گی تو ادارے کا مالک ملازمین کو تنخواہیں‘ مراعات اور یوٹیلٹی بلز کہاں سے دے گا‘ دنیا کا کوئی سیٹھ‘ کوئی صنعت کار‘ کوئی سرمایہ صرف ملازمین کے نخرے برداشت کرنے‘ ان کی گالیاں کھانے‘ ان کی ہڑتالیں سہنے‘ ان کی کام چوریاں‘ ان کی نالائقیاں اور ان کی دھاندلیاں برداشت کرنے کے لیے ادارے نہیں بناتا‘ آپ اگر سست ہوں گے‘ نالائق بھی ‘ کرپٹ بھی‘ بہانے باز بھی اور آپ نے اگر پچھلے دس پندرہ برسوں میں سیکھا بھی کچھ نہیں ہو گا تو آپ کو تنخواہیں اور مراعات کیوں دی جائیں گی؟

یہ مقابلے کا دور ہے‘ آپ اگر مقابلہ نہیں کریں گے تو زمانہ آپ کو دوڑ سے باہر کر دے گا‘ یہ دنیا کی تلخ ترین حقیقت ہے مگر ہمارے لوگ یہ حقیقت ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ یہ آج بھی سترہویں صدی میں زندہ ہیں جس میں یہ سمجھا جاتا تھا آپ کے دو ہاتھ اور دو پائوں فیکٹریاں یا کان ہیں اور آپ اس کان‘ اس فیکٹری کے ذریعے زندگی گزار لیں گے‘ وقت اور حالات بدل چکے ہیں‘ یہ صلاحیت اور اہلیت کا زمانہ ہے‘ آپ اگر باصلاحیت اور اہل ہیں تو آپ ہمالیہ کی چوٹی اور گوپی کے صحرا میں بھی امریکا سے پیسے کما لیں گے اور آپ اگر نالائق اور نااہل ہیں تو آپ جلد یا بدیر سڑک پر آ جائیں گے‘ ہمارے لوگوں کو اس حقیقت کا ادارک نہیں ہو رہا‘ یہ آج بھی سرکاری نوکری کی تلاش میں سرگرداں ہیں‘ کیوں؟ کیونکہ سرکاری نوکری برف کی کان ہے‘ آپ اگر ایک بار اس کان میں داخل ہو گئے تو آپ پھر پوری زندگی عیش کرتے ہیں‘ آپ دفتر جائیں یا نہ جائیں‘ آپ کام کریں یا نہ کریں‘ آپ کو تنخواہ بھی مل جاتی ہے اور مراعات بھی اور آپ وقت کے ساتھ ساتھ سینئر بھی ہو جاتے ہیں اور آپ کو اس سینئر ’’ہڈ حرامی‘‘ کا باقاعدہ الائونس بھی ملتا ہے‘ ہم نے کبھی سوچا ہماری اس سوچ کا کیا نتیجہ نکلا‘ اس کا نتیجہ ریلوے‘ پی آئی اے‘ اسٹیل مل‘ پی ٹی سی ایل‘ پوسٹ آفس‘ واپڈا اور او جی ڈی ایل جیسے اداروں کے جنازے کی شکل میں نکلا‘ آپ ان اداروں کے ملازمین کی تعداد اور مراعات دیکھئے اور اس کے بعد کارکردگی دیکھئے‘ کارکردگی صفر‘ منافع زیرو اور تنخواہیں اور مراعات کروڑوں روپے اور یہ کروڑوں روپے اربوں میں تبدیل ہو کر حکومت کے کندھوں پر آگرتے ہیں اور حکومت ترقیاتی منصوبوں کی رقم ان اداروں پر صرف کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

آپ صرف پی آئی اے کی مثال لیجیے‘ پی آئی اے کے صرف 32 طیارے اڑ رہے ہیں مگر ملازمین اٹھارہ ہزار ہیں‘ گویا ایک طیارہ 562 ملازمین کو پال رہا ہے اور حکومت اس پرورش کی وجہ سے پی آئی اے کو ہر مہینے 3 ارب روپے دینے پر مجبور ہے‘ پی آئی اے بینکوں کی مقروض بھی ہے اور یہ ہر سال 12 ارب روپے سود ادا کرتی ہے‘ اب سوال یہ ہے اگر اٹھارہ ہزار لوگ مل کر 32 طیارے نہیں چلا سکیں گے تو ریاست ان کا بوجھ کتنی دیر برداشت کرے گی‘ کیا پی آئی اے اٹھارہ ہزار لوگوں کی مالی امداد کے لیے بنائی گئی تھی؟ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے اگر یہ ادارہ پی آئی اے کے کسی ملازم کی ذاتی ملکیت ہوتا تو کیا وہ ہر مہینے تین ارب روپے کا نقصان برداشت کرتا؟

یہ یقینا اسے تالہ لگا کر گھر بیٹھ جاتا‘ ہم پی آئی اے کو چلنے بھی نہیں دے رہے اور مراعات بھی حاصل کررہے ہیں‘ کیا دنیا میں ایسا ہوتاہے؟ اگر ہاں تو پھر ٹھیک ہے آپ فلائیٹس چودہ چودہ گھنٹے لیٹ کریں‘ آپ جہازوں کے واش رومز تک صاف نہ کریں‘ آپ مسافروں کو باسی کھانا کھلائیں‘ آپ جہازوں کے پرزے نکال کر بیچ دیں‘ آپ پٹرول چوری کر لیں‘ آپ فلائٹ اڑا کر سیٹ پر سو جائیں‘ آپ ہوٹلوں کے کمبل اور تولیے چوری کر لیں‘ آپ کریو کی وردی پہن کر اسمگلنگ کریں‘ آپ مسافروں کو جہاز میں بٹھا کر ہڑتال پر چلے جائیں‘ آپ مسافروں کے جھگڑوں کو عالمی خبر بنا دیں‘ آپ کاغذوں میں جہازوں کے پرزے منگوائیں‘ جہاز کھڑے رہنے دیں اور پرزوں کے کروڑوں روپے جیب میں ڈال لیں اور آپ فلائٹ کے دوران مسافروں کے ساتھ بدتمیزی کریں اور قوم اس کا تاوان برداشت کرتی رہتی ہے‘ ہم سب مل کر آپ کو ہر مہینے تین ارب روپے دیتے رہتے ہیں اور اس وقت تک دیتے رہتے ہیں جب تک ہمارا جنازہ نہیں نکل جاتا‘ یہ اگر غلط ہے تو پھر ہمیں بڑے فیصلے کرنا ہوں گے‘ ہم خود اضافی عملہ فارغ کر دیں‘ ادارے کو کرپشن سے پاک کریں‘ اپنی پرفارمنس بہتر بنائیں اور پی آئی اے کوذاتی ملکیت سمجھیں تو حالات ٹھیک ہو جائیں گے اور اس بہتری کا فائدہ پی آئی اے کے ہر ملازم کو ہوگا‘ ہم اگر یہ نہیں کرتے تو پھر پی آئی اے کے ہر اس ملازم کو نوکری سے فارغ ہو جانا چاہیے جس نے پرفارم نہیں کیا یا جو گدھ بن کر پچھلے کئی برسوں سے اسے نوچ رہا ہے ہم نانا جی کی دکان سے فاتحہ کے لیے لڈو کب تک اٹھاتے رہیں گے‘ ہم کب تک ادھار کا چارہ کھلا کر قومی بھینس کا دودھ پیتے رہیں گے‘ ہمیں اب خدا خوفی بھی کرنی چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔