اردو اور رومن رسم الخط

سونیا اکمل قریشی  جمعـء 9 اگست 2019
رومن اردو کے بجائے اردو کو اس کے اصل رسم الخط میں ہی لکھنے کو ترجیح دی جائے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

رومن اردو کے بجائے اردو کو اس کے اصل رسم الخط میں ہی لکھنے کو ترجیح دی جائے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

بچپن سے میں نے دو رسم الخط کے بارے میں جانا ہے، اردو اور انگریزی۔ مگر گزشتہ چند سال سے ایک اور رسم الخط رائج ہے، جسے سوشل میڈیا نے جنم دیا اور حیرت کی بات یہ کہ یہ رسم الخط سب سے زیادہ مقبول ہے اور اسے رومن اردو کہا جاتا ہے۔ اب اگر اردو میں لکھا جائے تو لوگ اسے معیوب سمجھتے ہیں اور کچھ تو باقاعدہ چڑ جاتے ہیں۔

چند روز قبل ایک شخص کا ایس ایم ایس آیا۔ ہمیں کچھ عرصے سے اردو سے کچھ خاص لگاؤ ہے اور اس رومن اردو کو ہم اردو کے ساتھ زیادتی سمجھتے ہیں۔ اس لیے آج کل ہم صرف اردو میں جواب دینا پسند کرتے ہیں اور رومن اردو سے بدلے کےلیے انگریزی بھی اردو میں لکھتے ہیں۔ عادت سے مجبور اس شخص کو بھی ہم نے اردو میں جواب دیا جب کہ مسلسل وہ رومن اردو کا استعمال کررہے تھے۔ 5، 6 ایس ایم ایس کے بعد انہوں نے ہم سے طنزیہ انداز میں کہہ ہی دیا کہ لگتا ہے اردو سے آپ خاص لگاؤ رکھتی ہیں؟ ہم نے بھی کہہ دیا ’’جی کیوں نہیں! آخر ہماری مادری زبان ہے‘‘۔ کہنے لگے وہ تو ٹھیک ہے مگر یہ انگریزی کے الفاظ اردو میں لکھنے کی بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی؟ ہم نے انہیں بتایا کہ یہ اردو کا ستیاناس کرنے والوں سے بدلا ہے۔ انہیں یہ حرکت بچگانہ سی لگی۔ ہم نے کہا کہ جب اردو کو انگریزی کے الفاظ استعمال کرکے رومن میں لکھا جاسکتا ہے تو انگریزی اردو املا میں لکھنے میں کیا حرج ہے؟

یہ سوشل میڈیا کا دور ہے اور اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ سوشل میڈیا نے اردو اور انگریزی ادب کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا ہے۔ انٹرنیٹ پر کچھ پیجز بنے ہوئے ہیں جس پر اردو ادب کی بےمثال اور کلاسیکل کہانیوں کو رومن اردو میں لکھا گیا ہے۔ لیکن اکثر اوقات رومن پڑھتے ہوئے الفاظ درست ادا نہیں ہوپاتے۔ اگر آج وہ ادیب اور شعرا زندہ ہوتے تو اپنی کہانیاں یوں بگڑی ہوئی اردو میں پڑھ کر صدمے سے وفات پاجاتے۔

سوشل میڈیا پر اردو چاہے نہ بھی سکھائی جائے مگر رومن میں لکھ کر کم ازکم اس کے ساتھ ظلم نہ کیا جائے۔ اردو کو رومن میں لکھ کر اس کی صورت و شکل کو ایسے ہی مسخ کیا جاتا ہے جیسے کسی حسین عورت کے چہرے پر تیزاب ڈال کر اسے مسخ کردیا جائے۔ اور اردو کو رومن میں پڑھ کر اہل زبان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔

جہاں انٹرنیٹ نے رومن اردو کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا، وہیں انگریزی اسکولوں نے بھی عوام کو ’’گلابی انگریز‘‘ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اہم بات یہ کہ نہ ہی بچوں کو اردو آئی، نہ ہی انگریزی، مگر رومن اردو میں ماہر ہیں۔ اس سے بہتر تھا کہ انہیں املا اور تلفظ کی غلطیوں سے مالامال رومن لکھنے کے بجائے ٹوٹی پھوٹی اردو ہی سکھا دی جاتی۔

چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں، بڑے میاں سبحان اللہ۔ بچوں کو تو کیا ہی کہا جائے جب آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ انٹرنیٹ پر بہت سی ویب سائٹس ہیں جو اردو، انگریزی اور رومن میں مواد شائع کرتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ رومن مواد سب سے زیادہ پڑھا اور پسند کیا گیا ہے۔

بہرحال یہ رومن اردو، اردو زبان کے فروغ میں تو کوئی خاص کردار ادا نہیں کررہی، البتہ اردو رسم الخط کا جنازہ ضرور نکال رہی ہے۔ اور اب اردو سے محبت کرنےوالے اور اہل زباں (معذرت کے ساتھ) یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ:
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

سونیا اکمل قریشی

سونیا اکمل قریشی

بلاگر قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ شعبہ صحافت سے بھی وابستہ ہیں، اردو اور انگریزی میں بلاگنگ بھی کرتی رہی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔