سمندر میں گندگی سے سینکڑوں مچھلیاں ہلاک، کلفٹن کے ساحل پر آگئیں

اسٹاف رپورٹر  اتوار 18 اگست 2019
کلفٹن کے ساحل پر حالیہ بارشوں سے سمندر میں پھیلنے والی گندگی سے مچھلیاں ہلاک ہوئیں، ماہرین ۔ فوٹو : ایکسپریس

کلفٹن کے ساحل پر حالیہ بارشوں سے سمندر میں پھیلنے والی گندگی سے مچھلیاں ہلاک ہوئیں، ماہرین ۔ فوٹو : ایکسپریس

 کراچی: کلفٹن کے ساحل پر حالیہ بارشوں سے سمندر میں پھیلنے والی گندگی کے باعث آکسیجن کی کمی کے سبب سینکڑوں مچھلیاں ہلاک ہوگئیں جو لہروں کے ساتھ بہہ کر ساحل پر آگئیں۔

سمندر نے بڑی تعداد میں مردہ مچھلیاں اُگل دیں جو اتوار کی صبح کلفٹن کے ساحل پر دکھائی دیں اورتھوڑے تھوڑے فاصلے پر مردہ حالت میں موجود مچھلیاں تفریح کے لیے آنے والوں کے لیے بھی حیرت کا باعث بنی رہیں۔

اس بارے میں ایک قیاس یہ بھی تھا کہ کوئی لانچ ان مچھلیوں کو پھینک کر گئی ہے کیوں کہ چند سال قبل ساحل سمندر پر اس نوعیت کا واقعہ بھی مشاہدے میں آیا ہے اور اکثر جولائی تا ستمبر میں سمندری لہروں کی بلندی میں اضافے جب کہ مون سون کی بارشوں کے بعد بھی مردہ مچھلیوں کی ساحل پر موجودگی رپورٹ ہوچکی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر معظم علی خان کے مطابق بارش کے بعد آبی حیات کا بڑی تعداد میں متاثر ہونا انوکھی بات نہیں ہے، بارشوں میں ندی نالوں کا گندا پانی بڑی مقدار میں سمندر میں گرتا ہے۔

معظم علی خان نے کہا کہ گندا پانی اپنے ساتھ نامیاتی پانی ساتھ لیکر جاتا ہے، گندا پانی جہاں تک سمندر کو متاثر کرتا ہے وہاں آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے اور آکسیجن کی کمی کے سبب سمندری حیات متاثر ہوتی ہے، کلفٹن کے ساحل پر مردہ آنے والی مچھلیاں بوئی کہلاتی ہیں جو عموماً کنارے کے قریب پائی جاتی ہیں، کنارے کے قریب رہنے کی وجہ سے مچھلیوں کی یہ قسم زیادہ متاثر ہوتی ہے، ماضی میں بھی بارشوں کے بعد سینکڑوں مردہ مچھلیاں کنارے پر آتی رہی ہیں، اس بار تعداد پہلے کے مقابلے میں قدرے کم ہے۔

ترجمان کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے مطابق ساحل پر مردہ مچھلیوں سے متاثرہ مقامات کی صفائی کا کام اتوار کی صبح ہی شروع کردیا گیا تھا جس کے دوران نشان پاکستان اور بیچ ویو پارک کے سامنے موجود سمندری پٹی کو کلیئر کردیا گیا ہے۔

ترجمان سی بی سی کے مطابق صفائی کا کام بھاری مشینری کے استعمال سے کیا جارہا ہے جب کہ اتوار کی شام کو مزید مردہ مچھلیاں لہروں کے ساتھ بہہ کر آگئی، جس کے سبب ساحل کی صفائی کا کام روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔