مصنوعی ذہانت کے لیے 1,200 ارب ٹرانسسٹرز والی ’’سپر چپ‘‘ بنالی گئی

ویب ڈیسک  منگل 20 اگست 2019
امید ہے کہ اس چپ کی بدولت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک نیا انقلاب آئے گا۔ (فوٹو: سیریبراز)

امید ہے کہ اس چپ کی بدولت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک نیا انقلاب آئے گا۔ (فوٹو: سیریبراز)

کیلیفورنیا: سلیکان ویلی کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی ’’سیریبراز‘‘ نے بطورِ خاص مصنوعی ذہانت کے شعبے میں استعمال کےلیے بڑی مائیکرو چپ تیار کرلی ہے جس پر 1.2 ٹریلین (1200 ارب) ٹرانسسٹرز موجود ہیں۔ تقریباً 8.5 مربع انچ رقبے کے ساتھ، یہ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میں استعمال ہونے والے مائیکرو پروسیسر کے مقابلے میں 56 گنا بڑی ہے۔

اس کے ہر ایک مربع انچ پر تقریباً 17 ارب ٹرانسسٹرز نصب ہیں۔ اگرچہ اسے ’’سپر چپ‘‘ کہا جارہا ہے لیکن اس کا اصل نام ’’ویفر اسکیل انجن‘‘ (ڈبلیو ایس ای) رکھا گیا ہے۔ سیریبراز کے مطابق، اس چپ پر مصنوعی ذہانت سے متعلق امور کی انجام دہی کےلیے 4 لاکھ پروسیسر یونٹس (کورز) بھی موجود ہیں۔ اس کی تیاری میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے ’’ویفر اسکیل انٹیگریشن‘‘ کہا جاتا ہے جس کی بدولت اتنی بڑی جسامت والی کمپیوٹر چپس تیار کرنا ممکن ہوا ہے ورنہ ماضی میں اتنی بڑی چپس کی تیاری ممکن نہیں تھی۔

اس چپ کی تیاری میں ایک طرف بڑی جسامت کا ہدف حاصل کیا گیا ہے تو دوسری جانب بجلی کے استعمال میں کفایت اور کمپیوٹنگ پاور سے وابستہ اہم مسائل بھی حل کیے گئے ہیں۔ اس چپ کو 15 کلوواٹ توانائی درکار ہوتی ہے، لہذا اسے ٹھنڈا رکھنے کےلیے پانی کی باریک نالیوں پر مشتمل ایک پیچیدہ نظام ترتیب دیا گیا ہے جو سیکنڈ بھر میں اس کی اضافی حرارت کو نکال باہر کرتا ہے۔

’’ڈبلیو ایس ای‘‘ میں 18 گیگا بائٹس کی آن چپ میموری ہے جو اس کی مدمقابل چپس سے 3000 گنا زیادہ ہے؛ جبکہ 9 پی-ٹا بائٹس (90 لاکھ گیگا بائٹس) فی سیکنڈ میموری بینڈ وڈتھ کے ساتھ یہ اپنے قریب ترین مدمقابل سے دس ہزار گنا زیادہ کارکردگی کی حامل ہے۔

واضح رہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی کی رفتار تیز تر کرنے کے لیے غیر معمولی پروسیسنگ پاور والے پروسیسرز کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے۔ ’’سیریبراز‘‘ کی اس کامیابی سے امید ہو چلی ہے کہ اسے استعمال کرتے ہوئے، کمپیوٹروں کو جلد ہی وہ کام کرنے کے قابل بھی بنایا جاسکے گا جو فی الحال ان کےلیے ناممکن تصور کیے جاتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔