رینجرز کو اختیارات دینے کا مسودہ ابھی نہیں ملا، وزیر اعلیٰ سندھ، کراچی آپریشن جاری رکھنے کا اعلان

اسٹاف رپورٹر  اتوار 22 ستمبر 2013
آپریشن بغیرکسی سیاسی دباؤکے پولیس اور رینجرز کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ۔ فوٹو : فائل

آپریشن بغیرکسی سیاسی دباؤکے پولیس اور رینجرز کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ۔ فوٹو : فائل

کراچی:  وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہاہے کہ رینجرز کو وفاقی کابینہ کی جانب سے اختیارات دینے کے حوالے سے ابھی ہمیں مسودہ نہیں ملا ۔

ہم دیکھیں گے کہ اگر اس میں انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہو رہی تو اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا،کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گاجب تک کراچی سے جرائم پیشہ افرادکا قلع قمع نہیں کیاجاتا،آپریشن بغیرکسی سیاسی دباؤکے پولیس اور رینجرز کر رہی ہے اورصوبائی حکومت کسی قسم کی مداخلت نہیں کررہی،صحافی ولی خان بابر قتل کیس کا ایک گواہ اب بھی زندہ ہے اوراسے مکمل سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے، شہید ہونے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے قتل کی تحقیقات کے لیے جلدتحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائیگی۔

وہ ہفتے کو صوبہ سندھ اورباالخصوص کراچی میں قیام امن کے لیے بنائی گئی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کے بعدمیڈیابریفنگ دے رہے تھے ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن ،صوبائی مشیر سید مرادعلی شاہ اور وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی بھی ان کے ہمراہ موجودتھے۔قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ نے امن وامان اور کراچی میں جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کے حوالے سے بنائی گئی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ گزشتہ15روز کے دوران کراچی میں امن و امان کی صورت حال میں قدرے بہتری آئی ہے اورباالخصوص ٹارگٹ کلنگ،اغوابرائے تاوان اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں25سے30فیصدکمی واقع ہوئی ہے۔

پولیس نے گزشتہ 15 روز کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں میں 1619 مقامات پر چھاپے مارے ہیں اورمجموعی طور پر 2069 ملزمان کو زیر حراست لیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی پولیس نے 555 ایسے افراد کو بھی گرفتار کیاہے جو اسٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں ۔

اسی طرح سندھ رینجرز نے 143 چھاپوں کے دوران 406 افراد کو حراست میں لیا اور بعدازاں ایسے افراد جن کے خلاف کوئی شواہد نہیں تھے انہیں رہا کردیا ہے تاہم اب بھی 194 افراد حراست میں ہیں اور ان سے مختلف اقسام کا 284 اسلحہ بھی برآمد کیا گیاہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آپریشن کے اثرات اب کراچی کی سول سوسائٹی،کراچی کے شہریوں اور تاجر برادری کو بھی محسوس ہو رہے ہیں،امن و امان کی بحالی کے ادارے مکمل جذبے کے ساتھ کراچی کو روشنیوں کاشہر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اورجب تک کراچی میں مکمل طور پر امن قائم نہیں ہوجاتا۔

آپریشن کا سلسلہ جاری رہے گا ،25 سے 30 سال کے جرائم کو دو یا تین ہفتوں میں ختم نہیں کیا جاسکتا تاہم صوبائی حکومت ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کے خلاف بھرپور قدامات کر رہی ہے اور اس میں بڑی کامیابی بھی ملی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سال 142 پولیس اہلکاروں مختلف واقعات میں شہید ہوئے ہیں ،سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد جہاں ان پولیس اہلکاروں کے قتل کی تحقیقات ازسر نو کی جائے گی ، ظفر بلوچ کے لواحقین نے ان کے قتل کامقدمہ نبیل گبول کے خلاف درج کرایاہے اوراگر تحقیقات میں نبیل گبول بے گناہ ثابت ہوئے تو یہ کیس ابھی واپس ہوجائے گا،کراچی میں آپریشن کسی بھی علاقے میں ہو ،وہ کسی جماعت کا علاقہ نہیں ہوتا بلکہ وہ پاکستانیوں کے علاقے ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔