سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک ویڈیو کیس کا فیصلہ سنادیا

ویب ڈیسک  جمعـء 23 اگست 2019
ہائیکورٹ وڈیو کا معاملہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا سکتی ہے، سپریم کورٹ فوٹو:فائل

ہائیکورٹ وڈیو کا معاملہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا سکتی ہے، سپریم کورٹ فوٹو:فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا تین روز قبل محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک  ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت کی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ کیس میں پانچ ایشو سامنے آئے۔ پہلا یہ تھا کہ کونسا فورم ویڈیو پر فیصلہ دے سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ویڈیو کو اصل کیسے جانا جائے۔ تیسرا معاملہ یہ تھا کہ اگر ویڈیو اصل ہے تو عدالت میں کیسے ثابت کیا جا سکے گا، چوتھا پہلو یہ تھا کہ ویڈیو اصل ثابت ہونے پر نواز شریف کی سزا پر کیا اثر ہو سکتا ہے، جب کہ پانچواں معاملہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے کنڈکٹ سے متعلق تھا، ہم نے تمام ایشوز پر فیصلہ سنایا ہے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اس مرحلے پر ہمارا مداخلت کرنا مناسب نہیں ہوگا، ایک اپیل ہائیکورٹ میں زیر التواء ہے تو ہماری مداخلت ٹھیک نہیں، ایف آئی اے میں بھی معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، وڈیو درست ثابت ہونے پر ہائیکورٹ خود معاملے کا جائزہ لے سکتی ہے اور وڈیو کا معاملہ ٹرائل کورٹ کو بھی بھجوا سکتی ہے، ہائیکورٹ فریقین کی درخواست پر اضافی شواہد کا جائزہ لینے کی مجاز ہے تاہم ہائیکورٹ کو اضافی شواہد قبول کرنے کی وجوہات بتانا ہوں گی۔

سپریم کورٹ نے وڈیو اسکینڈل کیس میں کمیشن بنانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو کی تحقیقات متعلقہ ایجنسیوں کا اختیار ہے، اگر حکومتی کمیشن بنتا بھی ہے تو اس کی فائنڈنگ محض ایک رائے ہوگی جس کا ہائیکورٹ میں زیر التواء مقدمے سے کوئی تعلق نہیں،عدالتی یا حکومتی کمیشن کی رائے کا بھی نواز شریف کو فائدہ نہیں ہو سکتا، اگر متعلقہ ویڈیو جج ارشد ملک کا تعصب ثابت کرنے لیے ہائیکورٹ میں پیش کی جائے، تو ہائیکورٹ میں پیش کرنے اور ویڈیو کی اصلیت ثابت کرنے سے نواز شریف کو فائدہ ہوگا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جج ارشد ملک کے مطابق ویڈیو کو توڑ مروڑکر پیش کیا گیا، ویڈیو کی تصدیق فرانزک تحقیقات سے ہو سکتی ہے، فوجداری مقدمہ میں شک و شبہ سے بالاتر شواہد کا ہونا ضروری ہے، ویڈیو کی ساکھ کے حوالے سے کسی بھی قسم کا شک و شبہ اسے مسترد کر دیتا ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جج ارشد ملک کی پریس ریلیزاور بیان حلفی ان کیخلاف فرد جرم ہے اور ان کا کردار پوری عدلیہ پراثراندازہورہا ہے، انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کا ماضی مشکوک ہے جس کی وجہ سے وہ بلیک میل ہوئے، انہوں نے دھمکیوں اور رشوت کی پیش کش کے باوجود نواز شریف کے کیس کی سماعت سے معذرت نہیں کی،

سزادینے کے بعد جج ارشدملک نے ملزم سے اس کے گھرمیں ملاقات کی، وہ مقدمے کے بعد ملزمان کے بیٹے اور ہمدردوں کے ساتھ بھی ملتے رہے، انہوں نے مجرم کو اپنے ہی فیصلے کے کمزور نکات بتائے، انہوں نے رشوت کی پیشکشوں اور دھمکانے کی شکایت سینئر اتھارٹی سے نہیں کی، ان کا طرزعمل حیران کن ہے، ان کے کردار نے ہزاروں ایماندار ججز کے سر شرم سے جھکا دیئے، ہمیں امید ہے کہ جج ارشدملک کیخلاف لاہور ہائیکورٹ انظباطی کارروائی کریگی۔

سپریم کورٹ میں تین شہریوں اشتیاق مرزا، سہیل اختر اور طارق اسد نے جج ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کی درخواستیں دائر کی تھیں۔

 پس منظر

مسلم لیگ (ن)کی رہنما مریم نواز نے ایک  پریس کانفرنس کے دوران احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں وہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ انہیں بلیک میل کرکے اور دباؤ ڈال کر نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا دینے پر مجبور کیا گیا تھا، وگرنہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا۔ تاہم ارشد ملک نے ایک روز بعد پریس ریلیز جاری کرکے مریم نواز کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ویڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 24 دسمبر کو احتساب عدالت نے نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔