منیٰ میں حجاج کرام آج دوسرے روز بھی رمی میں مصروف

ویب ڈیسک  پير 12 اگست 2019
منی میں عید کے دوسرے روز بھی سنت ابراہیمی کی پیروی میں شیطان کو کنکریاں ماری گئیں۔ فوٹو : فائل

منی میں عید کے دوسرے روز بھی سنت ابراہیمی کی پیروی میں شیطان کو کنکریاں ماری گئیں۔ فوٹو : فائل

منیٰ: لاکھوں فرزندان توحید آج دوسرے بھی سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے شیطان کو کنکریاں مارنے کا رکن مکمل کر رہے ہیں۔

منٰی میں آج دوسرے روز بھی حجاج کرام رمی میں مصروف ہیں جب کہ کل منگل کو تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے بعد حجاج کی بڑی تعداد غروب آفتاب سے قبل مکہ مکرمہ روانہ ہوجائے گی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے منیٰ میں تین مقامات پر شیطان کو زوال آفتاب کے بعد علامتی کنکریاں ماری جاتی ہیں۔

اللہ کے مہمان شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے اپنے دل میں یہ مصمم ارادہ کرتے ہیں کہ اس فانی دنیا میں زندگی کے کسی بھی موڑ پر شیطان نے بہکانے یا رکاوٹ بننے کی کوشش کی تو اسے یوں ہی کنکریاں مار کر دھتکاریں گے اور راہ راست پر استقامت کا مظاہرہ کریں گے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا۔

رمی یعنی شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل شعائر اسلام میں سے ہے جو ذی الحج کی دس، گیارہ اور بارہ تاریخ کو ادا کیا جاتاہے اور جس کا آغاز گروپس اور طے شدہ اوقات کار کے مطابق ہوتا ہے تاکہ انسانوں کا اژدھام ہونے کے باوجود منظم انداز میں رمی جاری رہے۔

اس موقع پر جمرہ کے پاس اور پل کی طرف لے جانے والے راستوں پر رضاکاروں اور اہلکاروں کی بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا ہے جو لاکھوں حجاج کی آمدورفت کو سہل اور قاعدے کے مطابق بنانے میں فعال کردار ادا کرتے ہیں جب کہ ہلال احمر کہ ایمبولینس اور ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موجود ہیں۔

واضح رہے کہ منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے 3 مقامات ہیں جنہیں جمرۃ الاولیٰ ، جمرۃ الوسطیٰ اور جمرۃ الاخریٰ کہا جاتا ہے، دسویں ذی الحج کو صرف جمرۃ الاخریٰ یعنی جمرۃ عقبہ کی رمی ہوتی ہے اور زوال سے پہلے ہوتی ہے بقیہ دونوں جمرات میں اگلے دو دن تک اور زوال کے بعد رمی کی جاتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔