عالمی امن کو پریانکا چوپڑا کی نہیں مہوش حیات کی ضرورت ہے

زنیرہ ضیاء  ہفتہ 24 اگست 2019
عالمی امن کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھانے کی دعویدار منافق پریانکا چوپڑا دنیا میں ایٹمی جنگ کی حمایت کررہی ہیں

عالمی امن کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھانے کی دعویدار منافق پریانکا چوپڑا دنیا میں ایٹمی جنگ کی حمایت کررہی ہیں

مجھے بچپن ہی سے بالی ووڈ فلمیں دیکھنے کا بڑا شوق ہے۔ ٹی وی پر جب بالی ووڈ اداکارائیں رنگ برنگے کپڑے پہنے تھرکتی تھیں تو میری آنکھیں ٹی وی پر سے ہٹتی نہیں تھیں اور میں دل ہی دل میں ان اداکاراؤں کی جگہ خود کو تصور کرتی تھی۔ (مجھے یقین ہے میری طرح آپ میں سے کئی لڑکیوں اور خواتین نے بچپن میں ہیروئن بننے کے خواب دیکھے ہوں گے۔) اور سچ پوچھیے تو مجھے یہ سب سوچ کر بڑا مزہ آتا تھا۔ تھوڑی بڑی ہوئی تو پسند کا معیار بدلنے لگا اور ناچتی ٹھمکتی اداکاراؤں کی جگہ فلم میں مضبوط کردار ادا کرنے والی ہیروئنوں نے لے لی۔ مجھے بالی ووڈ کی ہر ہیروئن پسند ہے چاہے وہ سری دیوی ہو، مادھوری ڈکشٹ ہو، کرشمہ کپور ہو، کترینہ کیف ہو یا کرینہ کپور۔ میں  بچپن سے ہر ہیروئن کی فلم، ٹی وی سے نظریں ہٹائے بغیر ٹکٹکی باندھے دیکھتی ہوں؛ لیکن مجھے بالی ووڈ کی جس اداکارہ نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ پریانکا چوپڑا تھی۔

گو کہ مجھے بچپن سے فلم میں رنگین ساڑھیاں پہن کر ہیرو کے ساتھ پارک میں ڈانس کے نام پر اچھل اچھل کر بے ہنگم حرکتیں کرنے والی اداکارائیں بے حد پسند ہیں؛ لیکن پریانکا کی فلمیں دیکھ کر جیسے میں کھو سی جاتی تھی۔ چاہے فلم ’’فیشن‘‘ ہو، ’’ڈان2‘‘ ہو، ’’اعتراض‘‘ ہو یا ’’باجی راؤ مستانی،‘‘ مجھے پریانکا کی ہر فلم پسند ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ پریانکا نے بہت کم ایسی فلموں میں کام کیا ہے جن میں وہ مظلوم خاتون کے روپ میں نظر آئی ہیں۔ اس کے برعکس پریانکا کے زیادہ تر کردار مضبوط خواتین کے گھرد گھومتے ہیں، جن میں وہ ہیرو کے ساتھ صرف شوپیس بن کر فلم میں نظر نہیں آتیں بلکہ فلم کی کہانی پریانکا کے کردار کے گرد گھومتی ہے۔ مجھے پریانکا چوپڑا فلموں میں اداکاری کرتی ہوئی تو اچھی لگتی ہیں لیکن  مجھے ان کی جس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کا انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور ان کی انسانیت سے محبت تھی۔

میں سوچتی تھی کہ پریانکا چوپڑا کتنی نیک دل عورت ہیں جو فلموں میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں امن و آشتی کےلیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے ساتھ مل کر غریب بچوں کی فلاح و بہبود کےلیے کام کررہی ہیں، اور اس مقصد کے حصول کےلیے کبھی وہ روہنگیا کے مظلوم اور غریب مسلمان مہاجرین کی خدمت کرنے کےلیے بنگلہ دیش پہنچی ہوتی ہیں تو کبھی اردن میں موجود مسلمان شامی مہاجرین کی آواز بن کر دنیا کو جھنجھوڑتی اور دنیا کی توجہ ان بے سہارا لوگوں کی طرف مبذول کراتی نظر آتی ہیں۔

میں نےسوشل میڈیا کے تقریباً ہر اکاؤنٹ پر پریانکا کو فالو کیا ہوا ہے اور جب وہ ان غریب مسلمان مہاجرین خواتین کے ساتھ گھل مل کر اُن کے بچوں کو گود میں اٹھائے تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتیں، تو یقین جانیے ان کی رنگ، نسل، مذہب، ذات پات اور فرقہ سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت کے جذبے کو دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آجاتے اورمجھے میری پسند پر اور بھی فخر ہونے لگتا۔

مجھے ٹی وی اسکرین پر مختصر کپڑے پہنے ناچتی ٹھمکتی ہوئی پریانکا چوپڑا تو بہت اچھی لگتی تھی اور دل میں پریانکا کی طرح سجنے سنورنے اور بننے کی چور سی خواہش بھی دبی ہوئی تھی، لیکن میرا دوغلا پن دیکھیے کہ جب میں  یہی کام پاکستانی اداکاراؤں کو کرتے ہوئے دیکھتی تو مجھے فوراً ہمارا مذہب اور کلچر یاد آجاتا تھا اور میں پاکستانی اداکاراؤں کو اسکرین پر ٹھمکے لگاتے دیکھ کر برا سامنہ بناکر سوچتی کہ کیا انہوں نے لاج شرم بیچ کھائی ہے؟ کیا یہی سکھایا ہے ہمارے دین اور مذہب نے کہ ہماری پاکستانی اداکارائیں چھوٹے چھوٹے کپڑے پہن کر ناچتی پھریں؟

فلم ’’نامعلوم افراد‘‘ میں آئٹم نمبر’’بلی‘‘ دیکھ کر مجھے مہوش حیات سے خدا واسطے کا بیر ہوگیا۔ غضب خدا کا! ایک پاکستانی لڑکی ساری شرم و حیا کو ایک طرف رکھ کر ٹھمک ٹھمک کر کیسے کہہ سکتی  ہے’’گٹکا میں ہوں چبالے، مجھے کہتے ہیں بلی۔‘‘  اس گانے میں مہوش حیات کو اتنے ڈھیر سارے مردوں کے بیچ ناچتے دیکھ کر میرا مذہبی جذبہ جوش مار کر اٹھا اور میں نے دل ہی دل میں مہوش حیات سے خود ساختہ دشمنی مول لے لی۔

’’بلی‘‘ کے بعد مہوش نے لاکھ اچھا کام کیا لیکن میں نے اس کی فلمیں نہ دیکھنے کی جیسے قسم کھالی تھی۔ اور جب حکومت پاکستان نے مہوش حیات کو تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا تو جیسے میری ایڑی میں لگی اور کھوپڑی پر بجھی۔ میں اپنے گھر میں جلے پیر کی بلی کی طرح چکراتی پھر رہی تھی؛ غصے کے مارے میرے منہ سے جھاگ نکل رہے تھے۔ میں غصے میں اتنی اندھی ہو گئی تھی کہ اپنی حکومت کو خوب کھری کھوٹی سنانے کا دل چاہ رہا تھا کہ آخر حکومت کو کیا ہوگیا جو مہوش حیات کو تمغہ امتیاز سے نواز رہی ہے۔

اور پھر اچانک پلوامہ واقعہ ہوا جس کے بعد  بھارت اور پاکستان کے درمیان حالات اتنے کشیدہ ہوگئے کہ نوبت جنگ تک آپہنچی۔ میں دل ہی دل میں گھبرا رہی تھی کہ اگر جنگ ہوگئی تو دونوں جانب کے معصوم لوگوں کا کیا ہوگا؛ دو طاقتوروں کے درمیان ہم کمزور لوگ گیہوں کے ساتھ گُھن کی طرح پس جائیں گے۔ لیکن میری آنکھوں پر اب بھی پریانکا کی محبت کی پٹی بندھی ہوئی تھی اور مجھے  یقین تھا کہ دنیا میں پریانکا چوپڑا کی طرح انسانیت سے محبت کرنے والے لوگ موجود ہیں، جن کی آواز پوری دنیا میں سنی جاتی ہے۔  یہ لوگ جنگ کی بالکل حمایت نہیں کریں گے اور دنیا کی دو ایٹمی طاقتوں کو روکنے کےلیے اپنی جان لڑادیں گے۔ لیکن میرا یقین اس وقت چکناچور ہوگیا جب میں نے انسانیت سے محبت کرنے والی، امن  کی سفیر، پریانکا چوپڑا کو جنگ کی حمایت کرتے دیکھا۔

میری آئیڈیل پریانکا چوپڑا نے پاکستان پر حملہ کرنے پر نہ صرف بھارتی فوج کو سراہا بلکہ خوب داد بھی دی۔ یہ سب دیکھ کر میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور یہیں سے میرے دل میں بنی پریانکا کی مورتی ٹوٹ گئی، جسے میں ہر روز دیکھتی تھی اور اس مورتی کی طرح بننے کی خواہش کرتی تھی۔ پھر چند روز قبل پیش آنے والے واقعے نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی جب میں نے دنیا میں امن پھیلانے کا ڈھونگ رچانے والی اور خود کو  خواتین کی طاقت کی علامت کہنے والی دوغلی پریانکا چوپڑا کا ایک الگ ہی روپ دیکھا۔ چند روز قبل لاس اینجلس میں عائشہ نامی پاکستانی لڑکی نے جنگ کی حمایت کرنے پر پریانکا سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ چاہتی ہیں؟ جس کے جواب میں پریانکا نے امن و انسانیت کا چولا اتار کر پھینکتے ہوئے اپنا اصلی روپ دکھایا اور عائشہ کو خاموش کرادیا جب کہ اظہار رائے کی آزادی کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اس سے مائیک بھی چھین لیا گیا۔

جب عالمی امن کی ذمے داری اپنے کندھوں پر اٹھانے کی دعویدار، منافق پریانکا چوپڑا دنیا میں ایٹمی جنگ کی حمایت کررہی تھی اور پاکستانیوں کو خاموش کرایا جارہا تھا، اس وقت مہوش حیات کی آواز دنیا میں گونجی اور اس نے دنیا کو پاکستان اور پاکستانیوں کے اصل چہرے سے روشناس کرایا؛ جو محبت اور امن کا چہرہ ہے۔ مہوش حیات جسے میں آئٹم نمبر کرنے پر سخت ناپسند کرتی تھی، اس نے بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز میں جاکر دنیا کو بتایا کہ پاکستان دہشت گرد ملک نہیں، پاکستان جنگ کا حامی نہیں؛ بلکہ پاکستانی تو نہایت محبت کرنے والی قوم ہے جو غیر ملکیوں کا اپنے ملک میں ایسے استقبال کرتی ہے جیسے دور کا کوئی رشتے دار برسوں بعد ملنے آیا ہو۔ پاکستان کی خواتین مظلوم نہیں بلکہ خود مختار اور طاقتور ہیں اور یہ خود مختاری ہمیں ہمارے گھر کے مَردوں اور ہماری حکومت نے دی ہے۔

مہوش حیات نے پریانکا چوپڑا کو انتہائی خوبصورت جواب دیتے ہوئے کہا ’’فلم انڈسٹری پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ سنیما ایک طاقتور آلہ ہے جو لوگوں کا نظریہ، ذہن اور رویہ بدلنے کی طاقت رکھتا ہے اور اس کا استعمال سمجھداری سے کیا جانا چاہیے۔ فلموں میں کسی بھی ملک کو منفی انداز میں پیش کرنے کے بجائے اس کے اچھے پہلوؤں اور خوبیوں کو بھی پیش کیا جانا چاہیے۔‘‘ مہوش کا یہ جملہ بہت گہرا ہے کہ قوم پرستی اور پرامن مستقبل میں زیادہ کیا اہم ہے؟

مہوش حیات نے دنیا کے ہر بڑے پلیٹ فارم پر جاکر پاکستان کا حقیقی اور روشن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا اور صحیح معنوں میں امن کی سفیر ہونے کا حق ادا کیا۔ مہوش حیات نے وہ کر دکھایا جو پاکستان کی تاریخ میں آج تک کوئی فنکار نہ کرسکا۔ میں ماہرہ خان کی مخالف نہیں ہوں بلکہ مجھے ماہرہ بے حد پسند ہے اور اسے دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع بھی ملا۔ لیکن ماہرہ پاکستان کا دفاع نہ کرسکیں، جب کہ مہوش حیات نے بے خوف اور نڈر خاتون کی طرح پاکستان اور پاکستانیوں کا مؤقف دنیا کے سامنے پیش کیا اور مجھ سمیت ان تمام لوگوں کی آنکھوں پر چڑھی بالی ووڈ کی پٹی اتار کر ثابت کردیا کہ مہوش حیات ہی تمغہ امتیاز کی صحیح حقدار اور پاکستان کے چوتھے بڑے سول اعزاز کے لائق تھیں۔

عالمی امن کو دوغلی اور نسل پرست پریانکا چوپڑا کی نہیں بلکہ مثبت سوچ رکھنے والی اور خواتین کی حقیقی نمائندہ مہوش حیات کی ضرورت ہے۔

زنیرہ ضیاء

زنیرہ ضیاء

بلاگر شوبز تجزیہ نگار ہیں اور ایکسپریس اردو ویب میں بطور ویب ایسوسی ایٹ پروڈیوسر اپنی ذمہ داریاں نباہ رہی ہیں۔ ان سے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ انہیں ٹوئٹر ہینڈل @ZunairaGhori پر فالو کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔