ملک بھرمیں منفردکھانوں تک رسائی کیلیے سوشل میڈیا اہم ہتھیار

آصف محمود  پير 19 اگست 2019
متعددخواتین اورمردکھانوں کی تیاری میں مصروف ،بڑے ہوٹل اونچی دکان پھیکاپکوان کے مترادف
فوٹو: فائل

متعددخواتین اورمردکھانوں کی تیاری میں مصروف ،بڑے ہوٹل اونچی دکان پھیکاپکوان کے مترادف فوٹو: فائل

 لاہور: لاہورجیسے بڑے شہرمیں اعلی معیارکے مزیداراورمنفردکھانے کس علاقے میں دستیاب ہیں یہ معلوم کرنا اب زیادہ مشکل نہیں رہا ہے ، فیس بک پرایسے درجنوں گروپ موجود ہیں جو ناصرف لاہوربلکہ پاکستان بھرمیں معیاری ، مزیداراورمنفردکھابوں سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔ گروپ ممبران ملک کے کسی بھی علاقے سے مزیدار اورمعیاری کھاناکھاتے ہیں تواسے گروپ میں شیئرکرتے ہیں جس سے باقی گروپ ممبران تک بھی معلومات پہنچ جاتی ہیں۔

فیس بک پرا س وقت مزیدار،چٹ پٹے اورمعیاری کھانوں کے متعلق معلومات اورتجربات شیئرکرنے والا ایک بڑا گروپ فوڈیزآر اس کے نام سے ہے ، یہ گروپ میں 2013 میں بنایاگیا اوراس وقت اس کے ممبران کی تعداد 94 ہزار332 ہے۔ گروپ کے ایڈمن اسد شیخ ہیں فوڈیزآراس کے علاوہ فوڈ ان سائیڈر،پاک فوڈلورز، فوڈفیسٹا، فوڈنیشن، فوڈیز کونسل، فوڈنیٹ ورک اوردی فوڈرینجرزسمیت متعدد گروپ موجود ہیں،ایک گروپ کی ممبرعائشہ بھٹی نے بتایا کہ انھیں مزیدار اورچٹ پٹے کھانوں کا بہت شوق ہے۔

ممبررانا آفتاب کہتے ہیں کہ بڑے ہوٹلوں کی مثال اونچی دکان پھیکا پکوان جیسی ہے ، دروغہ والا میں دیسی گھی کے تڑکے کے ساتھ دال ملتی ہیں،گلبرگ کے ایک پلازا کی بیسمنٹ میں محمداویس 2سال سے دال چاول، دال ، سبزی ،توے کی روٹی اورچکن قورمہ بیچ رہاہے۔ماڈل ٹاؤن لاہورکے علاقے میں ایک خاتون گھرمیں کھاناتیارکرکے مختلف دفاترمیں کام کرنیوالوں تک پہنچاتی ہیں۔ خاتون رابعہ احمدنے بتایا کہ ان کے خاوندفوت ہوچکے ہیں ، وہ معاشی حالات کی وجہ سے کافی پریشان تھیں۔فیس بک پیجزپرکھانوں سے متعلق معلومات فراہم کرنیوالوں بارے جب پنجاب فوڈاتھارٹی سے رابطہ کیاگیا توڈی جی پنجاب فوڈاتھارٹی محمدعثمان نے بتایا کہ کئی فوڈگروپ میں فوڈاتھارٹی بھی بطورممبرشامل ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔