ہانگ کانگ میں مظاہرے جاری

ایڈیٹوریل  پير 26 اگست 2019
ہانگ کانگ کا بحران دن بدن سنگین ہورہا ہے۔ مظاہروں کی شدت میں کمی نہیں آرہی بلکہ بڑھ رہی ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ہانگ کانگ کا بحران دن بدن سنگین ہورہا ہے۔ مظاہروں کی شدت میں کمی نہیں آرہی بلکہ بڑھ رہی ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ہانگ کانگ میں گزشتہ چند ہفتوں سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جب کہ ہانگ کانگ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کررہی ہے جب کہ مظاہرین کی طرف سے پولیس پر پٹرول بم اور اینٹیں پھینکے جانے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ ہانگ کانگ کے مظاہروں کو وجہ چین کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی تلخی آئی ہے ۔

چین نے برطانوی قونصل خانے کے کارکنوں کو رہا کردیا کیونکہ ان کی گرفتاری سے علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا۔یہ علاقہ چین کے کنٹرول میں تھا جہاں سے چلنے والی میٹرو ٹرین کی چار سرنگیں بھی تھیں جنھیں حکام نے بند کردیا ہے لیکن اس موقعے پر ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر آگئے تھے۔ انھوں نے تیز دھوپ سے بچنے کے لیے چھتریاں اٹھا رکھی تھیں۔ چین کی طرف سے ہانگ کانگ میں کشیدگی کا الزام امریکا پر عائد کیا جارہا ہے جسے اس سابق برطانوی جزیرے کے حالات خراب کرنے کی ذمے داری ڈالی جارہی ہے اور امریکا کو سازش کرنے کا مرتکب قرار دیا جارہا ہے۔

ہانگ کانگ پولیس نے مظاہرین کی طرف سے سنگ باری اور پٹرول بم پھینکنے کے جواب میں آنسو گیس استعمال کی۔ بعض مظاہرین نے بجلی کے وہ چھوٹے کھمبے بھی گرا دیے جن پر نگرانی کے کیمرے نصب تھے تاکہ ان کی فوٹیج نہ بنائی جاسکے۔

بعض مظاہرین نے سڑکوں پر بانس سے بنی ہوئی مچانیں کھڑی کرکے راستہ روکنے کی کوشش کی۔ دنیا کے اس خوشحال ترین چھوٹے سے جزیرے میں ڈیڑھ ہفتے سے جاری کشیدگی کی کیفیت میں یہ پہلی مرتبہ تھی جب پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا کیونکہ عمومی طور پر یہ احتجاجی مظاہرے پر امن رہے تھے۔ مظاہرین کی طرف سے دیواروں میں جو نعرے لکھے گئے ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ ’’یا تو ہمیں جمہوریت دو یا ہماری جان لے لو‘‘ مظاہرین چین کی طرف سے جاری کردہ وہ حکم نامہ بھی واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں جس کے تحت ہانگ کانگ کو دوبارہ چین کا حصہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین کی وجہ سے جزیرے کے تمام لوگوں کی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔

ہانگ کانگ کا بحران دن بدن سنگین ہورہا ہے۔ مظاہروں کی شدت میں کمی نہیں آرہی بلکہ بڑھ رہی ہے۔ عوامی جمہوریہ چینکی امریکا اور برطانیہ کے ساتھ اس مسلے کو لے کر کشیدگی میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ہانگ کانگ میں مغربی کلچر کی جڑیں خاصی گہری ہیں اور یہ جزیرہ طویل عرصہ تک برطانیہ کے زیر کنٹرول رہا ہے، اس لیے یہاں برطانیہ اور امریکا کا اثر ورسوخ بہت زیادہ ہے۔چین کی حکومت کو بھی صورتحال کی نزاکت کا احساس اور وہ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن تاحال یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکی۔

اگر یہ مظاہرے اسی طرح بڑھتے رہے تو پھر انتظامیہ کو سختی کرنا پڑ سکتی ہے اور شاید امریکا اور برطانیہ ایسا ہی چاہتے ہیں، اس لیے عوامی جمہوریہ چین سختی کا آپشن استعمال نہیں کررہا۔ہانگ کانگ کے بحران کی ایک وجہ یہ بھی ہے جو مظاہرین کہہ رہے ہیں یعنی ایک ملک دو نظام ‘اس کا خاتمہ ۔ہانگ کانگ کیونکہ مغربی تہذیب و تمدن کے زیادہ قریب ہے اور یہاں کے شہریوں نے برطانوی قوانین کے تحت زندگی گزاری ہے‘ اس لیے انھیں ڈبل سسٹم میں رہتے ہوئے عجیب سا محسوس ہو رہا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین اس بحران پر قابو پانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے لیکن امریکا اور برطانیہ اس بحران کو اپنے حوالے سے دیکھ رہے ہیں اور چین پر تنقید کر رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔