چار خوش خبریاں؟

محمد ابراہیم عزمی ایڈووکیٹ  جمعرات 19 ستمبر 2013
03332257239@hotmail.com

[email protected]

شوہر گھر میں داخل ہو اور بیوی سے کہے کہ ایک خوشخبری ہے۔ جواباً  بیوی کہے کہ میرے پاس بھی ایک خوشخبری ہے۔ پھر اچھے موڈ میں تکرار ہو کر پہلے آپ، پہلے۔ دوسری خوشخبری ختم ہونے پر بچے کہیں کہ یہ تو سونے پر سہاگے والی بات ہے۔ دو اچھی خبروں پر یہ عالم ہو تو اگر کوئی کالم نگار اپنے قارئین کو چار شاندار خبریں ایک ساتھ گوش گزار کر رہا ہو تو اسے کیا کہیں گے؟ ذہین قارئین اسے چار چاند لگ جانا کہیں گے۔ اب اچھی بات تو یہ ہے کہ ان اچھی خبروں کو آہستہ آہستہ پڑھا جائے۔ چالاک قارئین سرسری طور پر جلدی جلدی یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وہ چار اچھی خبریں کون سی ہیں۔ بہتر ہے کہ دو تین گھونٹ میں غٹاغٹ کولڈ ڈرنک پینے کے بجائے اسٹرا سے ایک ایک قطرے کا مزہ لیں۔ آئیے ان خوشخبریوں کے مزے لینے سے پہلے سوالیہ نشان تو سمجھ لیں۔ یہ امید ہے یا خوش فہمی یا واقعی خوشخبریاں؟

نواز شریف کی حکومت نے پیپلز پارٹی سے مل کر شہر قائد میں امن و امان کے لیے رینجرز کو اختیارات دیے ہیں۔ ایم کیو ایم کو تحفظات ہیں۔ شہریوں کی اکثریت اور تمام پارٹیاں کراچی میں امن چاہتی ہیں۔ متحدہ ڈر رہی ہے کہ 92ء کی طرح اس آپریشن کا نزلہ کہیں ان کی پارٹی پر نہ گر جائے۔ نوے کے عشرے میں اندرون سندھ کی بڑی مچھلیوں کو پکڑنے کی بات ہو رہی تھی۔ اچانک حقیقی کو ٹینکوں پر بٹھا کر ایم کیو ایم کے دفاتر پر قبضہ کیا گیا اور بے شمار کارکنوں کو روپوش ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ ’’دودھ کا جلا چھاچھ کو پھونک پھونک کر پیتا ہے‘‘ یہ کیفیت متحدہ کی اس وقت ہے۔ وفاق اور صوبے کی حکومتوں کو چاہیے کہ تین باتوں کی یقین دہانیاں ایم کیو ایم کو کروائیں۔ نواز شریف کراچی آ کر یا قائم علی شاہ اسلام آباد جاکر ایک ساتھ پریس کانفرنس کریں اور کراچی میں امن کے پلان کو اس طرح واضح کریں۔

ماورائے عدالت قتل نہ ہونے کی یقین دہانی۔ نوے کی دہائی کے آپریشن میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کو ہیلی کاپٹر سے پہاڑوں و سمندروں تک میں پھینک دینے کی کہانیاں ہیں۔ پندرہ ہزار کارکنوں کا دعویٰ زیادہ ہو تو پندرہ کارکنوں یا ایک بھی انسان کا ماورائے عدالت قتل کیوں ہو۔ دوسری یقین دہانی لوگوں کو غائب نہ کرنے کی ہو۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ لندن میں الطاف حسین کو یہ دو یقین دہانیاں کروا کر ہڑتال نہ کرنے کا وعدہ لے کر کراچی کے امن و سکون کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ تیسری یقین دہانی یہ ہونی چاہیے کہ کسی بے گناہ کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی غلط فہمی ہوئی تو ایک دو دن میں رہا کر دیا جائے گا۔ مقدمے کے اندراج کے بعد گناہگار اور بے گناہ کا فیصلہ عدالت سے کروانے پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اگر تین افراد باہمی طور پر تین جمع ایک یقین دہانیاں ایک دوسرے سے لے لیتے ہیں تو یہ نہ صرف اہل کراچی بلکہ ہر پاکستانی کے لیے خوشخبری ہو گی کہ کراچی امن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یقین جانیے لاپتہ افراد کے پیاروں کے لیے ایف آئی آر کا اندراج اور ملزم کی رہائش کی جگہ کا علم ایک نعمت ہے۔

دوسری خوشخبری طالبان سے مذاکرات کی ابتدا ہے۔ یہ بم دھماکوں اور دہشت گردی سے نجات پانے کا دوسرا ذریعہ ہے۔ جنرل مشرف نے پرائی آگ میں کود کر پاکستانیوں کے پرسکون چین کو آتش کدہ بنا دیا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ ایک میجر جنرل کی شہادت کے بعد یہ مزید مشکل ہو گیا ہے۔ آگ پر تیل چھڑکنے اور مخالفت کرنے والے کہتے ہیں کہ اسکولوں و مسجدوں کو اڑانے والوں اور فوجیوں و شہریوں پر حملہ کرنے والوں سے بات چیت کیسے ہو؟ وہ یہ شوشہ بھی چھوڑ رہے ہیں کہ اس طرح تو ریاست ہتھیار ڈال رہی ہے۔ وہ نادان ہیں یا بہت عقلمند۔ یہ لڑائی دو طرفہ رہی ہے۔ ہم نے امریکیوں سے ڈالر لے کر ڈرون حملوں کی اجازت دی۔ اس طرح ان کے بیوی بچے بھی مرے ہیں اور معذور ہوئے ہیں۔ انگلینڈ نے آئرش اور سری لنکا نے تامل ٹائیگرز سے مذاکرات کیے ہیں۔ سوال ہے کہ کیا طالبان سے بات چیت کی ابتدا اور کامیابی امریکیوں، ماڈرن طبقے، سیکولر حضرات اور کمیونسٹ دانشوروں کے لیے خوش خبری ہو گی؟

تیسری خوشخبری بھارت سے مذاکرات اور تعلقات کی بحالی کہی جا سکتی ہے؟ نواز شریف کا مشرف و زرداری کے مقابلے میں بھارت سے امن کا زیادہ خواہش مند ہونا بہتری کی امید دلاتا ہے۔ اصولوں پر سمجھوتہ نہ ہو اور کشمیر کے مسئلے کو قالین کے نیچے نہ دبایا جائے تو انڈوپاک تعلقات میں بہتری دونوں ملکوں کے لیے مفید ہو گی۔ کرکٹ ٹیموں کے مقابلے کی بات چیت بھی ہو رہی ہے۔ دنیا بہت آگے نکل گئی ہے اور برصغیر کے ڈیڑھ ارب باشندے بھوک، غربت، افلاس اور بیماری میں مبتلا ہیں۔ دونوں ملکوں کے بجٹ کا بڑا حصہ ہتھیاروں کی خریداری میں صرف ہو جاتا ہے۔ دونوں کا ایٹمی طاقت بن جانے کے بعد اب جنگ کا امکان کم سے کم ہو گیا ہے۔ کوئی روایتی جنگ کب ایٹمی جنگ میں بدل جائے کوئی نہیں کہہ سکتا۔ اسی لیے دونوں ممالک اس تاریخ کو کہیں دہرائیں گے جو دونوں کے درمیان تین چار مرتبہ دہرائی جا چکی ہے۔ صدی کے آخری برسوں میں سرحد کے دونوں جانب دس لاکھ فوجیوں کا اجتماع اب جنگ نہ ہو سکنے کی سب سے عمدہ دلیل ہے۔ ’’آئی بال ٹو آئی بال‘‘ والی کیفیت نے آنکھیں کھول دی ہیں۔ اب کسی دہشت گردی کا بہانہ بنا کر دو چار سال کے لیے سرد مہری بے وقوفی قرار پاتی ہے۔ اگر بھارت سے مذاکرات و کھیلوں کے مقابلے کی ابتدا ہو جاتی ہے تو کیا یہ برصغیر کے عوام کے لیے خوش خبری ہو گی؟

پہلی خوشخبری کراچی کا امن تو دوسری طالبان سے مذاکرات ہیں جو پاکستان کا امن ہے۔ یہ دونوں خوشخبریاں اندرون ملک سے متعلق ہیں۔ پہلی ایک شہر کی جو پاکستان کا اکنامک انجن ہے اور دوسری وہ جس سے ملک پرسکون ہو جائے گا۔ اگر کراچی میں قتل و غارت گری نہ ہو اور ملک بھر میں بم دھماکے نہ ہوں تو اہل کراچی و اہل ملک کتنا سکون محسوس کریں۔ تیسری خوشخبری سرحدوں کے باہر کی ہے۔ بھارت کے ساتھ امن ہو اور جنگی اخراجات کا تناسب طے ہو جائے تو یہی رقم دونوں ممالک کی فلاح و بہتری پر صرف ہو گی۔ یہ سب کچھ امید و خوف کی کیفیت میں لکھا جا رہا ہے۔ تصویر کے دونوں رخ ہمارے سامنے ہیں۔

کراچی میں امن ہو، پاکستان میں سکون ہو اور بھارت سے اچھے تعلقات ہو جائیں تب بھی اطمینان کی کیفیت پیدا نہ ہو اگر ہمیں چوتھی خوشخبری نہ ملے ۔ اگر دنیا تیسری جنگ عظیم کے خطرے سے دوچار ہو جائے تو ہماری تین کی تین خوشخبریاں دھری کی دھری رہ جائیں۔ امریکا، شام پر حملے کو تیار تھا، بلکہ ہے۔ صدر اوباما کو وہ حمایت نہیں مل رہی جو عراق اور لیبیا کے لیے ملی تھیں۔ روس و چین کا خاموش نہ رہنا اور ایران کا اسرائیل پر حملے کی دھمکی واضح طور پر دنیا کو ایک بڑے مسئلے میں دھکیلنے کی جانب قدم ہوتا۔ اب عالمی برادری عقل و ہوش کا دامن تھام رہی ہے اور مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ممکن ہے یہ چوتھی خوش خبری ہو یا خوش فہمی۔

آئیے! تصویر کے روشن رخ کو نگاہ میں رکھتے ہوئے سوچتے ہیں کہ یہ دس پندرہ دنوں میں چار خوشخبریاں نہیں ہیں؟ ہر طرف بری خبر سننے والے قارئین کے چہروں پر ہلکی سی مسکراہٹ آنی چاہیے۔ ’’عزم نو‘‘ کا مطلب ہی امید جگائے رکھنا ہے۔ کالم پڑھنے والوں کے چہرے پر ایک بار پھر ہلکی سی مسکراہٹ، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ چار خوش فہمیاں نہیں بلکہ واقعی ہیں چار خوشخبریاں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔