سری لنکن ٹیم ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کے لیے تیار

عبد العزیز  اتوار 25 اگست 2019
انٹرنیشنل کرکٹ کی مکمل بحالی کے لیے راستے کھلنے لگے۔ فوٹو: فائل

انٹرنیشنل کرکٹ کی مکمل بحالی کے لیے راستے کھلنے لگے۔ فوٹو: فائل

پی سی بی کی ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ واپسی لانے کی کوششیں رنگ لانے لگیں ہیں، شائقین کے لیے اچھی خبر ہے کہ اکتوبراور نومبر میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلیے سری لنکا نے پاکستان کا مہمان بننے پر آمادگی ظاہر کردی۔

پی سی بی نے اور ایس ایل سی نے آئی لینڈرز سے ہوم سیریز کا شیڈول بھی جاری کردیا، جس کے مطابق مہمان ٹیم 25ستمبر کوکراچی آمد کے بعد 3ایک روزہ میچز کھیلے گی، 3 ٹی ٹوئنٹی مقابلے 5 سے 9 اکتوبر تک لاہور میں ہوں گے، سری لنکن ٹیم کی واپسی 10 اکتوبر کو طے ہے، آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے دونوں میچز دسمبر میں ہوں گے، ممکنہ طور پر یواے ای میزبانی کرے گا، البتہ پاکستان بدستور طویل فارمیٹ کے لیے آئی لینڈرز کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔

ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی مکمل طور پر بحالی کے لیے کوشاں پی سی بی اکتوبر میں سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ میچز کی میزبانی پاکستان میں کرنے کا خواہاں تھا، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی مقابلے یواے ای میں ہونا تھے، انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے سری لنکن بورڈ کا سیکیورٹی وفد بھی پاکستان آیا تھا، مہمانوں نے کراچی اور لاہور کا دورہ کرتے ہوئے مثبت رپورٹ دی لیکن سری لنکن وزیر کھیل ہیرن فرنانڈو نے کولمبو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کردیا کہ ٹیسٹ سیریز یواے ای میں ہی کھیلیں گے، صرف محدود اوورز کی کرکٹ کے لیے ٹیم بھجوا سکتے ہیں۔

اب پاکستان اور سری لنکن بورڈ نے اتفاق رائے کے بعد شیڈول میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی مقابلے 27 ستمبر سے 9 اکتوبر تک پاکستان میں کھیلے جائیں گے، ٹیسٹ میچز دسمبر میں یواے ای میں کرانے کا امکان ہے، البتہ پی سی بی کی کوشش ہے کہ کسی طرح آئی لینڈرزکودورے پر قائل کر لے، تینوں ایک روزہ میچز کی میزبانی کراچی کرے گا جبکہ تینوں ٹی ٹوئنٹی مقابلے لاہور میں ہوں گے، سری لنکن ٹیم 25 ستمبر کو شہرقائد پہنچے گی، پہلا ایک روزہ میچ 27 اور دوسرا 29 ستمبر کو ہوگا، تیسرا میچ 2 اکتوبر کو شیڈول کیا گیا ہے،3 ٹی ٹوئنٹی مقابلے5، 7 اور 9 اکتوبر کو لاہور میں ہوں گے، مہمان ٹیم 10تاریخ کو وطن واپس لوٹ جائے گی۔

شیڈول میں تبدیلی کا فیصلہ چیئرمین پی سی بی اور صدر سری لنکا کرکٹ شامی سلواکے درمیان ہونیو الی ٹیلی فونک گفتگو میں کیاگیا، بورڈ چیئرمین احسان مانی کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ سری لنکا بورڈ سے مذاکرات کے نتیجے میں ہم ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی مکمل بحالی پر خوش ہیں، محدود اوورز کی کرکٹ سیریز میں شرکت کے لیے پاکستان آنے سے سری لنکا کو ٹیسٹ سیریز سے قبل ملک کی مجموعی صورتحال سمجھنے میں مدد ملے گی، میچز کے انعقاد سے پاکستانی شائقین کا انٹرنیشنل کرکٹ سٹارز کو ملک میں کھیلتے دیکھنے کا طویل انتظار ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ گذشتہ 2 برس میںآئی سی سی ورلڈ الیون، سری لنکا کے خلاف ایک ٹی ٹوئنٹی، ویسٹ انڈیز کی مینز اور ویمنز کرکٹ ٹیموں سے ٹی ٹوئنٹی سیریز اور 8 پی ایس ایل میچز کے انعقاد نے دنیا کو پیغام دیاکہ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک پْرامن ملک ہے،میں پی سی بی کی درخواست تسلیم کرنے پر سری لنکا کرکٹ کے صدر شامی سلوا ، دیگر عہدیداروں اور کھلاڑیوں کا مشکور ہوں، چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ پاکستان سری لنکا کرکٹ کی میزبانی کے لیے بے تاب ہے، یہاں آنے والی گذشتہ تمام ٹیموں کی طرح آئی لینڈرز کو بھی محفوظ ماحول فراہم کیا جائیگا۔

دوسری جانب سری لنکا کرکٹ کے صدر شامی سلوا کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ پی سی بی اور سری لنکاکرکٹ کے درمیان دوستانہ تعلقات کا ایک شاندار ماضی ہے، اپنے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی سری لنکا کرکٹ کی ذمہ داری ہے، اگر اس میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو ہم کبھی اس نتیجے پر نہ پہنچتے کہ ٹیم بھجوائی جائے، سری لنکا کرکٹ کے سیکیورٹی وفد نے حال ہی میں لاہور اور کراچی کا دورہ کیا، اس کی مثبت رپورٹ کی روشنی میں ہی ٹیم کو بھجوانے کا فیصلہ کیا۔

یاد رہے کہ 2009میں لاہور ٹیسٹ کے دوران سری لنکن ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کو انتہائی دشوار بنادیا تھا تاہم پی سی بی نے اس کے بعد عالمی کرکٹرز کا اعتماد بحال کرنے کیلیے کئی عملی اقدامات کیے اور اس میں پیش پیش پاکستان سپر لیگ رہی، جس کے کامیاب انعقاد سے بین الاقوامی کرکٹرز کا اعتماد بحال ہوا اور ویسٹ انڈین سٹار ڈیرن سیمی سمیت کئی عالمی سٹارز بے خوف و خطر پاکستان آتے جاتے رہے۔

تاہم اس سے قبل مئی 2015میں زمبابوے کی ٹیم بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی اور قذافی سٹیڈیم میں 3ون ڈے اور 2ٹوئنٹی میچز کھیلے،2017میں پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل لاہور میں ہوا،اسی سال فاف ڈوپلیسی کی قیادت میں ورلڈالیون بھی آئی،سری لنکن ٹیم نے واحد ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا،گذشتہ سال پی ایس ایل کے ایلیمنیٹرز میچ لاہور اور فائنل کراچی میں ہوا، ویسٹ انڈیز کی ٹیم ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے شہرقائد آئی، رواں سال پی ایس ایل کے 8میچز کراچی میں ہوئے۔

پاکستان ، سری لنکا سے شیڈول آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے 2 مقابلوں کی میزبانی بھی کرنے کا خواہاں ہے، پی سی بی کی کوشش ہے کہ یہ مقابلے یواے ای کے بجائے لاہور اور کراچی میں ہوں، سری لنکا نے اپنا سیکیورٹی وفد بھی بھجوایا، مہمانوں نے کراچی اور پھر لاہور میں انتظامات کا جائزہ لیا، مثبت رپورٹ دیے جانے کے بعد امید تھی کہ آئی لینڈرز ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی میں کردار ادا کرنے پر حامی بھرلیں گے، مگر سری لنکا نے اکتوبر میں ہونے والے دونوں ٹیسٹ میچز پاکستان میں کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کے لیے آمد پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

سری لنکن وزیر کھیل ہیرن فرنانڈو نے کولمبو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ہم طویل فارمیٹ کے 2میچز کے لیے ٹیم بھجوانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں،سیریز یواے ای میں کھیلیں گے۔

طویل فارمیٹ کے لیے ٹیم پاکستان نہ بھجوانے کا فیصلہ اس لیے بھی حیران کن ہے کہ رواں سال اپریل میں کولمبو میں بم دھماکوں کے باوجود پاکستان نے اپنے انڈر19 سکواڈ کو وہاںکھیلنے کے لیے بھیجا،ان دنوں نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی سری لنکا میں موجود ہے۔

پاکستان میں ٹیسٹ میچز ہونے سے انٹرنیشنل مکمل طور پر بحال کرنے میں مدد مل سکتی تھی، تاہم بھارت کیساتھ سرحدوں پر کشیدگی اور موجودہ صورتحال میں کوئی بھی ٹیم کسی بھی فارمیٹ کے میچز کھیلنے کے لیے آئے اس کو خوش آمدید کہا جانا چاہیے،پی ایس ایل فائیو کے زیادہ میچز کا پاکستان میں انعقاد بھی انٹرنیشنل کرکٹ کی راہیں کھولنے میں معاون ثابت ہوگا،ملک کے کئی نوجوان کرکٹرز کے کیریئر شروع ہوکر ختم بھی ہوگئے لیکن ان کو ملک میں ایک بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔

طویل فارمیٹ میں پاکستان کی کارکردگی کا گراف نیچے گرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کو ہوم میچز میسر نہیں آئے، بہرحال یہ توقع کرنا چاہیے کہ آنے والے وقتوں میں حالات مزید بہتر اور پاکستان میں تمام فارمیٹ کے میچز کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔