نظریاتی انتشار

آفتاب احمد خانزادہ  ہفتہ 21 ستمبر 2013

حایت رومیؒ ہے حضر ت موسیٰ علیہ السلام ایک دن جنگل میں سے گزر رہے تھے کہ انھوں نے ایک چرواہے کی آواز سنی، وہ بلند آواز سے کہہ رہا تھا ’’ اے میرے جان سے پیارے خدا! تو کہاں ہے، آ میں تجھے دھوئوں، نئے نئے کپڑے سی کر تجھے پہنائوں، تیرے موزے پھٹ گئے ہوں تو وہ بھی سیوں، تجھے تازہ تازہ دودھ پلایا کروں اور اگر تو بیمار ہوجائے تو تیرے رشتے داروں سے بڑھ چڑھ کر تیری تیمار داری کروں، تجھے دوا پلائوں، ہاتھ پیروں کی مالش کروں اور جب تیرے آرام کا وقت ہوتو تیرا بستر خوب جھاڑ پونچھ کر صاف کروں، اگر مجھے معلوم ہوکہ تیرا گھر کہاں ہے تو بلاناغہ صبح شام گھی اور دودھ تیرے واسطے لے آیا کروں، پنیر، روغنی روٹیاں اور خوشبودار دہی کی لسی، یہ سب چیزیں لائوں، غرض میرا کام ہر طرح تجھے خوش رکھنا اور تیری خد مت کرنا ہو، میری ساری بکریاں تجھ پر قربان ہوں، اب تو آجا، تیرے فراق میں میری بے قراری حد سے بڑھ گئی ہے۔‘‘ وہ چرواہا دنیا سے بے خبر ایسی ہی باتیں کررہا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے قریب گئے اور کہنے لگے ’’ارے احمق تو یہ باتیں کس سے کررہا ہے۔‘‘

چرواہے نے جواب دیا ’’اس سے کررہا ہوں جس نے مجھے اور تجھے پیدا کیا اور یہ زمین آسمان بنائے۔‘‘ یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غضب ناک ہوکر کہا ’’اے بدبخت! تو اس بے ہودہ بکواس سے کہیں کا نہ رہا، بجائے مومن ہونے کے کافر ہوگیا۔ خبردار آئندہ ایسی لادینی اور فضول بکواس منہ سے نہ نکالنا، اپنے حلق میں روئی ٹھونس لے، تیر ے اس کفرکی بدبو ساری دنیا میں پھیل گئی۔ ارے بے وقوف! یہ دودھ، لسی اور روغنی روٹیاں ہم مخلوق کے لیے ہیں، کپڑوں کے محتاج ہم ہیں، حق تعالیٰ ان حاجتوں سے بے نیاز ہے، اگر تو نے اپنی زبان بند نہ کی تو یاد رکھ غیرت حق آتش بن کر کائنات کو جلا ڈالے گی، خدا ایسی خدمتوں سے بے پرواہ ہے وہ نہ بیمار پڑتا ہے نہ اُسے تیمارداری کی ضرورت ہے، نہ اس کا کوئی رشتہ دار ہے، دودھ تو وہ پیے جس کا بدن اور عمر بڑھنے والی ہو اور ضعف محسو س کرتا ہو اور موزے وہ پہنے جو پائوں کا محتاج ہو، حق تعالیٰ ان باتوں سے بری ہے، توبہ کر اور اس سے ڈر۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے غیظ و غضب میں بھرے ہوئے یہ الفاظ سن کر چرواہے کے اوسان خطا ہوگئے، خوف سے تھر تھر کانپنے لگا، چہرہ زرد پڑگیا، بولا ’’اے خدا کے جلیل القدر نبی، آپ نے ایسی بات کہی کہ میرا منہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا اور مارے ندامت کے میری جان ہلاکت میں پڑگئی۔‘‘ یہ کہتے ہی چرواہے نے آہ سرد کھینچی اپنا گریبان تار تار کیا اور دیوانوں کی طرح سر پر خاک اڑاتا وہاں سے چل دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا سے ہم کلام ہونے کے لیے کوہ طور پر گئے تو خدا نے ان سے فرمایا ’’اے موسیٰ! تونے ہمارے بندے کو ہم سے جدا کیوں کیا؟ تو دنیا میں فعل (جدائی) کے لیے آیا ہے یا وصل (ملاپ) کے لیے؟ خبردار! اس کام میں احتیاط رکھ اور جہاں تک تجھ سے ہوسکے فراق کی حد میں قدم مت دھر، ہم نے اپنی مخلوق میں سے ہر شخص کی فطرت الگ بنائی ہے اور ہر فرد کو دوسروں سے جدا عقل بخشی ہے، جو بات ایک کے حق میں اچھی ہے، وہ دوسرے کے لیے بری ہے اور جو ایک کے حق میں تریاق کا اثر رکھتی ہے وہی دوسرے کے لیے زہر کا حکم رکھتی ہے۔

ایک کے حق میں نور، دوسرے کے حق میں نار، ایک کے لیے گلاب کا پھول، دوسرے کے لیے کانٹا، ہماری ذات پاکی و ناپاکی سے بری ہے اور اے موسیٰ یہ مخلوق ہم نے اس لیے پیدا نہیں فرمائی کہ اس سے ہماری ذات کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے، اسے پیدا کرنے کا مقصود صرف یہ ہے کہ اس پر ہم اپنے کمالات کی بارش برسائیں، جو شخص جس زبان میں ہماری حمد و ثنا کرتا ہے اس سے ہماری ذات میں کچھ کمی بیشی واقع نہیں ہوتی بلکہ جو موتی اس کے منہ سے نکلتے ہیں، اس سے مداح کرنے والا خود ہی پاک صاف ہوتا ہے، ہم کسی قول اور ظاہر پر نگاہ نہیں کرتے، ہم تو باطن اور حال کو دیکھتے ہیں۔ اے موسیٰ! خردمندوں کے آداب اور ہیں، دل جلوں اور جان ہاروں کے آداب اور، عقیدوں کے بڑے روپ ہوا کرتے ہیں، ضروری نہیں پکا نمازی اور روزہ دار خدا کے نزدیک ہی ہو، کوئی اچھا مسلمان ہے یا برا اس فیصلے کا اختیار صرف اور صرف خدا کو حاصل ہے کسی انسان کو نہیں۔‘‘اس وقت ہم شدید فکری اور نظریاتی انتشارکا شکار ہیں، ایک طرف ہم شدید معاشی بربادی سے دوچار ہیں تو دوسری طرف مذہبی انتہاپسند اسلام کے نام پر بدترین وحشت و بربریت اور جنونیت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

عام آدمی دونوں طرف سے پس رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ بھیانک صورتحال یہ ہے کہ عام آدمی شدید ذہنی خلفشار اور کنفیوژن میں اسلامی انتہاپسندی کی دلدل میں دھنستا جارہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں کئی ایسے انتہاپسند گروپس ہیں جو اپنے علاوہ دوسروں کو اچھا مسلمان ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ وہ مذہبی بنیاد پرست یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے عقائد دنیا میں سب سے زیادہ مقبول اور سچے ہیں، لہٰذا انسانیت کی فلاح و بہبود کی خاطر دنیا پر ان عقائد کی بالادستی قائم کرنا لازم ہے، وہ حضرات ایک اور قدم آگے بھی بڑھ جاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ صرف وہ حق پر ہیں اور دوسروں کو ان کی پیروی کرنا ہوگی اور اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو پھر انھیں ان کی بے راہ روی کی سزا بھگتنی ہوگی اور ان کو طاقت کے استعمال کے ذریعے سیدھی راہ پر لایا جائے گا۔ ملک میں پھیلی مذہبی انتہا پسندی کی اہم وجوہات میں سماجی تبدیلیاں، غیر واضح پالیسیاں، غیر مساوی طرز زندگی، معاشی ناہمواری، بنیادی سہولیات سے محرومی، غیر مساوی طرز تعلیم، رجعت پسند نصاب، رشوت ستانی،بے روزگاری، سماجی عدم تحفظ، تعمیری عمل سے دوری، ثقافتی اور لوک ورثے سے کنارہ کشی، طرز معاشرت، پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقعے کی کمی، آبادی میں ہولناک اضافہ شامل ہیں۔

فرانزفینن کہتا ہے، انسان اثبات ہے اثبات زندگی، اثبات محبت، اثبات فراخ دلی لیکن انسان نفی بھی ہے انسان سے نفرت کی نفی، انسان کی تذلیل کی نفی، انسان کے استحصال کی نفی، قتل آزادی کی نفی، کیونکہ آزادی ہی انسانیت کا جوہر ہے ۔ یہ کہنا کہ ہم ہار گئے غلط ہے، انسان کبھی ہارا نہیں کرتا اور نہ ہی ہارا ہے۔ معاشرے انسان بناتے ہیں اور بگاڑتے ہیں، آج کل بگاڑ کا ہمیں بھی سامنا ہے، ہم دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک سماج میں رہ رہے ہیں، جس میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ہولناک جرائم ثقافت، مذہب اور ضعیف الاعتقادی کے غلط تصورات کے زیر اثر کیے جارہے ہیں۔ پاکستانی ریاست اوندھے منہ زمین پر آگری ہے، ہمارا سماجی ڈھانچہ تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو متشدد قوتوں کے حوالے کردیا ہے۔ شہروں کے علاوہ دیہاتوں میں بھی زندگی بالکل بدل چکی ہے۔ ملا گائوں گائوں اپنا کام کررہے ہیں، اگر پاکستان کے 18 کروڑ عوام اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور ان وجوہات کو دور نہ کیا جو مذہبی انتہا پسندی کا باعث بن رہی ہیں تو پھر وہ دن دور نہیں جب پورا پاکستان یرغمال بنا ہوا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔