جوڈیشل مجسٹریٹ کا ایس آئی یو جمشید کوارٹرز پر چھاپہ، خاتون سمیت3افراد بازیاب

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 21 ستمبر 2013
پولیس اہلکار دو گھنٹے تک جوڈیشل مجسٹریٹ کو جھانسہ دیتے رہے۔فوٹو: اے ایف پی/فائل

پولیس اہلکار دو گھنٹے تک جوڈیشل مجسٹریٹ کو جھانسہ دیتے رہے۔فوٹو: اے ایف پی/فائل

کراچی:  سیشن جج شرقی کے حکم پر جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی ارم جہانگیر نے ایس آئی یو جمشید کوارٹر میں چھاپہ مار کر خاتون، بھائی اور بھانجے کو بازیاب کرکے ذاتی مچلکے پر رہا کردیا۔

ذمے دار پولیس افسران کو آج(ہفتہ)سیشن جج کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا ہے ، چھاپے کی مخبری ہونے پر پولیس نے تینوں مغویوں کو تھانے کے ایک کمرے میں بند کرکے تالا لگا دیا تھا، حوالات میں مغویوں کے کپڑے اور چپلوں سے پولیس کا راز فاش ہوگیا ، پولیس اہلکار دو گھنٹے تک جوڈیشل مجسٹریٹ کو جھانسہ دیتے رہے، فاضل ججز کی شدید برہمی پر اعلیٰ افسران کو فوری طلب کرنے پر کمرے کا تالا کھولا اور مغویوں کو بازیاب کیا گیا، تفصیلات کے مطابق جمعے کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی ارشد نور خان نے مسماۃ سکینہ کی درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی ارم جہانگیر کو مذکورہ تھانے میں چھاپہ مارنے کا حکم دیا تھا۔

چھاپہ مارنے سے چند منٹ قبل پولیس کو مخبری ہوگئی تھی جس پر انھوں نے حوالات میں بند خاتون ملکہ صادق ، اس کے بھائی عباس صادق اور بھانجے ذوالفقار کو فوری طور پر تھانے کے ایک کمرے میں بند کرکے تالا لگادیا تھا، فاضل جج کو بتایا کہ ان کے تھانے میں کوئی غیرقانونی حراست میں نہیں ہے، اس موقع پر حوالات چیک کیا گیا تو مغویوں کے اہل خانہ نے حوالات میں پڑی چپل اور کپڑوں کو شناخت کرلیا،فاضل جج کے استفسار پر بھی پولیس نے انکار کیا جس پر فاضل عدالت نے تمام بند کمروں کو کھولنے کا حکم دیا پولیس نے لیت ولعل سے کام لیا اور بہانہ کیا کہ تالوں کی چابیاں نہیں اور دو گھنٹے تک فاضل جج کو جھانسہ دیا۔

جج نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور اعلیٰ افسران کو فوری طلب کیا جس پر پولیس کی نشاندہی پر ایک کمرے کا تالا کھولا گیا اور تینوں مغویوں کو بازیاب کیا گیا، تھانے کے ریکارڈ کے مطابق ان کے خلاف مقدمہ درج تھا اور نہ ہی روزنامچے میں کوئی انٹری تھی، فاضل عدالت نے ذمے دار پولیس افسران کو آج سیشن جج کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا ہے ، قبل ازیں درخواست گزار سکینہ نے وکیل محمد راغب لاکھو ایڈووکیٹ کے توسط سے حبس بے جا کہ درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ بھائی اور بہن اور بھانجے کو ایس آئی یو جمشید کوارٹر نے گھر میں داخل ہوکر غیرقانونی حراست میں لیا اور حوالات میں بند کردیا تھا انکی رہائی کے لیے ایک لاکھ روپے تاوان طلب کیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔