کم عمر مبینہ چور ریحان کے قتل کو پولیس نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا

اسٹاف رپورٹر  اتوار 25 اگست 2019
تفتیشی ٹیم نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ، گرفتار ملزم کے گھر گئی جس سے اہلخانہ خوف میں مبتلا ہوئے، ایس ایس پی ایسٹ۔ فوٹو: فائل

تفتیشی ٹیم نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ، گرفتار ملزم کے گھر گئی جس سے اہلخانہ خوف میں مبتلا ہوئے، ایس ایس پی ایسٹ۔ فوٹو: فائل

کراچی: ایس ایس پی ایسٹ نے بہادر آباد میں تشدد سے کم عمر مبینہ چور ریحان کے قتل سے متعلق درج مقدمے میں اختیارات کا ناجائز استعمال اور مبینہ طور پر رشوت وصولی کی اطلاع پر انویسٹی گیشن ٹیم کو معطل کرکے مقدمہ درج کرلیا۔

ایس ایس پی ایسٹ غلام اظفر مہیسرکے مطابق بہادر آباد تفتیشی پولیس ٹیم نے ملزم دانیال کے گھر والوں سے مبینہ طور پر پیسے لیے جس کی تفتیش کی جارہی ہے،تفتیشی ٹیم ملزم دانیال کو لے کر اس کے گھر گئی اور گھر میں زبردستی داخل ہوئی جس کے باعث ملزم کے اہلخانہ میں خوف و ہراس پھیلایا۔

ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق تفتیشی ٹیم کے خلاف مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار کر لیا ،مقدمے میں ایس آئی او بہادر آباد انسپکٹر فاروق اعظم،سب انسپکٹر رحمت،کانسٹیبلز شاہ فیصل،محمد خان اور غلام رسول نامزد ہیں جبکہ پولیس اہلکار غلام رسول اور محمد خان فرار ہیں جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ ریحان قتل کیس کی تفتیش میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی ہرگز برادشت نہیں کی جائیگی جبکہ کیس کی تفتیش میرٹ پر ہوگی تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال رہے۔

انویسٹی گیشن ٹیم کے خلاف درج کیے جانے والے مقدمے کے حوالے سے ایس ایچ او فیروز آباد انسپکٹر اورنگزیب خٹک سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ مقدمہ ان کی مدعیت میں درج ہوا ہے تفتیشی ٹیم نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ملزم دانیال کے نہ صرف گھر میں گھسے بلکہ اہلخانہ سے مبینہ طور پر رشوت بھی طلب کی جس کی شکایت اہلخانہ کی جانب سے انھیں دی گئی تھی۔

ریحان قتل کیس: ملزمان کے جسمانی ریمانڈ پر 3 دن کی توسیع

عدالت نے ریحان قتل کیس میں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ پر 3 دن کی توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ایس ایچ او فیروز آباد اور ایس آئی او کو پیش ہونے کا حکم دیدیا، سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کے روبرو کمسن ریحان قتل کیس میں ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی سماعت ہوئی، ملزم شکیب، عمیر احمد خان سمیت دیگر ملزمان کی درخواست دائر کی گئی، عدالت نے سرکاری وکیل اور تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کردیے، عدالت نے آئندہ سماعت پر کیس کا پولیس ریکارڈ بھی  پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

مدعی کے وکیل ایڈووکیٹ عرفان عزیز نے ضمانت کی مخالفت کر دی، مدعی کے وکیل نے موقف دیا کہ ان ملزمان کیخلاف 302 کے دفعات شامل کیے جائیں، پولیس نے گرفتار ملزمان زبیر، دانیال، شارق، انس اور مسعود کو عدالت میں پیش کیا۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس کی تفتیش حیات اللہ درس کو دے دی گئی ہے، سابق تفتیشی افسر اور اس کی پوری ٹیم کو اعلیٰ افسران نے معطل کردیا ہے، عدالت نے پولیس کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ آپکو کیس کی تفتیشی کب دی گئی ہے، تفتیشی افسر نے بیان دیا کہ مجھے رات 12 بجے تفتیش دی گئی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو تفتیش 2 بج کر 10 منٹ پر دی گئی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ 2 گھنٹے اور 10 منٹ میں بہت کچھ ہو جاتا ہے یہ قتل کا کیس ہے،  پولیس غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، عدالت نے آئندہ سماعت ایس ایچ او فیروز آباد، ایس آئی او کو پیش ہونے کا حکم دیدیا، عدالت نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 3 دن کی توسیع کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔