خود پسند اور اقتدار پسند

آفتاب احمد خانزادہ  اتوار 18 اگست 2019
aftabkhanzada2@yahoo.com

[email protected]

انسانی تاریخ میں اتنا نقصان جاپان پرگرے ایٹم بموں نے نہیں پہنچایا جتنا نقصان انسانوں کو ’’خود پسند اور اقتدار پسندوں‘‘ نے پہنچایا ہے۔ ہماری قومی تاریخ بھی ان کے ہاتھوں نقصان سے بھری پڑی ہے۔ انسان جتنا ان کے ہاتھوں ذلیل وخوار اور برباد ہوا ہے، اتنا تو قدرتی آفات سے نہیں ہوا۔ آئیں ’’خود پسند اور اقتدار پسندوں ‘‘ کو قریب سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے ’’خود پسند‘‘ پر بات کرتے ہیں۔ علم نفسیات کی اصطلاحات میں اسے ’’ نر گیست ‘‘ کہتے ہیں، جس کا بنیادی مفہوم خود پسندی کا ہے۔

نفسیات کی یہ اصلاح قدیم یونان کی ایک دیو مالائی کہانی سے اخذ کی گئی ہے جس کا مر کرزی کردار نارسس ایک خوبصورت ہیرو ہے جسے اپنے چاہنے والوں او ر ارد گرد کی دنیا سے کوئی دلچسپی نہ تھی اپنی تعریف سنتے سنتے وہ اتنا خود پسند ہوگیا تھا کہ ایک دن پانی میں اپنا عکس دیکھ کر خود پر عاشق ہوگیا دن رات اپنے عکس کو دیکھتا رہتا ۔ بھوک اور پیاس سے نڈھال ہوتے بھی پانی کو چھو نہیں سکتا تھا کیونکہ اسے ڈر تھاکہ پانی کی سطح ہلنے سے عکس ٹوٹ جائے گا اور اس کی شکل کا حسن ہزاروں ٹکڑوں میں بٹ جائے گا، چنانچہ پیاس سے نڈھال مرگیا۔

خود پسندی انسانی شخصیت کاایسا مرض ہے جو تنظیمی ، سیاسی اور سماجی معاملات میں سنگین مسائل کا سبب بنتا ہے ،اس مرض کا شکار ہونے والے لوگ ارد گرد کی دنیا میں اذیت ، تباہی، بربادی کا باعث بنتے ہیں اس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ مریض کبھی خود کو مریض نہیں مانتا۔ ڈاکٹر ڈیوڈ تھامس کاکہنا ہے ’’خود پسندی کے مریض کو پہچاننا اس لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ ہر لمحہ ادکاری کے ذریعے اپنی انا کی حفاظت کرتا ہے اور دنیا کے سامنے ایک جعلی تشخص بنائے رکھتا ہے۔اس لیے ایسے لوگ دھوکہ دہی کے استاد بن جاتے ہیں ۔ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اجتماعی ضرورتوں کو اپنی ضرورتوں پر اولیت دیں۔ وہ دوسروں کے لیے ہمدردی سے خالی ہوتے ہیں۔ وہ عام آدمی سے کہیں زیادہ غم وغصہ اور جارحیت دکھاتا ہے یعنی تعریف ہوئی تو اتراتا ہے اوراگرکمتر قراردیا گیا تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی ناکامی کو ہمیشہ دوسروں پر ڈالتا ہے۔

تکبر، خود نمائی ، فخر اس کی صفات ہیں وہ تعریف اور تحسین کا شدید بھوکا ہوتا ہے وہ اپنے ہم پلہ یا فائق لوگوں کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ مجھ سے جلتے ہیں یا میرے خلاف سازش کرتے ہیں۔ ندامت اور تشکر سے انکار اس کا وہ نفیس ہتھکنڈا ہے جس سے وہ اپنی فضیلت وعظمت کا تحفظ کرتاہے۔اس کی گفتگو میں نمائش کا عنصر صاف نظر آتا ہے، اس کے تقریباً تمام خیالات اور طرز عمل دوسروں سے مستعار ہوتے ہیں، اگر انھیں یقین ہوکہ پکڑے نہیں جائیں گے تو دھوکہ دہی سے نہیں چوکتے۔ ’’اب اقتدار پسندوں ‘‘ پر بات کرتے ہیں۔اقتدار پسند خود پسند سے اس بات میں مختلف ہوتا ہے کہ وہ دلکش سے زیادہ طاقتور بننا چاہتا ہے اس کو اس بات کی فکر رہتی ہے کہ لوگ اس سے محبت کرنے سے زیادہ اس سے ڈرا کریں ۔ اس قبیلے میں بہت سے پاگل اور انسانی تاریخ کے اکثر بڑے آدمی آتے ہیں، اس قبیلے کے لوگ ہمیشہ ناخوش رہتے ہیں یا پھر بے وقوف ۔ بعض اوقاف وہ دونوں ہوتے ہیں۔

جو اقتدار پسند یہ سمجھتا ہے کہ اس کے سر پرتاج ہے اس کے پاس طاقت ہے، ممکن ہے کہ ایک لحاظ سے اس کو خوشی کا احساس ہو لیکن اس کی خوشی اس قسم کی نہیں جس پرکسی عقل مندکو رشک ہو۔ سکندر اعظم نفسیاتی اعتبار سے پاگل تھا گو اس پاگل میں خواب کو حقیقت کا جامہ پہنانے کی صلاحیت تھی لیکن وہ اپنے ہی خواب کو حقیقت نہ بنا سکا جوں جوں اس کی فتوحات بڑھتی گئی وہ اپنے دامن کو وسعت دیتا گیا، جب یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ عظیم ترین فاتح ہے تو اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ خدا ہے کیا وہ خوش تھا ؟ اس کی شراب نوشی، عورتوں سے لاپروائی اورخدائی کا دعویٰ، ان سب باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ خوش نہیں تھا۔

نپولین اسکول میں اپنے ساتھیوں کے مقابلہ میں احساس کمتری میں مبتلا رہتا تھا۔وہ مالدارگھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ غریب لڑکا تھا جس کو وظیفہ ملتا تھا جب وہ اقتدارکے عروج پر پہنچا تو یہ دیکھ کر اس کو قلبی اطمینان ہوتا تھا کہ ہم جماعت اس کے سامنے جھک جھک کر آداب بجا لارہے ہیں، چنگیز خان ، ہلاکو خان ، ہٹلر، مسولینی ، شاہ ایران ، صدام حسین سب اقتدارکے دیوانے تھے لیکن سب نفسیاتی مسائل سے دو چارتھے۔ بچپن کی محرومیاں ، خوف ، بزدلی اور دیگر نفسیاتی مسائل انسان کو اقتدار پسندی کی جانب راغب کرتے ہیں۔ دراصل خود پسند اور اقتدار پسند اتنے ہی بیمار ہوتے ہیں جتنے کہ کوئی دیگر موذی مرض کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

یہ بھی اتنے ہی ہمدردی کے قابل ہوتے ہیں جتنے دیگر مریض ہوتے ہیں بس فرق یہ ہے کہ دیگر مریضوں کو اپنے مرض کا علم ہوتا ہے اور یہ اپنے مرض سے لاعلم ہوتے ہیں۔ آپ اورکچھ نہ کریں صرف اپنی ملکی تاریخ کے مریضوں کی بنا کر ان کا تفصیلی جائزہ لے لیں تو آپ بھی ان سے ہمدردی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے لیکن انھیں معاف پھر بھی نہیں کریں گے کیونکہ ان کے مرض کی وجہ سے جو تکلیفیں، اذیتیں اور مصیبتیں آپ نے اٹھائی ہیں وہ اس قدر وحشت اور اذیت ناک ہیں کہ خدا کی پناہ ۔ اور دوسرے یہ بھی کہ آپ ان کے مرض کے ذمے دار نہیں ہیں، جب ان کے مرض کی ذمے داری آپ پر عائد نہیں ہوتی ہے تو آپ کو کس جرم اور گناہ کی سزائیں دی گئیں ، اگرہم مستقبل میں مزید ایسے مریضوں سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے معاشرے سے وہ تمام وجوہات ختم کرنا ہونگی کہ جن کی وجہ سے لوگ خود پسند اور اقتدار پسند بن جاتے ہیں۔

یہ اس قدر بھیانک مرض ہیں کہ امریکا ، یورپ ، برطانیہ اوردیگر خوشحال اور ترقی یافتہ ممالک نے سب سے پہلے اپنے معاشروں سے ان تمام وجوہات کو ختم کیا جن کی وجہ سے انسان خود پسند اور اقتدار پسند بننے پر مجبور ہو جایا کرتے تھے۔ انھوں نے سب سے پہلے تمام محرومیوں کو ختم کیا سب کے لیے یکساں مواقعے پیدا کیے سب برابر اورآزاد ہیں کی بنیاد پر شفاف ملکی نظام تشکیل دیے۔ ناہمواری، طبقاتی کشمکش کو ختم کیا۔ انصاف ، تعلیم ، صحت کو عام اور مفت کیا جیسے ان کے یہ کام مکمل ہوئے تو ان کے معاشروں میں خود پسند اور اقتدار بنانے کی فیکٹریوں کو تالے لگ گئے اور صحت مند انسان پیدا ہونے لگے، دیکھتے ہیں ہمارے ملک میں خود پسند اور اقتدار بننے کی فیکٹریوں کوکب تالے لگتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔