عید قرباں کے بعد سیاسی قربانیوں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے

رضوان آصف  بدھ 7 اگست 2019

 لاہور:  پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی سازشوں اور خلفشار کا شکار ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کر کے پاکستان کے ساتھ اپنے پہلے سے کشیدہ تعلقات کو انتہائی درجہ پر لیجانے کی کوشش کی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھی کشیدگی اور فوجی نقل و حرکت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج نے سیاسی قیادت سے مشاورت کے بعدگزشتہ روز ہونے والے کور کمانڈر اجلاس میں حتمی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر بھارت نے کسی جارحیت کی کوشش کی تو اسے ایسا جواب دیا جائے گا جو بھارت کو ہمیشہ یاد رہے گا۔ پوری پاکستانی قوم اور مظلوم کشمیری پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی ابتداء میں جو کچھ ہوا وہ قابل افسوس ہے۔

اگر ہمارے پارلیمنٹیرین بھارت کی مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری پر حملے جیسے اہم ترین معاملہ پر بھی متحد اور متفق نہیں ہو سکتے تو یہ پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہمیں کیسا پارلیمانی نظام چاہئے اور کیسے پارلیمنٹرین منتخب کرنے چاہئیں۔اپوزیشن کو بھی چاہئے تھا کہ وہ آج کے دن سیاست سے پرہیز کرتی، پروڈکشن آرڈرز پر سیاست نہ کی جاتی، نعرے اگرلگانا ہی تھے تو بھارت کے خلاف لگائے جاتے۔ پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی ابتداء میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کو بھارتی میڈیا نے جس طرح سے اپنے حق میں استعمال کیا۔

اس کی ذمہ داری ہمارے سیاستدانوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کشمیر اب جس انتہا پر پہنچ گیا ہے اس کے بعد عالمی طاقتوں کو دو ایٹمی ممالک کے درمیان جاری اس سنگین تنازعہ کو حل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا اور آنے والے وقت میں سفارتی سطح پر اہم پیش رفت ہو گی۔ پاکستان کے اندرونی حالات بھی سخت تلخی اور کشیدگی کا شکار ہیں۔ حکومت ایک جانب معاشی بحران کا شکار ہے تو دوسری جانب اپوزیشن اپنا پورا زور لگا رہی ہے۔ اپوزیشن کو قطعی یہ امید نہیں تھی کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ان کے اپنے 14 ارکان ’’بغاوت‘‘ کر جائیں گے۔گو کہ ان باغی ارکان کے ناموں کا باضابطہ اعلان کسی جماعت نے نہیں کیا ہے اور نہ ہی شاید کبھی کیا جائے گا لیکن باخبر حلقوں کو ان ارکان کے ناموں کا علم ہے۔

سینیٹ میں جو کچھ ہوا اس نے ہمارے ملک کی پارلیمانی سیاست پر ایک سیاہ داغ لگا دیا ہے۔’’ضمیر کی آواز‘‘ پر پولنگ بوتھ کے اندر پہنچ کر اپنی پارٹی پالیسی سے بغاوت کرنے والے ان 14 ارکان کا ضمیر اتنی گہری نیند سویا ہوا تھا کہ اسی روز دوپہر کو میاں شہباز شریف کے ظہرانے میں بھی یہ ارکان موجود تھے اور جس وقت سینیٹ کے ایوان میں تحریک عدم اعتماد کی قرارداد منظوری کیلئے ارکان کو اپنی نشستوں پر کھڑا ہونے کا کہا گیا تو یہ ارکان بھی کھڑے ہوئے تھے لیکن پولنگ بوتھ میں داخل ہوتے ہی ان کا ’’ضمیر‘‘ جاگ گیا اور جب تحریک کی ناکامی کے بعد مشترکہ اپوزیشن کا اجلاس منعقد ہوا تو یہ’’باضمیر‘‘ ارکان اس میں بھی مکمل جوش و جذبہ کے ساتھ موجود تھے بس اتنا سا فرق پڑا تھا کہ پولنگ بوتھ میں جاگنے والا ان کا ضمیر دوبارہ گہری نیند سو چکا تھا۔

ان 14 ارکان نے جو کچھ کیا اسے دیکھ کر قصور کی معصوم زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کاکیس یاد آگیا جس میں سفاک قاتل عمرا ن علی کئی روز تک مقتولہ کے گھر والوں کے ساتھ زینب کی تلاش بھی کرتا رہا اور لاش ملنے کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر نعرے بازی بھی کرتا تھا۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ ’’محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے‘‘ لیکن اب اس محاورے میں لفظ’’سیاست‘‘ کا اضافہ بھی ہو چکا ہے۔ سیاست میں بھی حرام اور حلال کا فرق ختم ہو چکا ہے اور اپنی فتح کیلئے کچھ بھی کرنا جائز بن چکا ہے۔

اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رہنماوں کے خلاف احتساب کا شکنجہ تنگ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے چیخ و پکار میں بھی شدت آتی جا رہی ہے۔ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے خلاف پرانے مقدمات میں نئے انکشافات سمیت کرپشن کے نئے کیس بھی سامنے آرہے ہیں۔اپوزیشن احتساب کے عمل کو عمران خان کی انتقامی کارروائی قرار دے رہی ہے لیکن کرپشن کیسز میں منظر عام پر آنے والے شواہد اسقدر ٹھوس اور مضبوط ہیں کہ انہیں جعلی یا جھوٹ قرار دینا کسی طور ممکن نہیں ہے۔ ماضی کے حکمرانوں کو اپنی طاقت اور ’’تعلقات‘‘ پر اتنا پختہ یقین تھا کہ انہوں نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ آنے والے وقت میں ان کا بھی احتساب ہو سکتا ہے شاید اسی وجہ سے انہوں نے کرپشن میں بھی ریکارڈ بنائے اور اتنی دیدہ دلیری سے کرپشن کی کہ اسے کیمو فلاج کرنے کیلئے کوئی جھوٹا سچا ریکارڈ بنانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔ شریف فیملی شدید ترین مشکلات کا شکار ہے اور ان کی مشکلات ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہیں ۔

جو لوگ یہ تھیوری پیش کرتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی جب شریف فیملی کو معاہدے کے تحت جلا وطن کردیا گیا تھا تو یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ اب شریف خاندان دوبارہ پاکستانی سیاست اور حکومت میں واپس نہیں آئے گا لیکن پھر حالات بدلے تو شہباز شریف بھی دو مرتبہ وزیر اعلی بنے اور نواز شریف بھی وزیر اعظم بن گئے لہذا موجودہ احتساب کا ڈرامہ بھی ختم ہو جائے گا اور شریف فیملی دوبارہ اقتدار میں آئے گی۔ اس تھیوری کو مسترد کرنے کے لئے ٹھوس دلائل یہ ہیں کہ مشرف نے جو معاہدہ کیا وہ افواج پاکستان کا متفقہ فیصلہ نہیں تھا جبکہ اس وقت سعودی عرب، ترکی، برطانیہ، امریکہ سمیت عالمی طاقتیں شریف برادران کے حق میں سامنے آئی تھیں لیکن اس وقت یہ تمام ممالک اس معاملے میں غیر جانبدار ہو چکے ہیں۔

شریف خاندان کی کرپشن کے کئی ثبوت تو بعض ممالک نے خود فراہم کیئے ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ پاکستانی قوم عمران خان سے اس بات پر تو ناراض ہے کہ معیشت دباو کا شکار ہے لیکن یہی قوم اس بات پر مکمل یقین کرچکی ہے کہ شریف فیملی اورآصف زرداری سمیت دیگر سابق حکمرانوں کی کرپشن کے ثبوت درست ہیں۔

مریم نواز شریف کو پوری قوت کے ساتھ لانچ کرنے کا منصوبہ بھی ناکام ہو گیا ہے۔ احتساب عدالت کے جج کی ویڈیو کے معاملہ پر مریم بی بی’’ٹریپ‘‘ ہو گئی ہیں اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے ان کے خلاف کارروائی میں شدت آئے گی جبکہ منی لانڈرنگ کے کیسز بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور مقتدر و باخبر حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ عید قرباں کے بعد سیاسی قربانیوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی توقع ہے جس میں میاں شہباز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری بھی متوقع ہے۔

ن لیگ کے بعض سابق وفاقی وصوبائی وزراء کی گرفتاریاں بھی ہونے والی ہیں۔اپوزیشن کو امید تھی کہ شاید ایک اہم عہدے کی مدت میں توسیع نہیں ہو گی اور اپوزیشن احتجاجی تحریک کے ذریعے حکومت گرانے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن اب یہ کنفرم ہو رہا ہے کہ اہم عہدے کی مدت ملازمت میں توسیع ہو رہی ہے ۔دوسری جانب ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کا ملبہ پیپلز پارٹی پر ڈال کر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ہنی مون کا خاتمہ کردیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔