عید کے گمشدہ رنگ

ندا ڈھلوں  ہفتہ 10 اگست 2019
وقت کی بدلتی رفتار نے عید کے رنگوں پر بہت اثر ڈالا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

وقت کی بدلتی رفتار نے عید کے رنگوں پر بہت اثر ڈالا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

عید کا تعلق اس خوشی سے ہے جس کو منا کر انسان فرحت محسوس کرتا ہے۔ عید کے دن ہر کوئی ایک انجانی سی خوشی میں محو رہتا ہے۔ ہر جگہ رنگ برنگے پہناوے نظر آتے ہیں۔ عید ایک ایسا تہوار ہے کہ جسے اپنوں کے ساتھ منا کر خوشی کو دوبالا کیا جاسکتا ہے اور اس کےلئے لوگ بیرون ملک، اندورن ملک سفر کرتے ہیں۔

وقت کی بدلتی رفتار نے عید کے رنگوں پر بہت اثر ڈالا ہے۔ ہر عید ہی خاص ہوتی ہے، کیونکہ سب اپنے ساتھ ہوتے ہیں، مگر پھر بھی مجھے میرے بچپن کی گاؤں میں گزاری عیدیں بہت یاد آتی ہیں۔ گاؤں کی زندگی جتنی سادہ ہوتی ہے اس کے ریت و رواج بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ان عیدوں کی خاص بات یہ تھی کہ وہ عیدیں سب کے ساتھ مل کر گزاری جاتی تھیں۔ وہ عیدیں شہر کی افراتفری کی زندگی میں کہیں گم ہوکر رہ گئی ہیں۔

ہمارے گاؤں میں عید کا بھرپور انتظام کیا جاتا تھا اور کوشش یہی ہوتی تھی کہ سب ہی عید کے رنگوں سے لطف اندوز ہوسکیں۔ عید کی نماز پڑھنے کا انتظام بھی کچھ یوں تھا کہ مردوں کےلئے خاص طور پر گاؤں سے دو کلومیٹر دور عیدگاہ بنائی جاتی تھی۔ خواتین کےلئے خصوصی عیدگاہ کا درجہ گاؤں کے وسط میں واقع مسجد کو دیا جاتا تھا۔ عید پر نماز پڑھنے کےلئے سب خواتین اس لئے بھی پرجوش ہوتی تھیں کیونکہ اس مسجد کے ساتھ ہی ایک عید بازار بھی لگایا جاتا تھا۔ جہاں عید کے بعد سب خواتین مل کر جاتی تھیں۔ اس بازار میں ہر وہ چیز رکھی جاتی تھی جس میں خواتین اور بچوں کی خصوصی دلچسبی ہو، جیسے بچوں کے کھلونوں کے اسٹالز اور خواتین کےلئے جیو لری کے اسٹالز بھی سجائے جاتے تھے۔ جہاں پر خواتین اور بچے خریداری کرتے۔ آگے کھانے پینے کے اسٹالز بھی ہوتے تھے، جس میں مزے مزے کے کھانے ہوتے تھے، تاکہ سب مل بیٹھ کر کھاسکیں۔

عید پر گاؤں میں بیاہی نئی نویلی دلہنوں کو بھی خصوصی طور پر عید بازار میں لایا جاتا تھا، جہاں سب گاؤں کی خواتین ان کو منہ دکھائی دیتیں اور دلہنیں ان سے خوب دعائیں بھی وصول کرتی تھیں۔ یہ بازار ایسا خوشیوں سے بھرا ہوتا تھا کہ وقت گزرنے کا علم ہی نہیں ہوتا تھا۔

ہمارے گاؤں کا ایک بہترین رواج یہ بھی تھا کہ عید سے چند دن پہلے ہی گاؤں کے نمبردار صاحب ایسے لوگوں کی لسٹ تیار کرلیتے تھے، جنہوں نے اس سال قربانی نہیں کرنی ہوتی تھی اور یہ لسٹ محلے کے ان گھروں کو دے دی جاتی جو قربانی کرنے والے تھے، تاکہ وہ قربانی کرتے وقت سب سے پہلے ان گھروں میں گوشت بھجوا دیں۔ ان لوگوں کی عزت نفس بھی مجروح نہیں ہوتی تھی، کیونکہ ان کو کسی سے گوشت مانگنا نہیں پڑتا تھا۔ شہروں میں اس چیز کی سب سے بڑی کمی ہے، ہم کسی دوسرے کے متعلق جانتے ہی نہیں ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں کبھی بھی ان لوگوں کے بارے میں نہیں جانا جاتا جو قربانی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور نہ ہی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں خواتین کےلئے مخصوص عید بازار لگائے جاتے ہیں، جہاں وہ ایک دوسرے کے ساتھ بہتر طریقے سے وقت گزار سکیں۔ اس لئے شہر کے لوگ عید زیادہ تر سو کر ہی گزارتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو مناسب وقت بھی نہیں دے سکتے۔

عید گاؤں کی ہو یا شہر کی، یہ سب کے ساتھ مل کر خوشی منانے کا تہوار ہے۔ ایک دوسرے کا ساتھ دے کر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کا نام عید ہے۔ عید کا مطلب، خوشی، جشن اور دعوت ہے۔ ایسی دعوت جس میں سب کو ہی شامل کرنا چاہیے، تاکہ ہر کوئی خوشی کے دن خوش رہ سکے۔ خوشی صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کےلئے بھی ہونی چاہیے۔

یقین کیجیے جب آپ دوسروں کو خوشی دیں گے تو آپ کو ایسی مسرت ہوگی کہ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ عید پر ہمیں صرف اپنی خوشیوں کو نمائشی نہیں بنانا چاہیے، بلکہ ان کو حقیقی بنائیں۔ اپنے جانور کی سوشل میڈیا پر تصاویر لگانے اور لو گوں کو دکھانے کے بجائے ان سفید پوش لوگوں کو ڈھونڈیں جو عید پر قربانی نہیں کرسکتے اور نہ ہی کسی کے گھر جاکر گوشت مانگ سکتے ہیں۔

عید قرباں اللہ کا ایک خاص تحفہ ہے، اس عید پر ہم سنت ابراہیمیؑ کو مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ ادا تو کرتے ہیں مگر قربانی کے اصل اور حقیقی مطلب سے مکمل طور پر آشنا نہیں ہیں۔ قربانی صرف اور صرف جانور کی نہیں ہونی چاہیے بلکہ حقیقت میں اپنے نفس کی بھی ہونی چاہیے، جو آپ کو اللہ کے احکامات سے دور لے جاتا ہے۔ قربانی آپ کی انا کی ہونی چاہیے، جو آپ کا دوسروں سے اچھا تعلق قائم رکھنے میں ر کاوٹ بنتی ہے۔ قربانی آپ کی اس سوچ کی ہونی چاہیے جو سوچ دوسوں کو کمتر اور آپ کو برتر قرار دیتی ہے۔ اس لیے اس عید قرباں پر خود سے عہد کریں کہ سنت ابراہیمیؑ کو ادا کرنے کے ساتھ ساتھ آپ اپنے اندر موجود ان خامیوں کو بھی دور کریں گے جو آپ کو بہتر مسلمان اور انسان بننے سے روکتی ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ندا ڈھلوں

ندا ڈھلوں

بلاگر جامعہ پنجاب سے فارغ التحصیل ہیں، مختلف ٹی وی چینلوں سے وابستہ رہ چکی ہیں۔ سیر و سیاحت اور کتب بینی ان کے مشاغل ہیں۔ ان سے ٹوئٹر آئی ڈی @DhillonNida پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔