بھارتی فیصلہ کشمیر کے حق خودارادیت پر حملہ ہے، 47 برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا اقوام متحدہ کو خط

اے پی پی  ہفتہ 10 اگست 2019
بھارت کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 370 کی تنسیخ سے انہیں گہرا دکھ ہوا ہے، خط کا متن۔ فوٹو: سوشل میڈیا

بھارت کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 370 کی تنسیخ سے انہیں گہرا دکھ ہوا ہے، خط کا متن۔ فوٹو: سوشل میڈیا

 اسلام آباد: برطانوی ہاؤس آف کامنز نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت کا یک طرفہ فیصلہ کشمیر کی سیاسی حیثیت اور حق خودارادیت پر حملہ ہے جس پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل فوری طور پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلائیں۔

ایکسپریس کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ بھی کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف بول پڑی۔ برطانوی ہاؤس آف کامنز کے 47 ارکان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل مسئلہ کشمیر پر فوری طور پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلائیں کیوں کہ موجودہ صورتحال عالمی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

یہ پڑھیں :مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر عالمی برادری سراپا احتجاج

خط میں کہا گیا ہے کہ ہمیں بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے فیصلے پر تشویش ہے، بھارت کا یک طرفہ فیصلہ کشمیر کی سیاسی حیثیت اور حق خودارادیت پر حملہ ہے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مسلمان مخالف خیالات کے حامل ہیں، کشمیر کی سیاسی قیادت جیلوں میں قید کردی گئی ہے، کشمیر میں ہر قسم کے مواصلاتی رابطے بھی بند کردیے گئے ہیں۔

برطانوی ہاؤس آف کامنز نے خط میں مزید کہا ہے کہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر پر جنگی تناؤ کم کرنے میں اور عالمی برادری بھی کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ اور خودمختاری کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔