حکومت جھاڑو بھی لگائے…

شیریں حیدر  اتوار 18 اگست 2019
Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

عید کی شام کو خبریں سننے کے لیے ٹیلی وژن آن کیا تو اہم خبروں میں ایک اہم خبر یہ شامل تھی ، ’’ کراچی میںقربانیوں کی آلائشوں کی وجہ سے شہر بھر میں کوڑے کرکٹ اور گندگی کے ڈھیر جمع ہو گئے ہیں اور اتنا تعفن جمع ہو گیا ہے کہ شہریوں کا جینا محال ہو گیا ہے۔

شہر کو صاف ترین شہر بنانے کے دعوی دار منظر سے غائب!! ‘‘ خبر یوں تو عام سی ہے اور ہر دور حکومت میں سننے کو ملتی ہے مگر اس پر ہم عموماً غور نہیں کرتے ۔ یہ خبر کسی بھی دور میں حکومت کی ناکامی نہیں بلکہ ہماری اپنی ناکامیوںاور خراب عادات کی عکاس ہوتی ہے۔

ہمارا بس نہیں چلتا کہ ہم سڑکوں پر نکل کر جلوس نکالیں اور مطالبہ کریں کہ حکومتی ارکان ہر دن کا آغاز ہاتھوں میں جھاڑو پکڑ کر ہمارے گھروں کی صفائی سے کریں ۔ گھروں کے بعد وہ ہمارے گھروں کے سامنے سے سڑک بھی صاف کریں ۔ پلاسٹک کے لفافے پھینک پھینک کر جو نالیاں اور نالے ہم نے بند کر رکھے ہیں اور ان سے غلاظت ابل ابل کر باہرآ رہی ہے، اسے بھی حکومت اپنے ہاتھوں سے صاف کرے۔ ہمارے علاقوں اور محلوں میں جو گٹر ہماری لاپروائیوں کی وجہ سے بند ہو گئے ہیں انھیں کھولے۔ ان ندی نالوں کو صاف کرے جن میں ہم سارا سال اپنے گھروں کی گندگی اور غلاظت پھینکتے رہتے ہیں اور بارشوں کے موسم میں ہماری پھینکی ہوئی وہی غلاظتیں رنگ لاتی ہیں اور ندی نالوں اور سیوریج کے ذرائع سے پانی ابل ابل کر باہر آتا اور سیلاب کا باعث بنتا ہے۔

ان سیلابوں کے نتیجے میں نہ صرف املاک کا بلکہ انسانی جانوں کا بھی زیاں ہوتا ہے اور ہم متاثرین اور دیکھنے والے خود کو بے بس پاتے ہیں ۔ کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ ملک کو صاف رکھنا حکومت کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ ملک کو صاف رکھنا اتنا مشکل نہیں اگر ہر باشعور شخص جسے اپنی ذاتی صفائی کا ادراک ہے وہ ملک کو بھی صاف رکھے ۔ اس ملک میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، صفائی نصف ایمان ہے، ہمارے مذہب کی پہچان ہے اور یہ وہ حدیث ہے جس پر ہم کم اور وہ زیادہ عمل کرتے ہیں جو مسلمان نہیں ہیں۔ بیرون ممالک میں جب بھی کہیں جانا ہوتا ہے، ان ممالک میں صفائی کے حالات دیکھ کر رشک آتا ہے کہ کاش ہم بھی اتنے ہی صاف ستھرے ہوتے اورہمارا ملک بھی صفائی کا یوں ہی عملی نمونہ ہوتا ۔

ہم دن میں کئی بار ہاتھ دھوتے ہیں، وضو کرتے ہیں۔ ملک میں پانی کی جتنی بھی قلت ہو، ہمارے زیادہ تر لوگ ہر روز غسل لینے کے عادی ہوتے ہیں۔ ان کی گاڑیاں دھلتی ہیں چاہے اس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ پانی کی قلت کا شکار ہوں کہ انھیں پینے تک کے لیے میسر نہ ہو۔ اپنے برتن، کپڑے دھوتے ہیں اور تو اور اپنے کتوں تک کو ہر روز نہلاتے ہیں ، اگر گھر میں کوئی پودے یا درخت ہیں تو انھیں بھی صاف رکھتے ہیں ۔ اپنے آپ کو اور اپنے گھر کو صاف رکھنا تو اپنی ذمے داری سمجھتے ہیں مگر جہاں گھر کا کوڑا کرکٹ ، ہمارے اپنے گھر کی حدود سے باہر نکلتا ہے وہاں ہماری ’’ صاف پن ‘‘ کی حدود ختم ہو جاتی ہیں ۔

کوشش ہوتی ہے کہ اپنے گھر کا کچرا ساتھ والے کے کھاتے میں ڈال کر اپنے حصے کو صاف کر لیں ۔ اگر ہم اپنی ذمے داری کو محسوس کریں تو اصل میں ہمارے گھر کا سارا تاثر ہمارے گھر آنے والوں کو گھر سے بہت پہلے مل جاتا ہے۔ سب گھروں کے سامنے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ہوں یا گلیوں میں بکھرے ہوئے سبزیوں پھلوں کے چھلکے اور خالی ریپر، یہ صرف اس گلی یا محلے کا نہیں بلکہ ہمارا تاثر بھی ہے۔ کیسے منہ بھر بھر کر ہم کہتے ہیں کہ ہم تو صاف ہیں مگر ہمارے گلی محلے کے لوگ بہت گندے ہیں۔

گندگی پھیلانا ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا ہم سب بھگتتے ہیں، خواہ وہ ہمارے بارے میں منفی تاثر کی صورت ہو یا اس کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں کی صورت۔ نہ صرف ہم اپنے ماحول کو گندا کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی اگلی نسل کے ذہنوں کو بھی اسی طور تیار کرتے ہیں کہ انھیں صفائی ا ور گندگی کا احساس نہیں ہوتا ۔ جب وہ خود دیکھتے ہیں کہ ’’ صفائی نصف ایمان ہے‘‘ پڑھانیوالا جہاں چاہتا ہے تھوک دیتا ہے، ناک صاف کر لیتا ہے، پان کی پیکیں دیواروں پر پھینکتا ہے ، سڑک کے کنارے کھڑا ہو کر پیشاب کر لیتا ہے اور اپنے ہاتھ میں کچھ کھاتے ہوئے جو کچھ پکڑ رکھا ہوتا ہے اسے سڑک پر ہی پھینک دیتا ہے، تو وہ کیا سیکھے گا؟ صفائی نصف ایمان ہے یا صفائی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی!!

افسوس ہوتا ہے ان لوگوں کو جو بڑی بڑی گاڑیوں میں سے پھلوں کے چھلکے اور ریپر وغیرہ پھینکتے ہوئے، منہ باہر نکال کر سڑک پر تھوکتے ہوئے سوچتے تک نہیں کہ ان کے اس عمل سے کیا ہو سکتا ہے ۔ کسی کے اوپر ان کی پھینکی ہوئی چیزیں گر سکتی ہیں یا ماحول کو گندگی کا نمونہ بنانے میں ان کا کیا کردار ہے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ عقل کا دولت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اگر کسی کے پاس دولت آ جائے تو اسے عقل ساتھ مفت میں نہیں ملتی۔ میں تو سمجھتی ہوں کہ تعلیم اور عقل کا بھی آپس میں کوئی تعلق نہیں، اب توتعلیم صرف ڈگریوں کے حصول کا نام رہ گیا ہے، گریڈز اچھے ہونا چاہئیں ، جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اس پر عمل کرنا اہم نہیں ہے۔

ایک تعلیم یافتہ عورت ایک معاشرے کے سدھار میں کیا کام کرتی ہے، اس کابھی اب رنگ بدل گیا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ وہ ایک معاشرے کو سدھار سکتی ہے، کئی نسلوںکی بہترین تربیت کی ضامن ہوتی ہے۔ آج عورت نے تعلیم حاصل کی ہے تو اس کا استعمال یہ بھی ہے کہ اسے بہتر طرز زندگی کے لیے گھر سے باہر نکلنا پڑا ہے۔ وہ بھی ملازمت کرتی ہے اور اتنا ہی تھک جاتی ہے جتنا اس کے خاندان کے مرد کام کر کے تھکتے ہیں۔ اس لیے اہم ہے کہ اگر وہ گھر سے باہر نکلتی ہے کہ مرد کے شانہ بشانہ کام کرے اور اپنے گھر کے وسائل کو بہتر بنائے تو اس کا حق ہے کہ اس کے گھر کا مرد اس کے ساتھ بچوں کی تربیت اور تعلیم میں حصہ دار بنے ۔ بچے کی پہلا مکتب اس کی ماں کی گود ہے بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بچہ پیدائش سے پہلے سے ہی اپنی ماں کی اچھی بری سوچ کے بارے میں جان جاتا ہے اور اس کی شخصیت کے اثرات قبول کرنا شروع کر دیتا ہے ۔

ہوتا یہ ہے کہ ہم بچے کے اور آداب کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ایک طرف اسے بتا رہے ہوتے ہیں کہ جھوٹ بولنا بری بات ہے مگر ساتھ ہی خود اس کے ساتھ، اس کے سامنے یا اس کے حوالے سے جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں ۔ اسے کہتے ہیں کہ وقت پر پہنچنا اچھے انسانوں کی پہچان ہے مگر خود جہاں جائیں، دیر سے پہنچیں ۔ اسے کہے کہ کسی کو نقصان پہنچانا، غیبت کرنا، بہتان لگانا، رشوت لینا اور دینا، وعدہ خلافی کرنا ، برے اوصاف ہیں اور اللہ کو نا پسند ہیں مگر اس کے سامنے ہر وقت دوسروں کی برائیاں کرتے رہیں ۔ وہ کس بات کو سیکھے گا، وہ جو اسے کہی جا رہی ہے یا وہ جو عملی طور پر اس کے سامنے ہو رہا ہے؟

اگر ہم ایک بار، صرف ایک بار، اپنے گھر میں، گھر سے باہر، گلی میں، اسکول کے میدان میں یا کسی سڑک سے کاغذ کا ایک ٹکڑا یا کوئی خالی ریپر اس کے سامنے اٹھالیں اور کہیں ’’ دیکھو، کسی نے کاغذ کا ٹکڑا پھینک دیا تھا، کتنا برا لگ رہا تھا، اسی طرح ہمارا ملک گندا ہوتا ہے۔ اگر ہم اسے گندا نہیں بھی کر رہے تو اس کی صفائی میں اپنا حصہ ڈال دیتے ہیں !‘‘ کسی پھل کا چھلکا گرا ہو تو وہ اٹھائیں اور کہیں، ’’ میں اسے اٹھا دیتا ہوں، کہیں کوئی اس سے پھسل کر نہ گر جائے۔ اگر میں کسی کو گرا نہیں رہا تو گرنے سے بچا تو رہا ہوں نا!!‘‘ کوئی پتھر پڑا نظر آئے تو اسے بھی یہی کہہ کر ہٹائیں کہ اس سے کسی کو کوئی حادثہ نہ پیش آئے۔ جب بھی ایسا کوئی عمل کسی بچے کے سامنے کریں تو اسے بول کر بتائیں کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ اگر چہ آپ کا خاموش عمل بھی اسے سکھاتا ہے مگر جب آپ اسے بول کر بتاتے ہیں، بالخصوص چھوٹی عمر کے بچوں کوتو انھیں اس کی وجہ کا بھی علم ہوتا ہے اور وہ بہتر جان سکتے ہیں۔

اس ملک میں کوئی بھی حکومت کامیاب نہیں کہلائی جا سکتی جب ہم اپنی ہی کوتاہیوں اور غلطیوں کے لیے اسے ذمے دار ٹھہرائیں اور اس کے ساتھ ملک کی ترقی اور خوش حالی کے لیے تعاون نہ کریں ۔ بہتر پاکستان کے لیے بہتر رویہ اپنائیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔