ٹیبل اسٹوریز اور فرض شناسی

راضیہ سید  جمعـء 23 اگست 2019
من گھڑت ٹیبل اسٹوریز میں لوگ بہت آسانی سے سچ اور جھوٹ کا پتہ لگا لیتے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

من گھڑت ٹیبل اسٹوریز میں لوگ بہت آسانی سے سچ اور جھوٹ کا پتہ لگا لیتے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایڈیٹر صاحب نے عینک ناک پر ٹکاتے ہوئے نہایت ہی نرم الفاظ میں سرزنش کی ’’محترم بات یہ ہے کہ سرگودھا کے حادثے میں تو پانچ بندے جل کر خاکستر ہوئے، آپ نے ان کی تعداد پندرہ لکھ دی. اب یہ تو مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو یہ نادر مشورہ کس نے دیا؟ شاید آپ کا تعلق بھی ایسے افراد سے ہے جو آبادی کو کم سے کم رکھنے کےلیے عملی طور پر تو کچھ نہیں کرتے، ہاں البتہ کوشش یہ ہی ہوتی ہے کہ حادثاتی طور پر ایسا ہوجائے۔‘‘

’’سر اصل میں ایسا نہیں ہے، مجھے سر حمید نے کہا تھا کہ جس طرح آتش زدگی ہوئی ہے، اس حساب سے کم ازکم پندرہ بندے تو مر ہی جائیں گے۔ اس لیے میں نے ایسا لکھ دیا۔‘‘ ایاز صاحب منمنائے۔

اپنی باری پر ایڈیٹر صاحب یوں بولے ’’دیکھو بیٹا بات یہ ہے کہ صحافت کا پہلا اصول جو سمجھ میں نہ آئے اسے یا تو کسی سے پوچھ لو یا اگر پھر بھی مشکل حل نہ ہو تو اسے چھوڑ دو۔ کیونکہ جو چیز آپ کو خود سمجھ میں نہیں آرہی، کسی دوسرے سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ بھی اسے سمجھ لے گا۔ ابھی آپ جوان ہیں محنت کی عادت ڈالیے۔ حمید صاحب اپنی عمر گزار چکے ہیں اور اپنے عہدے کی بنا پر باآسانی کسی بھی انکوائری کا سامنا بھی کرسکتے ہیں، لیکن آپ نہیں۔ اس لیے سوچ سمجھ کر چلیے۔‘‘

اس سارے واقعے میں ایڈیٹر صاحب بے حد نرم دل ثابت ہوئے، ورنہ کئی ایسے کم ظرف افراد بھی ہوتے ہیں جنہیں اپنی نام نہاد علمیت پر بے حد غرور بھی ہوتا ہے اور وہ نہایت آسانی سے یک جنبش قلم آپ کو نوکری سے برخاست بھی کرسکتے ہیں۔

دیکھا جائے تو اخباری دفاتر اور ٹی وی چینلز میں یہ صورتحال معمول کا ایک حصہ ہے۔ جہاں کئی افراد کام نہیں کرتے، تساہل کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے سے جونیئرز کو بھی یہی درس دیتے ہیں۔ نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑا بھی نشریاتی یا اشاعتی ادارہ ہو اس پر سوالیہ نشان اٹھنے لگتے ہیں۔

کسی بھی جگہ بیٹھ کر صورتحال پر تبصرہ کرنا بہت آسان ہے، لیکن زمینی حقائق کا سامنا کرنا اتنا ہی دشوار ہے۔ ایک شخص اگر سیلاب کی رپورٹنگ کررہا ہے تو ظاہر ہے کہ اسے احتیاطی تدابیر کے ساتھ وہاں یہ مناظر دکھانے بھی چاہئیں اور ان پر بات بھی کرنی چاہیے۔ لیکن اگر کوئی بارش کے بعد میدان میں آئے اور کہے کہ جانب ابھی یہاں بہت تیز بارش ہوئی، کاروبار زندگی متاثر ہوگیا اور لوگ پریشان ہیں تو یہ بات بہت مضحکہ خیز ہے۔

میں نے کئی ایسے سینئر افراد کو دیکھا جنہوں نے وہیں آفس میں خبر دی کہ فلاں جگہ یہ حادثہ ہوگیا ہے اور اندازہ یہ ہے کہ یہ ہوا ہے۔ جبکہ حقیقت کچھ اور تھی۔ ایسے حضرات خواہ وہ جونیئرز یا سینئر، ان کا طرز عمل نہایت ہی نامناسب ہے۔

ایک طرف موجودہ دور سوشل میڈیا کا ہے، جہاں افواہیں ہر جگہ ہر کسی کا ناک میں دم کئے رکھتی ہیں۔ جہاں ایک کتاب بھی نہ پڑھنے والے افراد فلسفی بنے ہوئے ہیں اور جہاں دن رات آپ جو چاہے کسی کے بھی بارے میں لکھ سکتے ہیں، ایک عزت دار شخص کی عزت کی دھجیاں اڑا سکتے ہیں اور کسی بھی بے توقیر انسان کو آسمان پر پہنچاسکتے ہیں، وہیں کئی زیرک افراد ایسے بھی ہیں جنہیں منطق، استدلال اور حقائق کی تلاش ہے۔

جی بالکل اور یہاں آکر ساری ٹیبل اسٹوریز فیل ہوجاتی ہیں۔ لوگ بہت آسانی سے سچ اور جھوٹ کا پتہ لگا لیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کام کرنے والے غیر ملکی ادارے بھی ان خبروں کو شائع کرتے اور نشر کرتے ہیں اور سلام ہے ہمارے کئی بہت اچھے ایڈیٹرز کو جو نامساعد حالات میں بھی اپنی ذمے داریاں بخوبی نبھاتے ہیں اور ان کی نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی اخبارات کی خبروں پر بھی نظر ہوتی ہے۔

بات صرف یہ نہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ ٹیبل اسٹوری سے فرق نہیں پڑتا، کیونکہ فالو اپ تو ہوتا رہتا ہے، جس سے سچ جھوٹ کا پتہ چلتا ہے۔ زیادہ نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کا اعتماد ختم ہونے لگتا ہے۔ غلط خبروں سے کسی بھی افواہ کو آسانی سے جنم دے کر پروپیگنڈا کرکے کسی بھی قوم کو تباہی کے دہانے پر لایا جاسکتا ہے۔ وہاں نوجوانوں کو مشتعل کیا جاسکتا ہے اور کسی بھی غلط کام پر اکسایا جاسکتا ہے۔

جہاں حقائق چھپانا نقصان دہ ہے، وہیں شتر بے مہار معاشرہ بھی ضرر رساں ہے۔ اس لیے خصوصاً دور حاضر میں ضروری ہے کہ ان ٹیبل اسٹوریز رائٹرز کو یا تو درست ہونے کو کہا جائے یا پھر گھر جانے کےلیے۔ فیصلہ انہی رائٹرز پر چھوڑتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

راضیہ سید

راضیہ سید

بلاگر نے جامعہ پنجاب کے شعبہ سیاسیات سے ایم اے کیا ہوا ہے اور گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت سے بطور پروڈیوسر، رپورٹر اور محقق وابستہ ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔